ڈگری، مچھلی اور حکیم لقمان


دو چار دن سے فیس بک پر مچھلی کھانے نہ کھانے، کون سی کھانے کون سی نہ کھانے کی بحث چل رہی ہے۔ لوگ باگ دلائل میں دور دور کی کوڑی لاتے ہیں۔ لیکن بھئی ہم تو اس معاملے میں نواب صاحب کے قول پر عمل کرتے ہیں۔ نہیں نہیں یہ نواب کوئی اودھ یا لکھنؤ کے نواب نہیں جو کھانے اور پینے، دونوں کے شوقین ہوا کرتے تھے۔ بلکہ ہماری مراد مشہور سیاسی رہنما نواب اسلم رئیسانی سے ہے۔ جن کا قول ہے کہ،

”ڈگری ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا جعلی۔“

اسی طرح ہمارے لیے مچھلی مچھلی ہوتی ہے، سمندری ہو دریائی ہو یا فارمی۔ بلکہ صرف مچھلی ہی کیوں مرغی بھی بس مرغی ہوتی ہے، دیسی ہو یا فارمی۔ اور جو لوگ بھینس کے گوشت کو مرغی کے گوشت پر ترجیح دیتے ہیں انہیں کیا لگتا ہے، کہ بھینسیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں۔ وہ بھی تو باڑوں میں پالی جاتی ہیں جنہیں انگریزی میں ڈیری فارم کہتے ہیں۔

دیکھیے بھئی یہ صرف کچھ لوگوں کے اپنی عقل مندی اونچی کرنے کے لیے بنائے گئے اقوال ہیں۔ کہ میٹھے پانی کی مچھلی زیادہ لذیذ ہوتی ہے اور نمکین پانی میں بد ذائقہ مچھلی پائی جاتی ہے۔ ایسے ہی کچھ لوگ شیخی بگھارتے ہیں کہ جی ہم تو صرف دیسی مرغی کھاتے ہیں۔ ارے بھئی فارمی مرغی کا گوشت کیا پلاسٹک کا ہوتا ہے؟ میڈیکل سائنس کے نزدیک مرغی دیسی ہو یا فارمی دونوں وٹامنز اور منرلز کے حصول کا ایک ذریعہ ہیں۔ اسی طرح انڈا فارمی ہو یا دیسی ایک سا ہی فائدہ دے گا۔ نا آپ یہ بتائیں کیا بھوری اور کالی بھینس کے گوشت میں فرق ہوتا ہے؟ نہیں نا۔ اسی لیے مرغی سفید ہو یا لال پیلی وہ گوشت ہی دے گی۔

اور ہاں جو لوگ دیسی مرغی کھا کر یہ محسوس کرتے ہیں کہ فارمی کی نسبت انہیں زیادہ انرجی ملی ہے تو وہ صرف ان کا وہم ہے۔ یہ ہمارے معاشرے میں برسوں سے چلی آ رہی ایک بات کا نفسیاتی اثر ہوتا ہے اور کچھ نہیں۔ نفسیات کے بارے میں بہت سے قصے آپ لوگوں نے بھی پڑھے ہوں گے۔ دنیا کے قدیم ترین حکیم لقمان کے بارے میں آپ نے سنا ہو گا کہ وہم کا علاج ان کے پاس بھی نہیں تھا۔ اور علاج اس لیے نہیں تھا ان کے پاس کیونکہ وہ نفسیات دان نہیں تھے۔

ہاں تو خیر کیا بات ہو رہی تھی۔ مچھلی کی۔ ایک منٹ یہ مچھلی سے ہم حکیم لقمان اور انسانی نفسیات پر کیسے پہنچ گئے۔ پس ثابت ہوا کہ گیلے پانی میں رہنے والی مچھلی کھانی چاہیے، ورنہ دماغ یونہی خشک ہو جاتا ہے۔ ویسے حکماء کے نزدیک مچھلی کا مزاج سرد خشک ہوتا ہے۔ اب پتا نہیں یہ کیسے ہوا حالانکہ وہ بے چاری ہر وقت تو پانی میں رہتی ہے۔ خیر پاکستانی تو ویسے بھی غذا کو برباد کرنے کے ماہر ہیں۔ کسی بھی چیز کو پکاتے ہوئے ایسی بُھنائی کرتے ہیں کہ وہ خود بخود معدے میں آگ لگا دیتی ہے۔

Facebook Comments HS