اردو میڈیم (3)


پنجاب ایجوکیشن کمیشن کے تحت پانچویں جماعت کے بچے بورڈ کے امتحان سے گزرتے ہیں۔ جو کہ پہلا چیک ہوتا ہے آپ کی پانچ سالہ تعلیمی کارکردگی کو جانچنے کا۔ آج کل تو اس امتحان کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو پہلے دور میں دی جاتی رہی ہے۔ تب یہ امتحان میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی طرح بچوں کے اعصاب پہ سوار ہوتا تھا اور ناکامی کی صورت میں بدنامی کا ڈر برابر رہتا تھا۔ لہٰذا اس کو پاس کرنے اور امتیازی نمبر حاصل کرنے کے لیے پورے جتن کیے جاتے تھے۔ استاد محترم پورا دن کسی بیٹھک یا حویلی میں بچوں کو ہمدرد کی گائیڈ اور ماڈل پرچوں کی مشق کرواتے تاکہ بورڈ کا پرچہ آسانی سے نکل جائے۔ یہیں بس نہیں جب امتحان کا دن ہوتا تو جونئیر کلاس یعنی چوتھی جماعت کے 4۔ 5 بچے مقتل گاہ (امتحان) کے لیے جانے والے سپاہیوں کے ہمراہ ہوتے جو ان کا حوصلہ بڑھانے اور ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کے لیے ساتھ ہوتے، گویا یہ فوج کا وہ دستہ تھا جو گھمسان کے رن میں کمک فراہم کرتا تھا۔

جب ہم جونیئر کلاس یعنی چوتھی جماعت میں تھے تو ہمیں بھی اس فرض منصبی سے روشناس کروایا گیا اور پرکھوں سے چلی آ رہی اس رسم کے بارے میں تفصیلاً سمجھایا گیا کہ کس طرح آپ نے اپنے سینئرز کو اس کٹھن اور مشکل امتحان میں سرخرو ہونے میں مدد فراہم کرنی ہے۔ اس وقت پی۔ کے والے کیریکٹر کی طرح ہم بھی کنفیوزیا گئے کہ یہ نقل کرنا اور کروانا جو غیر قانونی کام ہے کیوں اس کی ضرورت آن پہنچی کہ استاد خود سے اس بُوٹی اور نقل کی ترغیب دے رہے ہیں۔ کتاب کا تراشہ یا کاپی کا وہ ورق جو کسی بھی سوال کو حل کرنے میں مدد فراہم کرے ہماری زبان میں بُوٹی کہلاتا ہے۔ ویسے بُوٹی (چیٹنگ، cheating) کے معاملے میں یہ ہمارا پہلا تجربہ تھا جو بُری طرح ناکام ہوا اور نتیجتاً لاشعور میں ایسا ڈر بیٹھا کہ ساری زندگی اس فن میں مہارت حاصل نہ کر پائے۔

ہوا کچھ یوں کہ پہلے دن صبح سویرے، میرے سمیت دیگر لڑکے اپنے سینئرز کے ہمراہ امتحانی مرکز ”گورنمنٹ ماڈل اسکول قلعہ سوندھا سنگھ“ پہنچے۔ جہاں کچھ ہی دیر میں استاد محترم بھی آ گئے اور طریقہ واردات سمجھانے لگے۔ سین کچھ یوں تھا کہ اسکول کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی تھیں جن کی بغل میں ہمارے سپاہی انگریز کے دیے ہوئے نظام تعلیم سے دست و گریبان ہونے جا رہے تھے اور یہی ایک راستہ تھا کمک فراہم کرنے کا۔ کرنا یہ تھا کہ پہلے مرحلے میں پرچہ وہاں سے لے کے آنا اور پھر اس کے جواب گائیڈ سے پھاڑ کے واپس پہنچا کے آنا۔ میرے ذمّہ وہ جواب دے کے آنا تھے۔ جیسے ہی میں اس کھڑکی پہ پہنچا تو نگران استاد چکر کاٹ رہے تھے پہلے تو میں ایک لمحے کو چونکا کہ استاد کی موجودگی میں یہ بُوٹی کیسے پکڑائی جائے مگر پھر یہ سوچتے ہوئے کہ شاید ہمارے استاد کی طرح یہ بھی بُوٹی کو شفا جانتے ہیں اور مُشکل میں پھنسے طالب علموں کی مدد کو جائز سمجھتے ہیں، پُورے حوصلے سے کھڑکی میں ہاتھ ڈالا اور چلایا ”ساجد ایہہ پھڑ پہلے تِن سوالاں دے جواب“ اس سے پہلے کہ ساجد وہ جواب پکڑتا نگران صاحب نے کمال پھرتی اور ہوشیاری سے وہ پرچہ اُچک لیا جیسے باز کبوتر یا چوہے کو اُچکتا ہے۔ اور آواز لگائی ”پھڑو ایس مُشٹنڈے نوں“ اتنی کرخت اور رُعب دار آواز سنتے ہی میری ہمت پانی ہو گئی اور میں نے دوڑ لگا دی۔ فوراً سے اپنے کیمپ جا کے اطلاع دی کہ بھاگ لو ورنہ کمرہ امتحان میں کھڑا دشمن ہمارے دانت کھٹّے کرنے کو آ رہا ہے۔ اس خبر کو سنتے ہی استاد محترم غصے سے لال پیلے ہو گئے، ہمیں خوب ڈانٹ پلائی اور شرم بھی دلائی کہ کس قدر نالائق اور بیوقوف ہو آپ اور کبھی بھی ہمیں ساتھ نہ لانے کا اعلان بھی کر دیا۔ بس وہ دن اور آج کا، بُوٹی کا ڈر ایسا بیٹھا کہ بُوٹی پینے اور لگانے کا کبھی حوصلہ نہ ہوا۔

Facebook Comments HS