پنجاب کے شہر گجرات کے نام کا ماخذ: تاریخی حقائق


بچن پال نے 460 قبل مسیح میں گجرات کی بنیاد رکھی اور اس کا نام ’اُدھ نگری‘ رکھا، جس کا مطلب ہے میٹھی خوشبو والا شہر۔ تاریخی حوالہ جات کے مطابق یونان کے سکندر اعظم نے 326 قبل مسیح میں جہلم کے شاہ پورس کے خلاف اپنی مشہور جنگ میں پورا علاقہ تباہ کر دیا تھا۔ تاریخ میں یہ شواہد ملتے ہیں کہ راجہ کلاچند عرف چندر گپت نے تباہ شدہ گجرات کو آباد کرنے کی بجائے کلاچور نامی شہر تعمیر کروایا جو پانچ یا چھ بستیوں پر مشتمل تھا جو آج بھی گجرات کے مشرقی قصبہ جلالپور جٹاں میں موجود ہے۔ بعد میں یہ سیالکوٹ کے بادشاہ بھدر سین کی حکومت کا حصہ بن گیا اور 118 عیسوی میں اس کی بیوہ گورجن نے اس کا نام ’گورجن نگری‘ رکھ دیا لیکن آنے والے وقت میں اس کو ’گورا نگر‘ کے نام سے پکارا جانے لگا جو محمود غزنوی سمیت بہت سے حملہ آوروں کی غارت گری کا ہدف بنتا رہا۔ یہ شہر 1013 ء میں محمود غزنوی کی افواج کے انڈیا سے اخراج کے دوران تباہ ہوا تھا۔

مسلسل تباہی کی وجہ سے اس کی آبادی آہستہ آہستہ ختم ہو گئی ’سرکنڈوں اور گھاس کی بھرمار نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جلد ہی یہ جرائم پیشہ افراد کی پناہ گاہ بن گئی جو یہاں سے گزرنے والے مسافروں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ایک وقت یہ بھی آیا جب مسافر گجرات سے گزرنے سے اجتناب کرتے تھے۔ اس وقت تک گجرات کے گردونواح میں چودہ ہزار بیگھہ زمین پر سرسبز اور گھنا جنگل ہوا کرتا تھا جس پر قبضہ کرنے کے لئے گجرات کی دو برادریاں گجر اور جاٹ ہمیشہ کوشاں رہتی تھیں۔

اس کی جغرافیائی حیثیت نے 1588 ء میں مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کو مجبور کیا کہ وہ اسے اپنے فوجی دستہ کی تعیناتی کے لیے ایک چھاؤنی (تھانہ) میں تبدیل کردے کیونکہ گجرات کابل اور دہلی کے درمیان شاہی فرماں روائی قائم کرنے کے لئے ایک بہترین علامت بن سکتا تھا۔ اس کی دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ اس سے دریائے چناب پر نگرانی کا موثر نظام قائم ہو سکتا تھا۔

اکبر گجروں اور جاٹوں کے مابین دشمنی سے واقف تھا ’اس نے انہیں قلعہ کے قیام کے لئے ایک لاکھ پچیس ہزار اکبری روپیہ کی شراکت کے لئے اس شرط کے ساتھ مدعو کیا کہ جو قبیلہ زیادہ حصہ ڈالے گا اس کے پاس قلعے کا کنٹرول ہو گا۔ اس علاقے کے مالک جاٹوں نے اکبر کی مالی تعاون کی اس تجویز پر اعتراض کیا۔ شہنشاہ نے گجروں سے پوچھا تو گجروں کے لئے جاٹ کے علاقے میں ایک قلعہ کی تعمیر کرنا کسی سنہری موقع سے کم نہ تھا۔ گجرات میں برطانوی سیٹلمنٹ افسر ہیکٹر میکنزی پہلا یورپی تھا جس نے 1861 ء کی بندوبست اراضی کی رپورٹ مرتب کرتے ہوئے تمام تاریخی تفصیلات قلمبند کیں۔ ان کے ایک تفصیلی مضمون جو 1865 ء میں ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال کے جرنل میں شائع ہوا تھا‘ سے حقیقی تاریخی احوال سامنے آتے ہیں۔ تاہم میکنزی کے پیشروؤں نے ان کے مکمل ریکارڈ کے صرف آدھے سچ کا حوالہ دیا جس سے تاریخ میں غلط بات جڑ پکڑتی گئی۔

میکنزی لکھتے ہیں کہ ڈنگہ کے قریب گاؤں وڑائچانوالہ کے جاٹ فتح محمد نے نقد رقم پیش کی لیکن حقیقت میں گاؤں ڈنگہ سے تعلق رکھنے والے آدم نامی گجر اس میں سبقت لے گئے۔ ناخواندہ ہونے کی وجہ سے آدم نے نقد کو ’ٹوپہ‘ میں ماپا اور اس کی ادائیگی اکبر کی شرط سے تجاوز کر گئی۔ ٹوپہ ہندوستان میں پیمائش کے لیے ایک قدیم اکائی تھی۔ اس طرح گجر جیت گئے ’قلعہ تعمیر کیا گیا اور اس کا نام‘ گجرات اکبر آباد ’رکھا گیا۔ آدم کے خاندان کو بعد میں‘ ٹوپہ ’کے نام سے پہچان ملی اور یہ نام ان کے علاقوں کے ساتھ استعمال ہونے لگا‘ مثال کے طور پر ٹوپہ آدم اور ٹوپہ عثمان اس وقت کافی مشہور تھے۔

