مغرب کی بالادستی: کیا خاتمہ قریب ہے؟
آج سے چند دہائیوں پہلے تک کیا کسی کے گمان میں تھا کہ دنیا پر مغرب کی صدیوں سے قائم فکری، سائنسی، سیاسی، معاشی اور عسکری بالا دستی یوں رو بہ زوال ہو گی کہ وہ غلام ملک جنہیں اس نے طویل نوآبادیاتی دور میں لوٹ کر کنگال کر دیا تھا وہ عالمی معیشت اور سیاست کے میدان میں اس کی حکمرانی کے خلاف صف آرا ہو جائیں گے۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ اس خیال کو خوش فہمی یا مغرب دشمنی سے تعبیر کریں لیکن درحقیقت، سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے ہی اس عمل کا آغاز ہو گیا تھا۔
سرد جنگ کے طویل دورانیے میں دنیا دو حصوں میں تقسیم تھی۔ اس وقت اسے دو قطبی (بائی پولر) دنیا کہا جاتا تھا۔ کہنے کو تو یہ سرد جنگ تھی لیکن امریکا اور سویت یونین نے عالمی بالا دستی کے لیے کرہ ارض پر ایک کہرام برپا کیے رکھا۔ اس دوران دنیا کے مختلف خطوں میں مسلح تنازعات، خانہ جنگیوں، خوفناک خونی انقلابات اور بغاوتوں کا دور دورہ رہا۔
سرد جنگ 35 سال جاری رہی اور 1989 میں اپنے منطقی انجام کو پہنچی جس کے ساتھ دو قطبی دنیا کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ سویت یونین کے انہدام کے بعد امریکا دنیا کی واحد سپر طاقت بن گیا۔ فتح کے نشے میں سرشار وہ یہ بھول گیا کہ ماضی کی دو قطبی دنیا یقیناً قصہ پارینہ ہوئی لیکن دنیا اب یک قطبی ( یونی پولر ) بھی نہیں رہ سکے گی کیونکہ سپر کمپیوٹر، تیز ترین انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت، روبوٹک اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا بے مثال انقلاب، دنیا کے مختلف حصوں میں معاشی اور سیاسی طاقت کے نئے مراکز پیدا کر دے گا جس کے بعد ترقی پذیر ملک، مغرب کی غیر مشروط تابعداری سے انکار کر دیں گے اور دنیا معاشی و سیاسی طاقت کے اعتبار سے کثیر قطبی (ملٹی پولر) ہو جائے گی۔
آج دنیا کا حیرت انگیز طور پر تبدیل معاشی منظر نامہ اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔ گلوبل ساؤتھ (عالمی جنوب) کے درجنوں ملک معاشی ترقی کے نئے مرکز بن چکے ہیں جن میں چین ہندوستان، برازیل، جنوبی افریقہ انڈونیشیا، فلپائن، ویت نام سمیت کئی ملک نمایاں ہیں۔ تیزی سے ترقی کرنے والے یہ ملک شدت سے محسوس کر رہے ہیں کہ وہ اپنی اقتصادی ترقی اور مغرب سے تجارتی مسابقت کی جس سطح پر پہنچ چکے ہیں اس کا ناگزیر تقاضا ہے کہ پائیدار ترقی کی راہ میں حائل آئی ایم ایف، عالمی بینک اور ڈبلیو ٹی او جیسے اداروں پر مشتمل اس عالمی مالیاتی نظام پر انحصار ختم کیا جائے جس پر امریکہ اور مغرب کی فیصلہ کن بالا دستی ہے۔
یہ ادارے اس عالمی مالیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں جس کے قیام کا مقصد بعد از نوآبادیاتی دور کی دنیا پر اپنا تسلط برقرار رکھنا تھا۔ اس نظام کی بنیاد دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد امریکہ کی زیر سرکردگی یورپ کے استعماری ملکوں نے 1944 میں بریٹن وڈ کانفرنس میں رکھی تھی۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کا اہم مرکز یورپ تھا۔ ان جنگوں کے نتیجے میں وہ یورپی ملک دیوالیہ ہو گئے جو ماضی میں امریکا کے شدید معاشی حریف تھے۔
اس صورت حال کا نتیجہ یہ نکلا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا، بلا شرکت غیرے دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی طاقت بن گیا اور پورا یورپ اس کے سامنے سر نگوں ہو گیا۔ دوسری عالمی جنگ سے قبل برطانوی پاؤنڈ کو عالمی ریزرو کرنسی کا درجہ حاصل تھا لیکن بریٹن و ڈ کانفرنس کے ذریعے تخلیق کردہ عالمی مالیاتی نظام میں پاؤنڈ کی جگہ امریکی ڈالر نے لے لی۔
