اقبال: سبق ِ خاکبازی
شکایت ہے مجھے یا رب! خداوندانِ مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا
حکیم الامت، مصلح ِقوم، علامہ اقبال اس شعر میں اساتذہ کو سرزنش کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے اساتذہ شہباز کو گدھ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن کبھی ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ یہ گدھا بنانے والے اساتذہ خود بھی گدھ ہیں اور وہ گدھ کیسے بنے؟ ہمارے استادوں کے استاد، ہمارے رہنما، جو کسی بھی قوم کے رہبر ہوتے ہیں، قوم کے جذبات اور امنگوں کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ ان کے تشکیلی رویوں کے ذمہ دار بھی ہوتے ہیں۔ یہ اُس قوم کے دل عزیز رہنما ہیں، جس قوم کا دل عزیز نعرہ ہے،
”ہمیں منزل نہیں، رہنما چاہیے“
جو قیام پاکستان سے، آج تک لگایا جاتا ہے۔ ، تو لو جی! اب اس قوم کو رہنماؤں کی ایک لمبی قطار میسر ہے، جنہوں نے شخصیت پرستی کے جذبات سے خوب فائدہ اٹھایا ہے۔
یہ قوم روز اول سے شخصیت پرست تھی، شخصیت پرست ہے، شخصیت پرست رہے گی۔ صدیوں سے اس قوم میں بت پرستی عام تھی، تبدیلی مذہب کے بعد اس قوم نے بے جان بتوں کی پوجا تو چھوڑ دی ہے، لیکن جاندار بتوں (شخصیات ) کی پوجا آج بھی جاری و ساری ہے۔ تبدیلی مذہب نے ان کی بندگی پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔
صنم کدہ کے بے جان بتوں سے نکل کر جاندار بتوں کے صنم کدہ پر کافی خوش ہے یہ قوم
جب ہم اپنے عزیز رہنما ڈاکٹر علامہ اقبال کی خاک بازی کی تعلیم خاک ڈالتے ہوئے روشنی ڈالتے ہیں، تو یہ شکوہ ہمیں اقبال سے خود کرنا چاہیے۔
”شکایت ہے مجھے یا رب! لیڈران مملکت سے
سبق شاہین قوم کو دے رہے ہیں خاکبازی کا۔ ”
علامہ اقبال اعلی ٰتعلیم و حکمت کے لیے انگلستان اور پھر جرمنی گئے۔ عموماً تعلیم اور حکمت حاصل کرنے کے لیے جانے والوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ملک میں واپس آ کر باہر سے سیکھنے والی نئی مہارتوں، نئے علوم، نئے فلسفے اور نئی ایجادات کی معلومات سے دیسی لوگوں کو بہرہ مند فرمائیں اور یہ بات صرف اُس دور تک محدود نہیں، بلکہ آج بھی لوگوں کی توقعات ہوتی ہیں کہ ترقی یافتہ ملکوں سے آنے والے نوجوان جدید تحقیق، معاشرتی ترقی، بین الاقوامی معیار کی تعلیم، ثقافتی تبادلے اور ثقافتوں کے مابین ایک پل کا کام انجام دیں گے اور دیسی عوام کے سماجی اور معاشرتی شعور میں اضافہ کریں گے۔
مگر جب علامہ اقبال باہر ملک سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے کر اور وسیع تجربے اور مشاہدے کے بعد لوٹتے ہیں، تو جس طرح ولایت سے جوان آتے ہیں، اپنا بریف کیس کھولتے ہیں اور نت نئی مصنوعات، تحفے اور چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں
مگر جب علامہ نے اپنا صندوق ولایت سے آ کر دیس میں کھولا، تو یہ کیا؟
