پارلیمانی تنخواہوں میں اضافہ: عوامی مشکلات کے درمیان ایک اہم سوال
ارکانِ اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا بل منظور کر لیا گیا ہے، جس کے مطابق ان کی تنخواہوں میں 500 سے 1000 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔ ارکانِ اسمبلی کی تنخواہ 70,000 روپے سے بڑھا کر 4,00,000 روپے کر دی گئی ہے۔ صوبائی وزراء کی تنخواہ 1,00,000 روپے سے بڑھا کر 9,60,000 روپے مقرر کی گئی ہے۔ اسپیکر اسمبلی کی تنخواہ 1,25,000 روپے سے بڑھا کر 9,50,000 روپے کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہ 1,25,000 روپے سے بڑھا کر 7,75,000 روپے مقرر کی گئی ہے۔
پارلیمانی سیکریٹریز کی تنخواہ 83,000 روپے سے بڑھا کر 4,51,000 روپے کر دی گئی ہے۔ بل کی منظوری کے بعد اسپیشل اسسٹنٹس اور مشیروں کی تنخواہیں 1,00,000 روپے سے بڑھا کر 6,50,000 روپے مقرر کی گئی ہیں۔ یہ تمام تنخواہیں اور مراعات، جیسے ٹی اے ڈی اے، مفت طبی سہولیات، مفت رہائش، اور دیگر مراعات، ان اضافوں کے علاوہ ہیں۔
عوام کے لئے جو بیسک تنخواہ مقرر ہے عوام کو وہ بھی نہیں مل رہی ابھی بھی لوگ اٹھارہ ہزار، بیس ہزار اور پچیس ہزار پہ کام کر رہے ہیں بیسک تنخواہ کے قانون کو سختی سے لاگو کرنے کے لئے ان لوگوں نے کوئی انتظامات نہیں کیے اور مہنگائی کے جو حالات ہیں ان میں ایک آدمی کا ستر ہزار سے کم میں گزارہ ہی نہیں ہو سکتا عوام کا مطالبہ یہ ہے کہ ملک کی بہتری کے لئے اور عوام کی بہتری کے لئے کام کیا جائے غریب آدمی کا پہلے ہی گزارہ نہیں ہو رہا اور عوام کی بہتری کے لئے تو کوئی انتظامات کیے نہیں گئے جو عوام کی حالت کو بہتر کرنے میں مدد دے سکیں۔
عوام کا مطالبہ یہ ہے کہ ملک کے وسائل کو قانون سازوں اور امراء کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے اور ان کو مراعات دینے کی بجائے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کیا جائے