اس صورتحال سے مایوس جاٹوں نے نئے قلعے کا نام تبدیل کرنے کی درخواست کے ساتھ اپنا ایک وفد اکبر سے ملنے کے لئے دہلی روانہ کیا۔ شہنشاہ اکبر نے ان کی درخواست تو مسترد کردی لیکن انھیں ایک پیش کش کی کہ وہ اْس خطے میں کسی بھی علاقے کو آباد کر سکتے ہیں اور اپنی صوابدید پر اس کا نام رکھ سکتے ہیں۔ اس طرح جاٹوں نے اپنا علاقہ ’ہیرات‘ کے نام سے قائم کیا جو ایران کے ایک صوبے کا نام تھا اور جس سے متعلق جاٹوں کا اعتقاد تھا کہ ان کے اجداد کا تعلق ایران کے اس صوبے سے تھا۔ اس طرح دوآب کا بالائی حصہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا: جاٹوں کے لئے ہیرات اور گجروں کے لئے گجرات اکبر آباد۔

میکنزی اپنی تحقیق کے آخر میں لکھتے ہیں کہ ”اراضی سے متعلق تقریباً تمام پرانی دستاویزات میں اس معلومات کا ریکارڈ ملتا ہے“ ۔

لیکن بعد میں آنے والے تمام مصنفین نے جاٹ کے وفد کی دہلی روانگی اور ہیرات کے قیام کے متعلق تمام حقائق کو نظرانداز کیا۔ مکمل حقائق واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ لفظ گجرات ’گجر اور جاٹ کے الفاظ کا مجموعہ قطعی نہیں ہے۔ دوسری دلیل گنیش داس بڈیرا کی معروف کتاب‘ چار باغ پنجاب ’ہے۔ گنیش داس جو گجرات میں قانونگو تھے، کے اجداد نے اکبر بادشاہ کے حکم سے سیالکوٹ سے آ کر گجرات کے قلعے کی تعمیر کی تھی اگر لفظ گجرات‘ گجر اور جاٹ ’کا ماخذ ہوتا تو گنیش داس اس کا حوالہ‘ چار باغِ پنجاب ’میں ضرور دیتے۔

اس نام کے پیچھے راز کو واضح طور پر آشکار شہنشاہ جہانگیر اپنی کتاب ”تُزکِ جہانگیری“ میں کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ اکبر نے کشمیر کی طرف جاتے ہوئے دریا کی دوسری جانب اس قلعہ کی تعمیر کا حکم دیا اور گُجر جو راہزنی کی وارداتوں میں ملوث ہوتے تھے کو اس قلعہ میں شہر کو آباد کرنے کے لیے بھیجا اور جب شہر ان کی آبادی سے آباد ہو گیا تو اسے ’گجرات‘ کا نام دیا گیا۔

یہاں پر ایک اور تاریخی حوالے کا ذکر کرنا اہم ہو گا۔ گُجروں نے چھٹی سے بارہویں صدی عیسوی کے دوران انڈیا میں جنوبی راجستھان اور شمالی گجرات میں اپنی بادشاہت قائم کی تھی۔ اس سلطنت کا نام ’گُرجَرادیسا۔ ‘ تھا اور یہ پنجاب پر حکمرانی کرتی تھی۔ مشہور چینی سیاح ہان سانگ نے 631 سے 645 عیسوی کے درمیان اس سلطنت کا دورہ کیا اور اپنے سفرنامے میں اس کا ذکر کیا۔ نویں صدی عیسوی میں پنجاب کو گُجر چیف الاخانا یا علی خان کے زیر اقتدار کر دیا گیا تھا۔ تاہم 888 سے 901 عیسوی کے درمیان انہوں نے گجرات کا علاقہ کشمیر کے راجہ شنکر ورمن کے ہاتھوں کھو دیا۔

لفظ ”گجرات“ کا ماخذ ”گُرجر“ سے ہے، جو وہ نسلی گروہ ہے جو ہندوستان اور پاکستان کے موجودہ علاقوں میں آباد تھا۔ ان علاقوں میں موجود بہت سی بستیاں آج بھی ”گُجر“ کے لاحقے کے ساتھ معروف ہیں، جیسے گجرات، گوجرانوالہ، اور گوجر خان وغیرہ۔ لہٰذا یہ محض ایک مفروضہ ہے کہ لفظ گجرات، گجر اور جاٹ کے الفاظ کا مجموعہ ہے۔

Facebook Comments HS