گجراتی مسلمان بیوہ اور محمود غزنوی
”رومیلا تھاپر (انڈین تاریخ دان) نے لکھا کہ بعض روایات کے مطابق محمود غزنوی کو اس حملے کی دعوت ایک صوفی بزرگ مسعود غازی نے دی تھی کیونکہ سومناتھ میں مسلمانوں پر بہت ظلم ہوتا تھا۔ روزانہ ایک مسلمان کو اس مندر کی بھینٹ چڑھایا جاتا تھا۔ ایک گجراتی مسلمان بیوہ کے اکلوتے بیٹے کو ہندو راجہ نے گرفتار کر لیا تھا اور یہی بیوہ اپنی فریاد اور مسعود غازی کا خط لے کر محمود غزنوی کے پاس غزنی پہنچی تھی۔“
حامد میر صاحب نے اپنے 6 جنوری 2025 کے کالم میں ایک اور خاتون کو تاریخ کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ ہم ابھی تک اس ایک تاریخی خاتون کا قضیہ نہیں نپٹا پائے جس نے حجاج کو خط لکھ مارا، جس کی وجہ سے اس کا بھتیجا دیبل پر چڑھ دوڑا تھا، کہ اب میر صاحب ایک اور کو تاریخ کے کٹہرے میں لے آئے ہیں اور وہ بھی ایک خاتون تاریخ دان کے توسط سے، سونے پہ سہاگہ انڈین ہیں۔
جس طرح آج کے نئے تاریخ نویسوں نے ”چچ نامہ“ کے پرخچے اڑائے ہیں اور سندھ کی فتح میں ابنِ قاسم کو لتاڑا ہے، ویسے ہی سومنات کی کہانیاں بھی مشہور ہیں۔ روایات کا ایک پلندا ہے جس میں سے جسے جو اچھا لگتا ہے اٹھا کر تاریخ کے منہ پر دے مارتا ہے۔ اور ہم لوگ جنہیں ہیجان خیزی ویسے ہی بڑی اچھی لگتی ہے، اس پر سردھنتے اور واہ واہ کے ڈونگرے برسا کر کہتے ہیں، یہ ہے اصلی تے سچی تاریخ، تم پرانے لوگوں نے جو پڑھا وہ سب ڈھونگ ڈراما تھا۔
ہمارے نئے تاریخ دان ”غزنوی و ابنِ قاسم و غوری“ کو لٹیرا کہیں تو میر صاحب کے پیٹ میں مروڑ نہیں اٹھتے، لیکن ایک سیاستدان نے کہہ دیا تو طوفان ہے کہ تھمتا نہیں، ہول اٹھ رہے ہیں، ہائے کیا کہہ دیا؟ کیوں کہہ دیا؟ کیسے کہہ دیا؟ اور بطورِ ثبوت ڈھونڈ کر لائے بھی کیا ”بعض روایات“ ۔ انہی روایات نے ہی ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا، نہ سَر نہ پَیر، کہانیاں ہیں کہ سینہ بہ سینہ رواں دواں ہیں۔ ہم کسی کو لٹیرا نہیں کہتے، لیکن ان کو اسلام کا محافظ اور دین کے پاسباں بھی نہیں کہتے۔ بادشاہ تھے سپہ سالاران تھے اور تاریخ میں ایسے ہی رہیں گے۔
صرف اس ایک بیان (غزنوی لٹیرا) پر میر صاحب فرماتے ہیں ”کہ اگر آپ کو افغان برے لگتے ہیں“ ، سبحان اللہ۔
یعنی جنہوں نے اقوامِ متحدہ میں ہمارے خلاف ووٹ دیا، لیکن پھر بھی ہم نے ان کے لئے اپنے بارڈر کھلے رکھے اور آج تک اس کو بھگت رہے ہیں، وہ ہمیں برے لگتے ہیں۔ میر صاحب نے کیسی کیسی محبتیں پال رکھی ہیں۔ کبھی ان کو بنگالیوں کا درد اٹھتا ہے تو کبھی افغانوں کا۔ وہی افغان جنہوں نے کچھ ماہ پہلے فرینکفرٹ میں پاکستان ایمبیسی پر حملہ کیا اور پاکستانی پرچم اتار کر اپنا جھنڈا لگا دیا کہ جی دیکھیں ہم نے پاکستان فتح کر لیا ہے۔ اس سب پر تو کوئی درد بھرا جملہ نظر سے نہیں، اخے جی برے لگتے ہیں، حد ہے بلکہ بے حد ہے۔ ایسی کئی ڈرامے بازیاں دیکھ کر حضرتِ اقبالؒ کا شعر ہر بار یاد آتا ہے
حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایات میں کھو گئی



کہاں کی اینٹ کہاں کا روڑا
بھان متی نے کنبہ جوڑا