میری پہلی کتاب: ریاستیں کیسے چلائی جاتی ہیں؟


مجھے یہ بتاتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ میری کتاب ریاستیں کیسے چلائی جاتی ہیں؟ اب مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ اس کتاب کے آرڈر بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں نے بھی دے رکھے ہیں۔ کتاب، ریاستیں کیسے چلائی جاتی ہیں؟ ارنسٹ فریڈرک رو کی کتاب ”How States are Governed“ کا اردو ترجمہ ہے جو کہ 1950 میں شائع ہوئی۔ یہاں یہ سوال بنتا ہے کہ آخر ہمیں اس کتاب کے ترجمے کی ضرورت کیوں پیش آئی جو پچھلی صدی میں لکھی گئی اور جن حالات و واقعات کے تحت یہ کتاب تحریر کی گئی وہ بہ نسبت ہماری صورتحال کے قدرے مختلف ہیں۔

جمہوریت کو بطور نظام آج بھی کامل تسلیم نہیں کیا جاتا اور اس میں رد و بدل اور تبدیلی کی گنجائش ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ یونانی فلسفیوں جیسے پلاٹو سے لے کر اب تک ریاست کی نظامت کے حوالے سے ابحاث جاری ہیں جن میں ایک بہترین کاوش میں سمجھتا ہوں ارنسٹ فریڈرک رو کی ہے۔ 1950 کے یورپ میں ریاست کے کردار سے متعلق بحث بنیادی تھی کیونکہ اس دور میں ہر سو جدید ریاستوں کا قیام عمل میں آ رہا تھا۔ برطانیہ خود 1922 میں بطور ایک قومی ریاست کے ابھر کر سامنے آیا۔ چنانچہ، وہاں ریاست کے متعلق ابحاث اپنے آغاز میں تھیں۔ برطانیہ سماجی طور پر صدیوں سے موجود رہا ہے لیکن بطور ایک ریاست وہ بھی نوزائیدہ تھا، یہی وجہ ہے کہ ریاست کی بہترین نظامت کے حوالے سے یورپی معاشرے میں بھی جدوجہد جاری تھی۔ اس کا ذکر مصنف نے بھی اپنی تصنیف میں کیا ہے کہ برطانیہ میں جو آئین رائج ہے وہ ایک سیدھ میں یا دستاویزی صورت میں ان کے پاس موجود نہیں جس میں ہر ممکنہ صورتحال پر قانونی راہنمائی درج ہو کیونکہ برطانیہ کا آئین و قانون مختلف ادوار میں مختلف موقعوں پر تشکیل پایا ہے۔ اگر کسی مسئلے کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہ ہوتا تو قاضی کا فیصلہ ہی اس قانونی المیے پر مستقبل کا قانون بن جاتا۔ برطانیہ کا آئین مختلف حالات و واقعات کی مناسبت سے تشکیل پایا ہے۔

ریاست کے اپنے شہریوں سے متعلق قوانین ایک مختلف موضوع ہے کیونکہ لوگوں کے لئے بہترین قوانین تشکیل دینے کا خاص فائدہ نہیں اگر ان قوانین پر مناسب طور پر عمل در آمد ممکن بنانے کے لئے ریاست کی نظامت کا طریقہ کار متعین نہیں کہ ریاست کیسے عوام کی فلاح کی خاطر تشکیل کردہ قوانین کو کامیابی کے ساتھ عملی صورت عطا کرے۔ انسانیت جب اس نتیجے پر پہنچ چکی کہ جمہوریت ہی انسانیت کی فلاح کا واحد راستہ ہے تو اگلا قدم ریاست کا ایسا ڈھانچا تیار کرنا ہے جس کی بنیاد جمہوری اصولوں پر قائم ہو۔ کسی بھی معاشرے میں جمہوریت کی کامیابی کا دار و مدار ریاست کے اسٹرکچر پر ہوتا ہے کہ وہ کن اصولوں کے تحت کام کرتی ہے۔

اس ضمن میں پاکستان اپنی مثال آپ ہے، ہمارے ہاں کوئی واضح اسٹرکچر نہ ہونے کی بدولت ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ملک کس نے چلانا ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں کسی نے اس جانب توجہ ہی نہیں دی۔ پاکستان میں اول تو قانون سازی بے حد مشکل ہے جو کہ ایک لحاظ سے ریاست کے مربوط نظام کی دلیل بھی ہے جو کہ جمہوری اقدار کی جانب اشارہ کرتی ہے لیکن ہمارے حکمران شاید اس عنصر سے بھی لا علم ہیں کہ قانون سازی کا عمل اصولی طور پر سہل کیوں نہیں ہونا چاہیے؟ اور کیا یہ اصول پاکستان میں بذریعہ ریاست جمہوریت کی کامیابی کے لئے ضروری ہے؟ یا پھر ہماری ضرورت قانون سازی کی آسانی میں ہے اور کس طرح؟ ان موضوعات پر ہماری ریاست کے کرتا دھرتا گفت و شنید نہیں کرتے اور ہمارے ہاں قانون سازی خواہ ریاست کے کردار سے متعلق ہو یا معاشرے میں نظم قائم کرنے کے لئے، ان میں ہمیشہ ایک چیز ضرور مشترک ہوتی ہے جو کہ مفاد پرستی ہے۔ اس واسطے ہمارے ہاں اب تک کوئی واضح نظام تشکیل نہیں پایا اور ہماری ریاست اب تک ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس مقصد کی خاطر ہمیں ریاست سے متعلق ابحاث کا علم ہونا چاہیے کہ اس کا دائرہ کار کیا ہے؟ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور ریاست نے بطور فکر ارتقاء کی منازل کیسے طے کیں۔ اس کے بعد ہی ہم ریاست کے کردار کے متعلق آشناء ہو سکتے ہیں اور ریاست کی درست نظامت کا ادراک حاصل کر سکتے ہیں۔