اس عالمی مالیاتی نظام پر امریکا اور مغرب کی مضبوط گرفت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ عالمی بینک کے صدر اور آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائرکٹر کا تعلق ہمیشہ امریکہ اور یورپ سے ہوتا ہے اور ان دونوں اداروں کے فیصلوں کو ویٹو کرنے کا اختیار بھی صرف امریکہ کے پاس ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں سے مدد کا طلب گار کوئی ترقی پذیر ملک اگر مغرب بالخصوص امریکا کی جیو پولیٹیکل اور معاشی پالیسی سے اتفاق نہیں کرتا تو اس کے لیے ان اداروں سے کسی مالی معاونت کا حصول ناممکن ہوتا ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے چونکہ مغربی مفادات کو مقدم رکھتے ہیں لہٰذا وہ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے خلاف انتہائی غیر منصفانہ اور امتیازی رویہ اپناتے ہیں۔ وہ انہیں کافی سخت، من مانی اور غیر لچک دار شرائط پر قرض کے پیکج فراہم کرتے ہیں۔ ان اداروں کا مطالبہ ہوتا ہے کہ مالیاتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو حکومتی اخراجات میں کمی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے محدود کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ترقیاتی، سماجی و فلاحی بہبود کے منصوبوں میں کٹوتی، ذرتلافی کے خاتمے کے علاوہ ٹیکسوں، ڈیوٹیز اور محصولات میں غیر معمولی اضافے سمیت ملکی کرنسی کی قدر میں بھاری کمی نیز مالیاتی، زری پالیسی و بیرونی تجارت سے متعلق سخت شرائط عائد کی جاتی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ بجٹ سازی کے عمل اور مرکزی بینک کے امور میں بھی مداخلت کی جاتی ہے۔ یہ اور ان جیسے دیگر اقدامات کی بھاری قیمت متعلقہ ملک کے غریب، متوسط اور کمزور طبقات کو ادا کرنی پڑتی ہے۔
امریکا جیو پولیٹیکل اور معاشی مفاد کے لیے عالمی مالیاتی اداروں اور ڈالر کی بالادست طاقت کو اپنے تجارتی اور سیاسی حریفوں کے خلاف بڑی بے دردی سے استعمال کرتا ہے۔ وہ بلا دریغ، اپنے غیر پسندیدہ اور حریف ملک کے خلاف معاشی پابندیاں عائد کرتا ہے، اب تک پاکستان سمیت و نیا کے ایک تہائی ملک کسی نہ کسی وقت ان پابندیوں کی زد میں آ چکے ہیں۔ ڈالر اور اس کے ذریعے لین دین کرنے والے مالی ادارے امریکی کنٹرول میں ہیں لہٰذا وہ جب چاہتا ہے اپنے مخالف ملکوں کے ڈالر اکاؤنٹ منجمد کر دیتا ہے۔ اس وقت بھی روس، ایران اور افغانستان کے کئی سو ارب ڈالر بینکوں میں منجمد ہیں نیز روس، ایران، شمالی کوریا، کیوبا کے علاوہ کئی اور ملکوں پربھی مختلف معاشی پابندیاں عائد ہیں۔
ترقی پذیر ملک کے پاس تجارتی اور کاروباری لین دین کے لیے، امریکہ اور مغرب کے زیر کنٹرول مالیاتی اداروں سے رجوع کرنے کے سوا کوئی دوسرا انتخاب نہیں ہوتا کیونکہ دنیا میں اس کے علاوہ کوئی متبادل عالمی مالیاتی نظام موجود نہیں ہے۔
