پاکستان میں جسم فروشی۔ ایک تلخ حقیقت
پاکستان میں جسم فروشی ایک ایسا موضوع ہے جو معاشرتی، قانونی اور اخلاقی پہلوؤں سے جڑا ہوا ہے۔ یہ عمل ملک میں غیر قانونی ہے، تاہم اس کی موجودگی ایک کھلا راز ہے۔ جسم فروشی کا کاروبار خفیہ طور پر جاری رہتا ہے، جس میں خواتین، مرد اور خواجہ سرا شامل ہیں۔
لاہور کی ہیرا منڈی، جو کبھی رقص اور موسیقی کی محفلوں کا مرکز تھی، وقت کے ساتھ جسم فروشی کا گڑھ بن گئی۔ مغل دور میں آباد کی گئی یہ بستی برطانوی راج اور بعد ازاں پاکستانی معاشرے میں تبدیلیوں کے باعث اپنی اصل شناخت کھو بیٹھی۔ آج یہ علاقہ جسم فروشی کے حوالے سے مشہور ہے، جہاں غربت اور مایوسی نے کئی خواتین کو اس پیشے کی طرف دھکیل دیا ہے۔
پاکستان میں جسم فروشی غیر قانونی ہے اور اس پر پابندی عائد ہے۔ غیر شادی شدہ جنسی تعلقات کو غیر اخلاقی سرگرمی قرار دیا جاتا ہے، جس کے باعث جسم فروش افراد خفیہ طور پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ملک کے کچھ علاقوں، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، اس عمل پر سخت پابندیاں ہیں اور روایتی طور پر سزائے موت تک دی جاتی ہے۔
دنیا بھر میں جسم فروشی ایک منافع بخش صنعت سمجھی جاتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، عالمی سطح پر اس کاروبار سے سالانہ 186 ارب ڈالر کمائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ کاروبار خفیہ طور پر جاری ہے، جہاں غربت، بے روزگاری اور معاشرتی دباؤ افراد کو اس پیشے کی طرف مائل کرتے ہیں۔
پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں خواتین اور بچوں کو زبردستی جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایف آئی اے کے حکام کے مطابق، پاکستان سے اسمگل کی جانے والی لڑکیوں کو زبردستی شادی، جنسی استحصال اور گھریلو کاموں کے لیے غلام بنائے جانے سمیت دیگر مقاصد کے لیے اسمگل کیا جاتا ہے۔
جسم فروشی سے وابستہ افراد کو صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں ایچ آئی وی/ایڈز اور دیگر جنسی امراض شامل ہیں۔ کراچی میں اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے کے تعاون سے منعقدہ ایک ورکشاپ میں خواتین سیکس ورکرز کو محفوظ جنسی طریقوں سے آگاہی دی گئی۔ اس ورکشاپ میں شرکت کرنے والی خواتین کا کہنا تھا کہ انہیں اس ورکشاپ سے پہلے ان طریقوں سے اتنی زیادہ آگاہی نہیں تھی اور یہ ان کے لیے بہت مفید ثابت ہوا۔
پاکستان میں خواجہ سرا کمیونٹی کو بھی جسم فروشی کی طرف دھکیلا جاتا ہے، جہاں انہیں معاشرتی تنہائی، غربت اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ موسمیاتی تباہیوں اور معاشرتی دباؤ نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے، جس کے باعث وہ اس پیشے کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
پاکستانی معاشرہ عمومی طور پر جسم فروشی کو معیوب سمجھتا ہے، تاہم اس مسئلے کے حل کے لیے معاشرتی رویوں میں تبدیلی اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے واقعات اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین کا نفاذ اہم ہے، تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔
پاکستان میں جسم فروشی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، جو معاشرتی، قانونی اور معاشی پہلوؤں سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے حل کے لیے معاشرتی رویوں میں تبدیلی، قوانین کا موثر نفاذ اور عوامی آگاہی کی ضرورت ہے، تاکہ اس پیشے سے وابستہ افراد کی زندگیوں میں بہتری لائی جا سکے اور معاشرے کو اس ناسور سے پاک کیا جا سکے۔


