شام کی شام


دو روز سے شمال کی طرف مونہہ کر کے مطالعہ کرنا پڑ رہا تھا۔ آخر گھر والوں کو اس غیر معمولی نشست بارے پوچھنا پڑا کہ جناب مطالعہ کے وقت مونہہ با طرف شمال ہی کیوں؟ تو جناب میرا مسئلہ ہے کہ نقشہ یا میپ سمجھنے کے لئے مجھے شمال کی طرف منہ کرنا پڑتا ہے۔ ورنہ جغرافیہ میرے ذہن میں اپنی جگہ نہیں بنا سکتا۔ مطالعہ کا موضوع مشرق وسطیٰ اور بالخصوص شام میں ہونے والی انقلابی تبدیلی کے بارے میں تھا جسے اٹلس سامنے رکھ کر پڑھنا پڑتا۔ اٹلس کے ساتھ جغرافیائی حدوں کو دیکھتے ہوئے دو متعلق کتب سے استفادہ حاصل کرنا مقصود تھا۔

زیر مطالعہ Tim Marshall کی کتاب Prisoners of Geography کا مڈل ایسٹ پر مکمل باب اور اس کے ساتھ Henry Kissinger کی کتاب World Order کا مشرق وسطی پر تفصیلی باب تھا۔ مشرق وسطیٰ کی نسلی، جغرافیائی مذہبی اور مسلکی پیچیدگیوں کے ساتھ ساتھ ترکی، ایران اور روس کے مقابل امریکی، سعودی اور اسرائیلی پراکسی وارز نے خطے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ بہت سی تفاصیل سامنے آئیں، نقشے اور جغرافیائی بارڈرز دیکھے۔ کولڈ اور ہاٹ وارز کا ذکر پڑھا۔ برطانوی اور فرانسیسیوں کی جغرافیائی تقسیم کی لائنیں دیکھیں جنہوں نے خطے کو ایک ایسی بے تکی تقسیم میں ڈال دیا جہاں ساری فالٹ لائنز پورے مشرق وسطیٰ اور خصوصاً شام میں اکٹھی ہو گئی ہیں۔

بشار الاسد کے بھاگنے اور الجولانی کے قبضہ کرنے میں خطے کے پچھلے سارے سیٹ اَپ اب پھر سے اَپ سیٹ ہو گئے ہیں۔ ان اپ سیٹس کو سیٹ اَپ ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے اور یہ کیا یہ صرف شام کی جغرافیائی حدوں کے اندر رہتے ہیں یا پورے خطے میں، اس پر سر دست کچھ کہنا مشکل ہے۔ ایک بات مگر طے ہے کہ خطے میں اب سارے پلیئرز اپنی پوزیشنز بدلیں گے اور پورا خطہ ان دیکھے ایڈونچرز کا شکار ہو جائے گا۔ بشار الاسد جیسے ڈکٹیٹر کے بھاگنے پر خوش ہونے والوں کو یہ یاد رہنا چاہیے کہ بش کی جگہ باراک اوباما کی صدارت سنبھالنے پر مسلمانوں نے یوں خوشیاں منائی گئیں جیسے ایک کالم نگار کے بقول اوباما نے نہیں بلکہ طالبان نے امریکی صدارت سنبھال لی ہو۔ ایسے ہی حماس کے اسرائیل پر حملے کی جیسے خوشی منائی گئی اس کا انجام بھی سب کے سامنے ہے۔ اب الجولانی کا شام کیسا ہو گا اس بات پر کچھ کہنا مشکل ہو گا مگر حاصلِ مطالعہ کی بنا پر ایک بات طے ہے کہ شام کی شام مزید طویل ہوتی نظر آتی ہے اور صبح نو کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دیتے۔

 

Facebook Comments HS