تعلیمی معیار کا زوال: ایک علمی و فکری جائزہ


کیا ہمارا تعلیمی نظام تخلیقی طلبا پیدا کر رہا ہے یا صرف ڈگری یافتہ افراد؟ اس سوال کے گرد چند دن قبل، ایک محفل میں کچھ دوست گفتگو کر رہے تھے۔ ہمارے ایک دوست نے یہ نقطہ پیش کیا کہ تعلیمی زوال کی اصل جڑیں نویں سے بارہویں جماعتوں کے درمیان ہوتی ہیں، جب طلباء نقل کے رجحان اور پیسوں کے عوض نمبر حاصل کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ اول تا آٹھویں جماعتوں میں تعلیم کسی حد تک بہتر ہے اور یونیورسٹی کی سطح پر بھی تعلیم ٹھیک ہے، لیکن جب طلباء ہی پست معیار کے آئیں گے تو یونیورسٹی والے بھی کم معیار پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان دوست کا یہ بھی خیال تھا کہ ہماری تعلیم طلباء کو پیسے کمانے کے گر نہیں سکھاتی، اس لئے وہ کامیاب نہیں ہیں۔ اس دوست نے ایک مثال دی کہ ایک مرتبہ بل گیٹس نے کہا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی کسی غریب سے نہیں کرائیں گے اور ان کی نظر میں غریب آدمی وہ نہیں ہوتا جس کے پاس پیسے نہ ہوں، بلکہ غریب آدمی وہ ہوتا ہے جسے پیسے کمانا نہ آتے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ بل گیٹس نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی کسی غریب آدمی سے نہیں کرائیں گے۔ یہ بیان ان سے منسوب کیا گیا ہے، یہ ایک غلط فہمی ہے جو سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی ہے۔ ( Jan 24، 2022 | Fact Checked by PressOnePH)

پاکستانی معاشرت میں نقل کو سماجی قبولیت حاصل ہے، جو تعلیمی زوال کی بڑی وجہ ہے۔ یونیسکو کے مطابق، تعلیمی مسائل کو حل کرنے کے لیے سماجی رویوں میں تبدیلی اور ثقافتی پہلوؤں کو اجاگر کرنا ضروری ہے تاکہ مسائل کی جڑ تک پہنچا جا سکے۔ نقل کے ذریعے حاصل کردہ نمبر طلباء کی حقیقی قابلیت کی عکاسی نہیں کرتے۔ تعلیمی محققین کے مطابق، نقل کا رجحان نہ صرف طلباء کی تعلیمی ترقی کو متاثر کرتا ہے بلکہ ان کی اخلاقی تربیت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ یونیسکو گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ 2021 کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 40 فیصد طلباء امتحانات میں نقل کے رجحان کو تسلیم کرتے ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی ایک اور تحقیق کے مطابق، بلوچستان میں تعلیمی انفراسٹرکچر کی کمی نقل کے رجحان کو بڑھاوا دیتی ہے۔ نقل کے رجحان کو کم کرنے کے لیے ڈیجیٹل امتحانی نظام نافذ کیا جا سکتا ہے، اور تخلیقی تعلیم کے فروغ کے لیے اساتذہ کی تربیت کے ماڈیولز تجویز کیے جا سکتے ہیں۔

ایک اور دوست کا موقف تھا کہ تکنیکی تعلیم کا نہ ہونا اصل زوال کی وجہ ہے۔ ہال مارک فاؤنڈیشن کی ایک تحقیق کے مطابق، تکنیکی تعلیم کی کمی کی وجہ سے طلباء کو عملی زندگی کے لئے تیار نہیں کیا جاتا، جس سے ان کے معاشی حالات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اقتصادی کامیابی کئی عوامل پر منحصر ہے، جیسے سماجی سرمائے، لڑکیوں سمیت سب کے لئے یکساں تعلیمی مواقع، اور حکومتی پالیسیاں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں تعلیم اور معیشت کے درمیان تعلق کو بہتر بنانے کے لیے مہارت پر مبنی نصاب ضروری ہے۔ جبکہ یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں 22 فیصد لڑکیاں اسکول جانے سے محروم رہتی ہیں۔