اس میں تو ساتویں صدی کے فکر و فلسفے کی بھرمار کے ساتھ نیشنلزم کے پرچار کا پلندا نکلا۔
جانے سے پہلے اقبال ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے، وطن واپس لوٹنے پہ اقبال کے نظریات اور تعلیمات بدل چکی تھیں۔ وہ کیا اسباب تھے؟ جن کے بنا پہ علامہ نے اپنے فلسفہ اور فکر کو بدل ڈالا؟
وہ تاریخ کے طالب علم بہت بہتر جانتے ہیں۔ اس لیے اگر قارئین مزید پڑھنا چاہتے ہیں تو قاضی اشفاق کی کتاب سر سید سے اقبال تک اور ان مضامین کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
Iqbal: ”The Metaphysics“ and ”The Reconstruction“ – Part I
Iqbal: ”The Metaphysics“ and ”The Reconstruction“ – Part II
Iqbal: poor philosophy, rich poetry
Iqbal: the husk and the kernel part 1
Iqbal: the husk and the kernel part 2
(All articles in the News writer Salma Khalid)
اقبال کی شاعری کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
اقبال کا پہلا اور ابتدائی دور 1905 تک کا ہے۔ اس دور میں اقبال مظاہر قدرت، فطرت اور وطنیت کا پیغام دیتے ہیں۔ بانگ درا اقبال کا پہلا شعری مجموعہ ہے، جس میں اقبال کی فطرت اور وطنیت دیکھی جا سکتی ہے۔
ان کا دوسرا دور، اگرچہ بہت مختصر تھا، لیکن 1905 سے 1908 میں اقبال یورپ میں تھے اور یہی وہ دور تھا جس میں اقبال نے جدید نظریات کو قبول کرنے بجائے ماضی میں جانے کو غنیمت جانا۔
ان کی شاعری کا تیسرا دور 1908 کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔ اس دور میں بھی اقبال نیشنلزم اور امت کا پرچار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، اور قوم کو ذہنی غلامی سے دور کرنے کے لیے ساتویں صدی کے خیالی مومن کا نظریہ پیش کرتے ہیں۔
علامہ جس دور میں یورپ گئے، اس وقت میں مختلف سیاسی، اقتصادی، اور سائنسی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں، جو اس دور کی ترقی کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جب یورپ میں جدیدیت، سائنسی انقلابات، اور فلسفیانہ تحریکوں کا نیا دور شروع ہو چکا تھا۔ انیس سو پانچ سے پہلے اور انیس سو تیس تک کا دور سائنسی تحقیق اور ایجادات کے لیے ایک اہم دور تھا، جس میں بے شمار دریافتیں اور جدید دنیا کی تشکیل میں مدد دینے والی اختراعات ہوئیں۔ جن میں علم طبعیات میں برقی جنریٹر اور برقی ٹرانسفارمر کے اصول دریافت ہوئے، کیمیا میں مادام کیوری ریڈیم، اور پولونیم کی دریافت ہوئی، میڈیسن کے شعبے میں چکن پاکس اور اسمال پاکس کی ویکسین ایجاد کی گئی، اور اس کے ساتھ ساتھ طب کی دنیا میں انقلابی تبدیلیاں، جان بچانے والی ادویات اور طبی ایکس رے کی تشخیص عمل میں آئی۔ 1859، بائیولوجی میں ڈارون تھیوری پیش کی جا چکی تھی، کئی ایجادات زوروں پہ تھی، بلب کی ایجاد مکمل طور پر عمل میں آ چکی تھی، ریلوے سسٹم کا انقلاب آ چکا تھا، رائٹ برادران نے ہوائی جہاز اڑانے کا کامیاب تجربہ کر لیا، علم فلکیات میں شمسی نظام میں یورینس کے دریافت کی جا چکی تھی۔
