معیشت کی شکستہ بنیادیں
پاکستان کی حالیہ اقتصادی صورتحال ایک پیچیدہ اور غیر مستحکم تصویر پیش کرتی ہے۔ ایک جانب اسٹاک مارکیٹ تاریخی سطح پر پہنچ رہی ہے، جبکہ دوسری جانب مہنگائی اور ڈالر کی بے قابو قیمتیں عوام کی زندگی کو اجیرن بنا رہی ہیں۔ یہ تضاد نہ صرف اقتصادی پالیسیاں بنانے والوں کی ناکامی کا مظہر ہے بلکہ معاشی نظام میں گہرے ساختی مسائل کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ مہینوں کے دوران تیزی نے سرمایہ کاروں کے لیے امید کی کرن پیدا کی، لیکن یہ تیزی ایک محدود طبقے تک محدود رہی۔ پال کروگ جیسے مشہور معیشت دانوں کا ماننا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کا بڑھنا حقیقی معیشت کی عکاسی نہیں کرتا، خاص طور پر جب یہ اضافہ چند مخصوص سیکٹرز، جیسے بینکنگ اور توانائی، تک محدود ہو۔
پاکستان میں اسٹاک مارکیٹ کی حالیہ ترقی بنیادی طور پر مالیاتی پالیسیوں میں نرمی، کرنسی کی قدر میں کمی، اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی محدود دلچسپی کی وجہ سے ہوئی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹس کے مطابق، نومبر 2024 میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 15 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ بنیادی طور پر توانائی سیکٹر میں ہوا۔ مگر اس کا عوام پر کوئی مثبت اثر دیکھنے کو نہیں ملا کیونکہ حقیقی پیداوار اور خدمات کے شعبے جمود کا شکار ہیں۔
پاکستان میں مہنگائی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، جس کی جڑیں عالمی اور مقامی دونوں سطحوں پر پھیلی ہوئی ہیں۔ فیلپس کرو کے اصول کے مطابق، معاشی نمو کے دوران مہنگائی میں اضافہ معمول کی بات ہے، مگر پاکستان میں یہ اضافہ زیادہ تر اشیاء کی قیمتوں کے بے قابو ہونے، سپلائی چین کے مسائل، اور حکومتی نا اہلی و غیر دلچسپی کی وجہ سے ہوا ہے۔
گزشتہ برسوں میں، گندم، چینی، اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے کو ملا۔ اس کی کئی وجوہات کے ساتھ ساتھ کچھ عہدیداروں کے ذاتی مفاد کا عنصر بھی شامل تھا۔ بلاوجہ ایکسپورٹ کے بعد امپورٹ کی وجہ سے قیمتوں میں مصنوعی خلا پیدا کیا گیا۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹکس کے مطابق، 2024 کے اختتام تک کنزیومر پرائس انڈیکس 30 فیصد تک بڑھ گیا، جو کہ گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔
ڈالر کی قیمت میں اضافہ پاکستان کی معیشت کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے۔ روپے کی گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ تجارتی خسارہ اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی ہے۔ آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، پاکستان کو اپنے قرضوں کی ادائیگی کے لیے 25 بلین ڈالر کی فوری ضرورت ہے، جو کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔
معاشی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کرنسی کی قدر میں کمی ہمیشہ افراطِ زر اور غربت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ ڈاکٹر عشرت حسین نے اپنی کتاب ”دی اکنامی آف پاکستان“ میں ذکر کیا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں کرنسی کی قدر میں کمی نہ صرف درآمدات کو مہنگا کرتی ہے بلکہ مقامی پیداوار پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے، کیونکہ خام مال کا زیادہ تر درآمدات پر انحصار ہوتا ہے۔
پاکستان کی معیشت کا جائزہ لیتے وقت یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہاں ہمیشہ اشرافیہ کا غلبہ رہا ہے۔ ڈاکٹر محبوب الحق کے مطابق، پاکستان کی معیشت کو ایک ایسی اشرافیہ نے یرغمال بنایا ہے جو اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے پالیسیوں کو کنٹرول کرتی ہے۔ زراعت، صنعت، اور برآمدات جیسے شعبوں کی ترقی کے بجائے یہ اشرافیہ اپنی دولت کو محفوظ کرنے میں لگی رہی، جس کا خمیازہ آج عوام بھگت رہی ہے۔
1970 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کی نیشنلائزیشن پالیسی ہو یا 1990 کی دہائی میں نواز شریف کی نجکاری پالیسی، ہر دور میں عام آدمی کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ آکسفورڈ اکنامکس سٹڈیز کے مطابق، پاکستانی معیشت کی ساختی خرابیاں اس حد تک گہری ہیں کہ معمولی اصلاحات سے بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی۔
پاکستان کی معیشت کو عالمی مالیاتی اداروں کی سخت شرائط نے مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ آئی ایم ایف کے حالیہ قرض پروگرام نے حکومت کو سبسڈیز میں کمی اور ٹیکسوں میں اضافہ کرنے پر مجبور کیا، جس کا براہ راست اثر عوام پر پڑا۔ ورلڈ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں ذکر کیا گیا کہ پاکستان میں 40 فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر کے قریب یا نیچے زندگی گزار رہی ہے، اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جو کہ افسوس ناک ہے۔
اس صورتحال سے نکلنے کے لیے جامع اور دور رس پالیسیاں ضروری ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ برآمدات میں اضافہ، زراعت میں جدیدیت، اور توانائی کے شعبے میں خود انحصاری پر توجہ دے۔ ساتھ ہی، مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بناتے ہوئے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔
پاکستان کو اپنے اقتصادی ماڈل میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی، وگرنہ یہ تضادات نہ صرف معیشت کو بلکہ معاشرتی ڈھانچے کو بھی تباہی کی طرف لے جائیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ معاشی پالیسیاں عوام کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دی جائیں، نہ کہ چند مخصوص طبقوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے سب ڈھانچہ گھڑا جائے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ زمینی حقائق کے لیے اے سی اور ہیٹر والے کمروں سے باہر نکل کر عوامی مسائل کو سمجھنے کے لیے اہل بصیرت اور فہم و فراست والے ذہنوں کا تعاون لینا ہو گا۔