مذکورہ بالا عوامل کے باعث، 2006 میں، دنیا کی تیزی سے ابھرتی معیشتوں نے موجودہ عالمی مالیاتی نظام کے خلاف اپنی مزاحمت کا باقاعدہ آغاز کیا اور برازیل، روس، ہندوستان اور چین نے مل کر برک ( BRIC) نامی تنظیم کی بنیاد رکھ دی۔ 2009 میں اس کا افتتاحی سربراہی اجلاس روس میں منعقد ہوا، ایک سال بعد جنوبی افریقہ کی شمولیت کے بعد اس کو برکس ( BRICS) کہا جانے لگا۔ 2023 میں ایتھوپیا، متحدہ عرب امارات، مصر، ایران، ارجنٹائن اور سعودی عرب نے برکس میں رکنیت کی پیش کش قبول کر لی تاہم، 2024 کی برکس کی سولہویں سربراہی کانفرنس میں ایتھوپیا، متحدہ عرب امارات، مصر، ایران کے سربراہ شریک ہوئے، سعودی عرب نے وزیر خارجہ کی سطح پر شرکت کی جبکہ عام انتخابات میں امریکا نواز حکومت کے آنے کے بعد ارجنٹائن نے شمولیت کا فیصلہ تبدیل کر دیا۔ برکس میں مزید ملکوں کی رکنیت کے بعد اسے برکس + کا نام دے دیا گیا۔ اس تنظیم کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں شامل ملکوں میں دنیا کی % 45 آبادی رہتی ہے، عالمی جی ڈی پی (بلحاظ PPP) میں اس کا حصہ 37.7 فیصد جب کہ اس کے مقابلے میں G۔ 7 ملکوں کا مجموعی حصہ 30 فیصد ہے۔ عالمی تجارت میں برکس کا حصہ 23 فیصد سے زیادہ ہے۔
برکس+اس وقت ایک متبادل عالمی مالیاتی نظام کی تشکیل کے لیے انتہائی سرگرم ہے۔ اسے اندازہ ہے کہ فوری طور پر کوئی اور سنگل ریزرو کرنسی ڈالر کی جگہ نہیں لے سکتی کیونکہ موجود عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر کو ریزرو کرنسی کے طور پر کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ آج بھی عالمی سطح پر غیر ملکی کرنسی کا 89 فیصد لین دین ڈالر کے ذریعے ہوتا ہے۔ اس وقت دنیا میں موجود زرمبادلہ کے 58 فیصد ذخائر ڈالر جب کہ 20 فیصد یورو میں ہیں اور برآمد ات کی 54 فیصد انوائسنگ ڈالر میں کی جاتی ہے۔
برکس+ کی حکمت عملی یہ ہے کہ ڈالر پر مکمل انحصار ختم کرنے کے لیے رکن ممالک، باہمی تجارت ڈالر کی بجائے اپنی کرنسیوں میں کریں۔ اس پالیسی پر تیزی سے عمل شروع ہو چکا ہے۔
2010 میں چین کی 80 فی صد کراس بارڈر تجارت کا لین دین ڈالر میں ہوتا تھا جو 2023 میں کم ہو کر 50 فی صد رہ گیا۔ 2023 میں روس اور چین کے درمیان کل تجارت کا 90 فی صد لین دین مقامی کرنسی میں کیا گیا۔ ہندوستان اور روس، ایران اور روس، چین اور برازیل نے اپنی کرنسیوں میں دو طرفہ تجارت کے معاہدے کر لیے ہیں۔ ایران اور روس دونوں پر امریکی پابندیاں عائد ہیں، یہ دونوں ملک 60 فیصد دو طرفہ تجارت اپنی کرنسیوں میں کر رہے ہیں جس کا حجم 6 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔
برکس + کی جانب سے ڈالر کے زور پر یک طرفہ پابندیوں اور بلیک میلنگ سے بچنے کی خاطر رکن ممالک کے درمیان ادائیگیوں اور تجارتی لین دین کے لیے۔ برکس پے۔ نامی نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے دباؤ سے نکلنے کے لیے برکس ممالک نے ابتدائی طور پر 50 ارب ڈالر سے نیو ڈیولپمنٹ بینک قائم کیا ہے جس کا سرمایہ بڑھا کر اب 100 ارب کر دیا گیا ہے۔ یہ بینک رکن ممالک کو انفرا اسٹرکچر منصوبوں کے لیے شفاف اور آسان شرائط 33 ارب ڈالر کے قرض فراہم کرے گا۔ بینک کا ہدف ہے کہ 2026 تک % 30 سرمایہ مقامی کرنسیوں میں دیا جائے۔ اس طرح برکس+ نے ایک متبادل عالمی مالیاتی نظام کی بنیاد رکھ دی ہے۔
2025 کے ابتدائی مہینوں میں ویت نام، ملائشیا، انڈونیشیا، بیلاروس، بولیویا، کیوبا، یوگنڈا، ازبکستان، اور قازقستان، برکس+ کا حصہ جائیں گے جبکہ کئی درجن مزید ملک شمولیت کے لیے شدید بے تاب ہیں لہٰذا اب یہ امر یقینی ہے کہ اس تنظیم کے ذریعے دنیا کا طاقت ور ترین معاشی اور سیاسی بلاک وجود میں آنے والا ہے۔
ان حقائق کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ پانچ سو سال تک دنیا میں طاقت کا محور رہنے والا مغرب، 21 ویں صدی میں اپنی عالمی بالا دستی کھو دے گا۔ طاقت کا تیزی سے بدلتا توازن پتا دے رہا ہے کہ مستقبل قریب میں، مشرق دنیا کا معاشی اور سیاسی محور بننے والا ہے۔


