تعلیم کا المیہ، بلوچستان کے اسکولز کھنڈرات میں تبدیل
بلوچستان، پاکستان کا وہ صوبہ ہے جسے قدرت نے معدنی وسائل کی دولت سے مالامال کیا ہے، مگر بدقسمتی سے یہی خطہ تعلیم کے میدان میں انتہائی پسماندہ ہے۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ بلوچستان کے تعلیمی نظام کی اصل تصویر کیا ہے، تو میں کہوں گا کہ یہ تصویر اسکول کی ایک عمارت کے بغیر زمین پر بیٹھے بچوں کی ہے، جن کے سروں پر چھت بھی نہیں، اور جن کے مستقبل پر مایوسی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔
2013 ء میں بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا تھا، مگر حقائق بتاتے ہیں کہ یہ ایمرجنسی صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہی۔ اعداد و شمار یہ ہیں کہ بلوچستان کے 14,978 سرکاری اسکولز میں سے 1,958 عمارتوں سے محروم ہیں، اور جہاں عمارتیں ہیں، ان میں سے نصف سے زیادہ خستہ حال ہیں۔ مزید برآں، تقریباً 9,000 اسکولز میں واش رومز کی سہولت نہیں، 12,680 میں پانی دستیاب نہیں، اور 11,865 اسکولز بجلی کے بغیر ہیں۔ کیا آپ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ 21 ویں صدی میں، جب دنیا مصنوعی ذہانت اور خلائی تحقیق میں آگے بڑھ رہی ہے، بلوچستان کے بچے بنیادی سہولیات کے بغیر تعلیم حاصل کر رہے ہیں؟
صوبے میں 30 فیصد اساتذہ روزانہ غیر حاضر رہتے ہیں، اور حکومت کی جانب سے یہ مسئلہ حل کرنے کے اقدامات ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔ دوسری طرف، 27 لاکھ بچوں میں سے 18 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ حیرت کی بات نہیں کہ 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں میں اسکول نہ جانے کی شرح 62 فیصد ہے، اور لڑکیوں کی حالت تو مزید خراب ہے۔ دیہی علاقوں میں اکثر والدین لڑکیوں کی تعلیم کو فضول سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے صرف 4 فیصد لڑکیاں میٹرک تک پہنچ پاتی ہیں۔
بلوچستان کے تعلیمی مسائل کی جڑیں تین بڑے مسائل میں پائی جاتی ہیں : غربت، حکومتی نا اہلی، اور سماجی روایات۔
غربت کی بات کریں تو صوبے کے 86 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے میں والدین کے لیے بچوں کو اسکول بھیجنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ کسی طرح دو وقت کی روٹی کا انتظام کریں۔
حکومت کی نا اہلی بھی کسی سے چھپی نہیں۔ بجٹ مختص کیا جاتا ہے، مگر خرچ کہاں ہوتا ہے؟ نہ اسکول کی عمارتیں تعمیر ہوتی ہیں، نہ بنیادی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔ آخر یہ پیسہ جاتا کہاں ہے؟
سماجی روایات کی وجہ سے لڑکیوں کی تعلیم کو معیوب سمجھا جاتا ہے، اور یہ رجحان دیہی علاقوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔
اس سنگین صورتحال سے نکلنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے :
1۔ تعلیمی بجٹ میں اضافہ: تعلیم کے لیے مختص بجٹ کو نہ صرف بڑھایا جائے بلکہ اس کے شفاف استعمال کو بھی یقینی بنایا جائے۔
2۔ اساتذہ کی تربیت اور تعیناتی: اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مزید بھرتیاں کی جائیں اور ان کی پیشہ ورانہ تربیت پر زور دیا جائے۔
3۔ بنیادی سہولیات کی فراہمی:اسکولوں میں پانی، بجلی، اور واش رومز کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے۔
4۔ لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ: لڑکیوں کے لیے خصوصی اسکولز اور محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے تاکہ ان کے والدین انہیں اسکول بھیجنے پر آمادہ ہوں۔
5۔ عوامی شعور کی بیداری: تعلیم کی اہمیت پر عوام کو قائل کرنے کے لیے مہم چلائی جائے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔
بلوچستان کے تعلیمی مسائل صرف اس صوبے کا مسئلہ نہیں، یہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم نے اس نظام کو درست نہ کیا، تو نہ صرف بلوچستان، بلکہ پورا ملک ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔ تعلیم وہ چراغ ہے جو قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے، اور بلوچستان کے بچوں کو بھی یہ روشنی فراہم کرنا ہمارا قومی فرض ہے۔