میرا اس ساری صورتحال پر کہنا تھا کہ اصل میں ہم نے اپنے تعلیمی نظام سے تخلیقیت اور جمالیات کو شامل کرنا چھوڑ دیا ہے، جس کی وجہ سے طلباء کو نئی سوچ اور نئے طریقے سے اپنی زندگی کو شکل دینا نہیں آتا۔ ماہر نفسیات ہاورڈ گارڈنر کے مطابق، تخلیقی تعلیم کا فقدان طلباء کی ذہنی نشوونما کو محدود کرتا ہے۔ جبکہ پروفیسر ہودبھائی کے مطابق، پاکستان میں تعلیمی زوال کی بنیادی وجہ ناقص نصاب، غیر معیاری اساتذہ اور غیر معیاری تدریسی طریقے ہیں۔ تعلیمی نظام میں تخلیقی اور جمالیاتی تعلیم کو شامل کرنا چاہیے تاکہ طلباء کو نئی سوچ اور مسائل کے حل کے نئے طریقے سکھائے جا سکیں۔ فلسفی جان ڈیوی کے مطابق، تعلیمی نظام کا بنیادی مقصد طلباء میں تنقیدی سوچ اور مسائل کے حل کی صلاحیت پیدا کرنا ہونا چاہیے۔

پڑھے لکھے یا تعلیم یافتہ ہونے کا معیار وقت، حالات، اور معاشرتی اقدار کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے۔ تاہم، عمومی طور پر تعلیم یافتہ ہونے کا مطلب صرف کسی تعلیمی ادارے سے ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ اس میں فرد کی ذہنی، سماجی، اور اخلاقی نشوونما بھی شامل ہے۔ درج ذیل پہلو اس سوال کا جواب دینے میں مددگار ہو سکتے ہیں :

علمی مہارت: پڑھے لکھے ہونے کا ایک بنیادی معیار وہ علمی مہارت ہے جو ایک فرد نے حاصل کی ہو۔ اس میں پڑھنے، لکھنے، اور حساب کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔ یونیسکو کے مطابق، شرح خواندگی کسی فرد کی لکھنے، پڑھنے، اور سادہ حساب کتاب کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے جو روزمرہ کے مسائل کو حل کرنے میں مددگار ہو۔ تعلیم کا بنیادی مقصد انفرادی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے تنقیدی سوچ کی تربیت ہے۔

اخلاقیات: تعلیم یافتہ ہونے کا مطلب صرف علم حاصل کرنا نہیں بلکہ اخلاقیات اور اقدار کا ادراک بھی شامل ہے۔ یہ ایک فرد کو معاشرتی ہم آہنگی اور انصاف کے فروغ میں مدد دیتی ہے۔ ایمیل ڈرکھائم نے بیان کیا کہ تعلیم کا مقصد اخلاقیات کی ترویج اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔

سماجی ذمہ داری: پڑھے لکھے فرد کو اپنی سماجی ذمہ داریوں کا شعور ہوتا ہے۔ ماہر تعلیم پاؤلو فرائر نے اپنی کتاب ”Pedagogy of the Oppressed“ میں تعلیم کو سماجی انصاف اور شعور کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

تخلیقی صلاحیت اور جدت پسندی: تعلیم کا معیار یہ بھی ہے کہ آیا فرد معاشرتی یا سائنسی مسائل کے لیے تخلیقی حل پیش کر سکتا ہے۔ ہاورڈ گارڈنر کی ”نظریہ مختلف ذہانتیں“ کے مطابق، تعلیم کا مقصد مختلف ذہانتوں کو فروغ دینا ہے، جن میں تخلیقی صلاحیت بھی شامل ہے۔ نصاب میں تخلیقی تعلیم شامل کرنے کے لیے ماڈیولز بنائے جائیں جو ہاورڈ گارڈنر کی ”نظریۂ مختلف ذہانتیں“ پر مبنی ہوں۔ ان ماڈیولز میں پروجیکٹ بیسڈ لرننگ اور ٹیم ورک کو شامل کریں تاکہ طلباء میں تخلیقی اور جدت پسندانہ سوچ پیدا ہو۔

فن لینڈ کا تعلیمی نظام دنیا بھر میں تخلیقی تعلیم کے ایک مثالی نمونے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہاں تعلیم کا بنیادی مقصد طلباء میں تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ، اور مسائل کے حل کی صلاحیت کو پروان چڑھانا ہے۔ فن لینڈ کے تعلیمی نظام میں سخت مقابلہ یا بے جا امتحانات کی بجائے سیکھنے کے عمل کو خوشگوار اور طالب علموں کی دلچسپی کے مطابق بنایا گیا ہے۔ ہر طالب علم کو انفرادی توجہ دی جاتی ہے، اور اساتذہ کو ان کی تخلیقی اور تدریسی صلاحیتوں کے اعتبار سے تربیت دی جاتی ہے، جس سے وہ طلباء کو ایک متنوع اور متحرک تعلیمی ماحول فراہم کرتے ہیں۔

