سال 2024 : انسانیت کے زوال کی داستان
سال 2024 تاریخ کے اُن اندوہناک سالوں میں شمار کیا جائے گا جب انسانیت نے ایک بار پھر اپنے زوال کی داستان رقم کی۔ یہ سال صرف مظلوموں کے خون سے نہیں بلکہ عالمی برادری، اسلامی دنیا، اور انصاف کے دعوے دار اداروں کی بے حسی سے بھی آلودہ رہا۔ چاہے وہ فلسطین کا مسئلہ ہو، شام کے بے گناہوں کی قربانی، یا پاکستان کے پاراچنار میں ہونے والا ظلم، ہر سانحہ ہمیں ایک تلخ حقیقت کا آئینہ دکھاتا ہے۔
فلسطین
فلسطین میں 2024 کے دوران اسرائیلی مظالم نے اپنی انتہا کو پہنچا دیا۔ غزہ پر بمباری اور مغربی کنارے میں جبری قبضے نے دنیا کے سامنے یہ سوال چھوڑا کہ انسانی حقوق کا تحفظ صرف طاقتوروں تک محدود ہے؟ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، ان حملوں میں ہزاروں بے گناہ افراد شہید ہوئے، جن میں بچے اور عورتیں شامل ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کے خلاف عالمی برادری کی خاموشی ایک کھلا تضاد رہی۔ مسلم ممالک کے متضاد رویّے اور آپسی خلش کتنے ہی مسلمانوں کے قتل کا سبب بنی جس کا گواہ 2024 کا سال ہے۔
شام میں اقتدار کی منتقلی
شام کے حالات 2024 میں مزید ابتر ہو گئے۔ ادلب اور دیگر علاقوں میں ہونے والے فضائی حملوں نے ہزاروں معصوم جانیں لے لیں۔ ان حملوں کے پیچھے طاقتور قوتوں کا کھیل جاری رہا، جبکہ مظلوموں کی چیخیں کسی کو سنائی نہ دیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ نے ان حملوں کو جنگی جرائم قرار دیا، لیکن عالمی برادری اس پر حرکت میں نہ آ سکی۔ لیکن سال ختم ہوتے ہوتے 8 دسمبر 2024 کو شام کی حکومت باغیوں کے ہاتھوں میں آئی جو بہت حد تک غیر حقیقی لگتی ہے۔
پاراچنار میں ظلم
پاکستان میں پاراچنار کے مظلوم شیعہ مسلمانوں پر ہونے والے حملے 2024 کے سب سے دل دہلا دینے والے واقعات میں شامل ہیں۔ ان حملوں میں درجنوں لوگ شہید ہوئے، اور زخمیوں کی تعداد سینکڑوں تک پہنچی۔ مظلوموں کی داد رسی کے بجائے ریاستی مشینری نے کراچی میں ہونے والے احتجاج کو کچلنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ یہ عمل صرف ظلم کو تقویت دینے کے مترادف تھا۔
قیادت کا زوال
2024 میں اسلامی دنیا کے کئی اہم رہنما شہید کر دیے گئے، جن میں لبنان کے آیت اللہ کمانڈر نصر اللہ اور حماس کی قیادت شامل ہیں۔ ان سانحات نے اسلامی دنیا کی تقسیم اور بے عملی کو مزید عیاں کیا۔ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی تقریر میں ان واقعات کو امت مسلمہ کی اجتماعی ناکامی قرار دیا، لیکن عملی اقدامات نظر نہیں آئے۔ حزب اللہ اور حماس کی اعلی قیادت کا قتل ہونا، پورے ملک کے نیٹ ورک ہیک ہوجانا، پیجر بم سے لبنانی ڈاکٹر اور اعلی عہدیداروں کی شہادتیں جس میں اسرائیل کی کامیابی ہوتی سازشیں واضح نظر آئیں، وہاں ہم مسلمان بے بس نظر آئے۔
عالمی برادری بنی شائقین کا ٹولا
عالمی میڈیا اور ادارے 2024 کے ان سانحات پر خاموش تماشائی بنے رہے۔ نیویارک ٹائمز، سی این این اور بی بی سی جیسے بڑے اداروں نے ان مسائل پر زیادہ توجہ نہ دی جبکہ الجزیرہ کے رپورٹر فلسطین میں شہادت پاتے رہے۔ مظلوموں کی آواز کو عالمی سطح پر پہنچانے میں ناکامی صرف مظالم کو بڑھاوا دینے کا باعث بنی جس سوشل میڈیا کے مالکان اور طاقتور ممالک کا اسرائیل سے گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آیا۔ LinkedIn، Reddit اور Bluesky جیسے چھوٹے پلیٹ فارم اور ٹیلیگرام کے ”قدس“ چینل سے فلسطین کے حق میں کسی حد تک آواز بلند ہوتی نظر تو آئی لیکن کارگر نا ہوئی، جبکہ ٹویٹر ایکس اور فیسبک اسرائیلی سازش کا شکار نظر آئے اور اب بھی وہی ہو رہا ہے۔
تاریخ کے آئینے میں 2024
اگر ہم تاریخ کے پچھلے 100 سالوں پر نظر ڈالیں تو 2024 کے حالات 1948، 1982، اور 1994 کے المیوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔ فلسطین کی تقسیم، روانڈا کی نسل کشی، سوڈان کے فسادات اور بوسنیا کے قتل عام نے بھی اسی طرح انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائیں۔ لیکن 2024 کی خصوصیت یہ رہی کہ یہ المیے ایک ہی سال میں یکجا ہوئے، اور دنیا نے ایک بار پھر اپنی بے بسی اور بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ ہمارے طاقتور مسلم ممالک سعودی عرب، ترکی، ایران، قطر سے لے کر برونائی تک ہر ایک کا موقف الگ ہے، ہم کسی نقطے پر یکجا نا ہوئے۔
حوالہ جات
.1 ”UN Report on Gaza Conflict 2024,“ United Nations, December 2024.
.2 ”Syria Under Fire: A Year of Devastation,“ Human Rights Watch, 2024.
.3 ”Iranian Leader ’s Speech on Martyrs,“ Tehran Times, December 2024.
.4 ”2024 Year in Review: Global Conflicts,“ The New York Times, December 31, 2024.
.5 ”Karachi Protests for Parachinar: A Cry for Justice,“ Dawn News, January 1, 2025.
اختتامیہ
2024 انسانی تاریخ کا ایک تاریک سال رہا۔ مظلوموں کے خون سے لکھی گئی یہ داستان نہ صرف عالمی طاقتوں کی بے عملی بلکہ عالم اسلام کی خاموشی کا بھی مظہر ہے۔ اگر دنیا نے ان واقعات سے سبق نہ سیکھا تو تاریخ خود کو دہراتی رہے گی، اور انسانیت زخم کھاتی رہے گی۔