آئن سٹائن نے 1905 میں نظریہ اضافیت شائع کر دیا تھا، ریاضی میں سیٹ تھیوری کو جارج کاؤنٹر متعارف کروا چکے تھے، خلا تک پہنچنے کی تیاریاں مکمل ہو گئی تھیں۔
یورپ میں صنعتی انقلاب بھی اپنے عروج پر تھا۔ برطانیہ، جرمنی، اور فرانس جیسے ممالک میں صنعتوں کی ترقی جاری تھی۔
سیاسی طور پر یورپ میں سلطنتوں کا زوال اور قومی ریاستوں کا عروج کی شروعات تھیں۔ مختلف یورپی ملکوں میں جمہوریت کی طرف بڑھتے ہوئے رجحانات اور مختلف قوموں کی آزادی کی تحریکیں ابھر رہی تھیں۔
روس میں بھی 1905 کی انقلاب کے دوران عوامی بغاوتیں اور سیاسی کشمکشں رونما ہوئیں، جس کے نتیجے میں روسی حکومت نے سیاسی اصلاحات کی راہ ہموار کی اور یہ انقلاب 1917 کے انقلاب کی بنیاد بنا اور اس کے اثرات یورپ تک دیکھے گئے۔
نظریہ اشتراکیت اور سوشلسٹ تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں، اور مختلف فلاسفر اور مفکرین جیسے فریڈرک اینگلز اور کارل مارکس کے نظریات کا اثر یورپ سمیت پوری دنیا پر پھیل رہا تھا۔
یورپ کی طاقتور ریاستوں نے اپنی نو آبادیاتی حکمرانی کو مزید پھیلایا اور افریقہ، ایشیا اور دیگر علاقوں میں ان کی موجودگی مستحکم ہو چکی تھی۔ یورپ میں عالمی طاقتوں کے درمیان سیاسی تناؤ اور پراکسی جنگوں کا ماحول تھا۔
پہلی عالمی جنگ میں یورپ شدید طور پر متاثر اور تبدیلیوں سے گزر رہا تھا، جس کے نتیجے میں سلطنتوں کا زوال اور قومی سرحدوں کی دوبارہ تشکیل ہو رہی تھی۔ یہ جنگ بہت زیادہ جانی نقصان، اقتصادی مشکلات، اور سماجی ہلچل کا سبب بنی۔ معاہدہ ورسیلز نے جرمنی میں تنازعہ کے بیج بوئے، جب کہ جنگ کے بعد کے حالات نے قوم پرستی اور جابرانہ حکومتوں کے عروج کے سلسلے میں راہ ہموار کیں۔
جنگ عظیم اور اس کے خوفناک اثرات، نو آبادیاتی نظام کا پھیلاؤ، اشتراکیت کے اثرات، عالمی سیاسی کشمکش نے اقبال کو ایک طرح کی نا امیدی اور مایوسی کی طرف دھکیل دیا بچوں کے کھیل میں خون نکلتا دیکھ کر بے ہوش ہو جانے والے اقبال ایک طرح سے گزشتہ صدیوں کی خیالی دنیا میں پہنچ گئے جہاں سے ہندوستان کے کنورٹڈ لوگوں نے خود کا تعلق جوڑ رکھا تھا۔ اور وہ قوم کو ان حالات سے نمٹنے اور آنے والے حالات سے باخبر کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئے یا مایوس ہو گئے، اور انھیں نے آٹھویں اور نویں صدی کی خیالی دنیا میں لے جانا پسند کیا۔
مسلم نوجوانوں کو وقت سے مقابلہ کرنے اور بیسویں صدی کے چیلنجز سے مقابلہ کرنے کے بجائے مرد مومن کا خیالی تصور دے کر اُس قوم سے زیادتی کی، جس کا ماضی شان دار تھا، جو برصغیر میں سندھو تہذیب کی داعی تھی۔ یہ وہی سرزمین تھی جہاں کے جوانوں نے سکندر اعظم کے قدم بھی ڈگمگا دیے۔ اس قوم کی اپنی تاریخ اتنی مضبوط تھی کہ اسے اس کے اپنے اسلاف کے کارناموں سے جگایا جا سکتا تھا، نہ کہ نویں صدی کے عرب و ترک فاتحین کی کہانیاں سنا کر۔