فن لینڈ کے نصاب میں پروجیکٹ بیسڈ لرننگ، ٹیم ورک، اور انٹر ڈسپلنری موضوعات کو شامل کیا گیا ہے، جو طلباء کو مختلف مہارتوں میں مہارت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ OECD PISA Rankings کے مطابق، فن لینڈ کے طلباء تنقیدی سوچ اور عملی مسائل کے حل میں سب سے نمایاں ہیں۔ مزید برآں، یہاں تعلیم کو زندگی کے عملی پہلوؤں کے ساتھ جوڑا گیا ہے تاکہ طلباء نہ صرف تعلیمی بلکہ سماجی اور پیشہ ورانہ میدان میں بھی کامیاب ہو سکیں۔ یہ نظام تخلیقی تعلیم کے فروغ کا ایک بہترین ماڈل پیش کرتا ہے جو دیگر ممالک کے لیے قابل تقلید ہے۔

عملی علم اور سماجی کردار: تعلیم یافتہ فرد کی پہچان یہ بھی ہے کہ وہ اپنے علم کو عملی زندگی میں کس حد تک نافذ کر سکتا ہے۔ ماہر سماجیات ٹالکاٹ پارسنز نے تعلیم کو سماجی کرداروں کی تربیت کا ذریعہ قرار دیا ہے، جو فرد کو ایک موثر شہری بننے میں مدد دیتی ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کی سمجھ: موجودہ دور میں تعلیم یافتہ ہونے کا معیار جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل لٹریسی کی سمجھ بھی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق، ڈیجیٹل خواندگی آج کے تعلیمی نظام کا ایک اہم جزو بن چکی ہے، جو افراد کو عالمی معیشت میں مسابقت کے قابل بناتی ہے۔ پاکستان میں 70 فیصد اسکولوں میں جدید تدریسی ٹیکنالوجی دستیاب نہیں ہے۔ ورلڈ ایکانومک فورم کے مطابق، تخلیقی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ایک موثر طریقہ ہے۔

ذاتی اور پیشہ ورانہ ترقی: تعلیم یافتہ فرد نہ صرف اپنی ذات بلکہ اپنے پیشہ ورانہ کردار کو بھی بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کیرول ڈویک کی ”Growth Mindset Theory“ کے مطابق، تعلیم افراد کو سیکھنے کی صلاحیت اور خود کو بہتر بنانے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔

تعلیم یافتہ ہونے کا معیار صرف کسی تعلیمی ادارے سے ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ وہ خصوصیات ہیں جو فرد کو سماج میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ یہ معیار علمی، اخلاقی، اور عملی مہارتوں کے مجموعے پر مبنی ہے جو فرد کو ذاتی، سماجی، اور پیشہ ورانہ زندگی میں کامیاب بناتی ہیں۔

ان ساری باتوں کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ پاکستانی تعلیمی نظام کی کامیابیاں بھی قابل ذکر ہیں، جنہیں عام طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ خاص طور پر، پاکستانی طلباء کی بین الاقوامی اولمپیاڈز میں شاندار کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے نوجوان عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔ مثلاً، بین الاقوامی ریاضیاتی اولمپیاڈ (IMO) ، بین الاقوامی فزکس اولمپیاڈ (IPhO) ، اور بین الاقوامی کیمسٹری اولمپیاڈ (IChO) جیسے مقابلوں میں پاکستانی طلباء نے کئی بار میڈلز جیتے اور نمایاں پوزیشنز حاصل کی ہیں۔ ان کامیابیوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود ہمارے طلباء ذہنی قابلیت اور محنت میں کسی سے کم نہیں۔

اسی طرح، پاکستانی طلباء نے گوگل سائنس فیئر، Intel ISEF، اور اسپیلنگ بی جیسے عالمی سطح کے تعلیمی مقابلوں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کامیابیوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب طلباء کو معیاری تعلیم، مناسب تربیت، اور حوصلہ افزائی فراہم کی جائے تو وہ عالمی سطح پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتے ہیں۔ یہ کامیابیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ ہمارے تعلیمی نظام میں نہ صرف بہتری کی گنجائش موجود ہے بلکہ یہ روشن مستقبل کی امید بھی رکھتا ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سنتوش کامرانی

ڈاکٹر سنتوش کامرانی حیدرآباد، سندھ کی ایک نجی یونیورسٹی میں انسانی رویے، منطق و تنقیدی سوچ، فلسفہ، انسانی علوم اور تعلیمی نفسیات جیسے مضامین کی تدریس میں مشغول ہیں۔ ان کے تعلیمی پس منظر میں میڈیکل سائنسز، ماس کمیونیکیشن، تعلیم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔ آپ یونیسکو پاکستان کے پلیٹ فارم سے امن، انسانی حقوق اور تنازعہ حل کرنے کی تعلیم پر مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں

dr-santosh-kamrani has 33 posts and counting.See all posts by dr-santosh-kamrani