ارنسٹ فریڈرک کی کتاب میں ریاست کی ضرورت کے حوالے سے بالواسطہ طور پر ذکر موجود ہے جس کی وضاحت کے لئے میں نے اپنی کتاب میں مضامین بھی شائع کیے ہیں۔ علاوہ ازیں، ریاست کے حوالے سے فلسفہ تاریخ کے بڑے ناموں کے مختلف نظریات ہیں۔ کانٹ کے بقول، یہ دنیا فطرت کے منصوبے کے مطابق عمل پیرا ہے، جس کے مطابق مختلف نظام تشکیل پاتے اور تحلیل ہو جاتے ہیں، جس کی بنا پر کوئی تہذیب پروان چڑھتی اور زوال پذیر ہوتی ہے۔ کانٹ کے مطابق ریاست کا قیام بھی فطرت کے اسی منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ جبکہ ہیگل کے مطابق ریاست فطرت کے منصوبے کی تکمیل ہے اور ریاست کے قیام کے بعد تاریخ کا چکر ختم ہو جاتا ہے کیونکہ تاریخ میں رونما ہونے والے واقعات کے پس منظر میں جو عوامل کارفرما ہوتے ہیں ان کی تکمیل ریاست انسانوں کے حقوق متعین کر کے کر چکی ہے۔ بلا شبہ ہمیں ریاست کی نظامت کا فہم حاصل کرنے کے لئے ریاست سے متعلق بے شمار پہلوؤں کا علم ہونا ضروری ہے۔ میں نے ارنسٹ فریڈرک کی کتاب کا ترجمہ اسی مقصد سے کیا تاکہ اس لٹریچر تک ہماری عوام کی رسائی ممکن ہو سکے جو ہمارے ہاں ریاست کے کردار اور اس کی تشکیل سے متعلق ابحاث کو جنم دے جس سے کہ ایک ابہام کی صورت دور ہو اور ہم معاشرتی طور پر یہ فیصلہ کر سکیں کہ ہماری ریاست کی سمت کیا ہونی چاہیے؟ اور اس سمت کا تعین کس کو کرنا چاہیے؟ ریاست کے بہترین انتظام کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے۔

کتاب کا ترجمہ کرنے کی ایک اور وجہ یہ تھی کہ ارنسٹ فریڈرک کی کتاب ریاست کے ڈھانچے کی تشکیل میں کارفرما ان بنیادی اصولوں کا ذکر کرتی ہے جن سے ہماری لا علمی کافی حد تک ہماری ریاستی نا اہلی اور بے نظمی کی وجہ ہے۔ ان اصولوں میں آمریت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ کیسے رومی شہنشاہیت کے دور میں جمہوری ادارہ رہا ہے اور ہم غاصبیت کے لئے غلط العام لفظ ”آمریت“ کا انتخاب کرتے ہیں اور اس میں وفاق کا محدود لیکن اہم کردار اور صوبائی خودمختاری پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ آخری باب میں تمام باتوں کا منفرد خلاصہ یہ کیا گیا کہ جن معاشروں کا مزاج آمرانہ ہے یا نوزائیدہ جمہوری معاشروں کا جمہوریت اختیار کرنا ایسا ہی ہے جیسے ایک چھوٹا بچہ اپنے باپ کی ٹوپی پہن کر بڑا دکھنے کی کوشش کرے۔ چنانچہ، جب تک بطور سماج ہماری اقدار، روایات اور مزاج جمہوری نہیں ہو گا، تب تک ہم بے ضابطہ ریاست میں رہتے ہوئے جمہوری ہونے کا صرف دکھاوا ہی کر سکتے ہیں۔ اس لئے اپنے چیلنجز اور ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاست کے انتظامی اسٹرکچر کی تشکیل ضروری ہے اور اس سے پہلے اس کے متعلق بنیادی اصولوں کا علم ہونا۔ امید ہے اس سلسلے میں میری یہ پہلی کاوش آپ سب کو پسند آئے گی۔

Facebook Comments HS