درختوں کی جڑیں کاٹ کر اس سے پنپنے کی امید رکھنا بیوقوفی ہے، اور وہی ہندستان کے نوجوانوں کے ساتھ کیا گیا۔
ترک و عثمانیوں کے نام کا چورن زیادہ عرصے چل نہیں پایا، اور نتیجہ آخرکار ناکامی۔
بلکہ عرب دنیا میں دیکھیے، آج ایک زبان، ایک روایات اور ثقافت ہونے کے باوجود، کوئی فلسطین کے ساتھ نہیں۔ گویا عرب مسلمانوں میں قوم کا تصور صرف سرحد کی حدود تک محدود ہو گیا ہے۔
یہی وہ خاکبازی کی تعلیم تھی جو اقبال نے ہندوستانی مسلمانوں کو جگانے کے لیے دی، لیکن افسوس یہ خیالی فلسفے جو کسی اور سے مستعار لیے گئے تھے، ہندوستان کے نوجوانوں کا نہ جگا سکے۔ ہاں، البتہ ہندوستان دو لخت ضرور عمل ہو گیا۔
ہم اقبال سے شکوہ کناں ہیں کہ انگریزوں کو استادی میں لے کر آپ کیسے ہندوستانی نوجوان کو غلامی سے نکال سکتے ہیں؟
(سر ٹامس واکر آرنلڈ، سی آئی ای ( 19 اپریل 1864۔ 9 جون 1930 ) ایک برطانوی متشرق اور اسلامی فنون لطیفہ کا مؤرخ تھا، جس نے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں تعلیم دی۔ وہ سر سید احمد خان کا دوست تھا اور سر سید کے اصرار پر ہی اس نے اپنی مشہور کتاب ”اسلام کی تبلیغ“ لکھی۔ آرنلڈ نے شاعر اور فلسفی محمد اقبال اور سید سلیمان ندوی کو بھی پڑھایا اور وہ شبلی نعمانی کا بھی اس وقت سے گہرا دوست تھا جب نعمانی علی گڑھ میں پڑھایا کرتے تھے۔ ہندوستان میں مسلم قوم پرستی کی تحریک پر آرنلڈ کی تعلیمات کے گہرے نقوش دیکھے جا سکتے ہیں۔ علامہ اقبال ان سے شدید محبت کرتے تھے بحوالہ وکی پیڈیا )
اب سر سید، اقبال، جناح، شبلی، ندوی سب ہی انگریز سرکار اور مورخوں کے گود میں تھے، تو جس آزادی کا نعرہ لگایا جا رہا تھا، وہ کس سے لینا تھی؟
تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہو گا
تاریخ یہ ثابت کر چکی ہے کہ کون سی تہذیب کس نازک شاخ پر کھڑی ہے؟
قوم کی حقیقی تعریف کیا ہے؟
کس تہذیب نے خود کشی کی ہے؟
کس تہذیب اور کلچر میں رہنے کر آپ کا مرد مومن، قاری، غازی سب ویزہ کی قطار یا انتظار میں؟
وہ خود یورپ کے ڈگری رکھ کر، یورپ میں رہ کر، یورپ کے استادوں سے سیکھ کر کیسے اس تہذیب کو سراب قرار دے سکتے ہیں؟
کیا علامہ ایک دور اندیش آدمی تھے جنہیں صرف 50 سال بعد کی صورتحال نظر نہیں آئی ۔ انھوں نے اسے بتانے سے بہتر نوجوانوں کو خیالی دنیا کا چورن بیچنے کو بہتر سمجھا؟
تہذیبِ فرنگی ہے اگر مرگِ اُمومت
ہے حضرتِ انسان کے لیے اس کا ثمر موت
اب حضرت انسان کے ثمر پر بات کر لیں۔ کون ضعف الحالی کا شکار ہے؟
کس کی روایات کو خطرہ ہے؟
کون مشکلات کا شکار ہے؟
اب علامہ کے سارے اشعار ہمارا منہ چڑاتے ہیں اور خاکبازی کا مکمل نمونہ نظر آتے ہیں۔


