بونیر کی ماربل فیکٹریوں کے ماحول اور آب و ہوا پر اثرات
بونیر کی ماربل فیکٹریوں کا مقامی ماحول اور آب و ہوا پر اثر ایک اہم موضوع ہے جو معیشت، ماحولیات، اور مقامی سماجی ڈھانچے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ بونیر، جو خیبر پختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن کا حصہ ہے، 1991 سے ایک ضلع کے طور پر موجود ہے۔ یہ اپنی خوبصورتی اور معدنی وسائل، خصوصاً ماربل کی صنعت، کے لیے جانا جاتا ہے۔
ماربل ایک قیمتی قدرتی پتھر ہے جو تعمیرات، فرنیچر، اور سجاوٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بونیر میں تقریباً 500 ماربل فیکٹریاں موجود ہیں، جو نہ صرف مقامی معیشت کو ترقی دیتی ہیں بلکہ قومی تعمیراتی صنعت کو بھی اہم وسائل فراہم کرتی ہیں۔ تاہم، ان فیکٹریوں کے غیر منظم اور غیر پائیدار طریقہ کار ماحول اور آب و ہوا پر سنگین منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
ماربل کی کان کنی اور پروسیسنگ کے دوران دھول اور زہریلی گیسوں کا اخراج ہوتا ہے۔ پہاڑوں میں بارود کے دھماکوں سے نہ صرف ہوا کا معیار خراب ہوتا ہے بلکہ سانس کی بیماریوں جیسے دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض بھی عام ہو رہے ہیں۔ گرد و غبار کی وجہ سے مقامی آبادی میں صحت کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
ماربل کی پروسیسنگ میں بڑی مقدار میں پانی استعمال ہوتا ہے، لیکن اکثر یہ آلودہ پانی بغیر کسی صفائی کے ندیوں اور زیرزمین پانی کے ذخائر میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس سے مقامی زراعت اور پینے کے پانی کے ذخائر شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ بونیر کے دریائے برندو، جو کبھی خوبصورتی اور بڑی مچھلیوں کے لیے مشہور تھا، اب زہریلے پانی کی ندی بن چکا ہے۔
مجھے یاد ہے کہ اس میں تین فٹ لمبی مچھلیاں رہتی تھیں، جن کے شکار کے لیے ماہی گیر شکاری بندوقیں استعمال کرتے تھے۔ اب تو مچھلیاں بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔
ماربل کی کان کنی کے دوران زمین کا کٹاؤ ہوتا ہے، جس سے زمین کی زرخیزی کم ہوتی ہے اور قدرتی جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ بونیر کی قدرتی خوبصورتی کو بھی ختم کر رہا ہے۔
ماربل پروسیسنگ کے دوران استعمال ہونے والی مشینری سے پیدا ہونے والا شور قریبی رہائشی علاقوں اور جنگلی حیات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔
ماربل فیکٹریوں کے اثرات مقامی ماحول کے ساتھ ساتھ عالمی آب و ہوا پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ گیسوں کے اخراج کی وجہ سے گرین ہاؤس افیکٹ بڑھ رہا ہے، درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے، اور بارش کے نظام میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔
حکومت کو ماربل فیکٹریوں کے لیے سخت ماحولیاتی قوانین نافذ کرنے چاہئیں تاکہ آلودگی کو کم کیا جا سکے۔
ماربل کی پروسیسنگ کے دوران دھول اور فضلہ کو کم کرنے کے لیے جدید فلٹرز اور ری سائیکلنگ سسٹمز کا استعمال ضروری ہے۔
شبیر بونیری (بونیر کا نامور صحافی) سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماربل کی ترسیل کے لیے خصوصی سڑکیں تعمیر کی جائیں تاکہ عوام کو ٹریفک کے مسائل اور حادثات سے بچایا جا سکے۔
کان کنی سے متاثرہ علاقوں میں درخت لگانے کی مہم شروع کی جائے تاکہ زمینی کٹاؤ کو روکا جا سکے اور ہوا کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
ماحولیاتی تحفظ کے منصوبوں میں مقامی لوگوں کی شمولیت ضروری ہے تاکہ وہ مسائل کے حل میں کردار ادا کر سکیں۔
بونیر کی ماربل فیکٹریاں مقامی معیشت کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہیں، لیکن ان کی سرگرمیاں ماحول اور آب و ہوا پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ معیشت اور ماحولیات کے درمیان توازن قائم کیا جائے۔ ماحولیاتی قوانین کے نفاذ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، اور عوامی آگاہی کے ذریعے بونیر کو نہ صرف ایک ترقی یافتہ بلکہ ایک ماحولیاتی طور پر محفوظ ضلع بنایا جا سکتا ہے۔


