پیش بینی ہزار نعمت ہے

تاریخ ماضی کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں اہلِ نظر مستقبل کی تصویر دیکھ سکتے ہیں، مگر ہم نے ایک ایسا نصابِ تعلیم ترتیب دیا ہے جس میں تاریخ اور جغرافیے کی بہت کم گنجائش ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم اندھیروں میں زندگی کا سفر طے کرتے رہنے سے سقوطِ ڈھاکہ جیسے ہولناک حادثے سے دوچار ہو گئے۔ بدقسمتی سے ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ہم پرانی غلطیاں دہراتے اور اَپنے وطن کے مستقبل کو مخدوش بناتے رہے۔ یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ ہماری قومی قیادتیں اور ہمارے اہم ترین ادارے پیش بینی کے جوہر سے محروم ہوتے چلے آ رہے ہیں جس کے باعث ہماری ملکی سلامتی، معاشی اور سیاسی استحکام کو طرح طرح کے چیلنجز چمٹے ہوئے ہیں اور عالمی برادری میں پاکستان کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور سماجی انصاف کی فراہمی کے لیے برِصغیر کے مسلمانوں نے حضرت قائدِاعظم کی تاریخی شعور سے مالامال قیادت میں ایک آزاد وَطن کے قیام کی جو عظیم الشان جدوجہد کی تھی اور دُنیا کا سیاسی نقشہ تبدیل کر کے رکھ دیا تھا، اُسے آگے چل کر ہماری کوتاہیوں سے بہت ضعف پہنچا اور پاکستان انتہائی پیچیدہ مسائل کے گرداب میں بری طرح پھنستا گیا۔ اب نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے صوبے ایک نا ختم ہونے والی دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں جس کا دائرہ وَقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وسیع اور حد درجہ خطرناک ہو چلا ہے۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ تقریباً ہر دن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کڑیل جوان دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں جن کی تعداد گاہے گاہے ساٹھ ستر سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ فوج کے سپہ سالار اُنہیں کندھا دیتے اور شہیدوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ جنرل سیّد عاصم منیر بفضلِ خدا اِسلام کی درخشندہ رِوایات سے پوری طرح باخبر ہیں، اِس لیے اُن کی تقریروں اور بیانات میں قرآنی آیات کا حوالہ ملتا ہے جن میں شہدا کو یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ وہ زِندہ جاوید ہیں۔
ہم اپنے قائدین کی جانب سے مسلسل یہی بات سنتے آ رہے ہیں کہ یہ دہشت گرد ہمیں شکست نہیں دے سکتے، کیونکہ ہمارے حوصلے اور مقاصد بلند ہیں۔ ہم اُن کا پوری طرح خاتمہ کر کے ہی دم لیں گے۔ اُن کی اِن حوصلہ مند باتوں کی تاثیر اِس لیے کم ہوتی جا رہی ہے کہ ہر دردناک واقعے کے بعد اُس سے بھی کہیں زیادہ ہولناک واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔ عوام کی نفسیات میں جو خوف رینگتا جا رہا ہے، اُس کا تدارک نہیں ہو پا رہا۔ غورطلب نکتہ یہ ہے کہ ہم بحیثیتِ قوم، تمام تر وسائل کے باوجود، دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام کیوں ہیں۔
پاکستان میں جتھوں کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا عمل 1947 ء کے آخری مہینوں میں شروع ہوا تھا جب انڈیا نے انگریزوں کی مدد سے 27 ؍اکتوبر کو سری نگر ائرپورٹ پر اپنی فوجیں اتار دِی تھیں اور جموں وکشمیر میں مسلمانوں کا قتلِ عام شروع ہو چکا تھا۔ اُن دنوں بھارت اور پاکستان کی مسلح افواج برٹش فیلڈ مارشل آچنلیک (Auchinleck) کے زیرِ کمان تھیں اور دَونوں ملکوں کی افواج میں اعلیٰ افسر زیادہ تر انگریز تھے۔ مختلف وجوہ سے قائدِاعظم کے اُس حکم کی تعمیل نہ ہو سکی جس میں اپنی فوج کو فوری طور پر سری نگر ائرپورٹ کو بھارتی قبضے سے آزاد کروانے کے لیے کہا گیا تھا۔
تب صوبہ سرحد کے وزیرِاعلیٰ خان عبدالقیوم خاں نے خفیہ طریقوں سے آزاد قبائل میں مسلمان کشمیری بھائیوں کی مدد کے لیے پہنچنے کا جذبہ اُبھارا اَور غیر منظم جتھے ریاست جموں وکشمیر میں داخل ہو گئے۔ اُس موقع پر سیّد ابوالاعلیٰ مودودی نے قرآنِ حکیم کا یہ تصوّرِ جہاد پوری وضاحت سے بیان کیا کہ جہاد کا اعلان صرف ریاست کر سکتی ہے اور اگر جتھے جہاد کے نام پر نکل کھڑے ہوئے، تو دہشت گردی اور لاقانونیت کو ہوا ملے گی۔
بدقسمتی سے اُس وقت کے پاکستانی حکمران اِس عظیم تصوّر کی حکمت سمجھنے سے قاصر رہے اور اُنہوں نے ایک منصوبے کے تحت یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ مولانا مودودی جہادِ کشمیر کے خلاف ہیں۔ اِس کوتاہ نظری کے خطرناک نتائج اُس وقت اُبھر کر سامنے آئے جب ملک میں فرقہ پرستی انتہا کو پہنچ گئی اور مختلف فرقہ ورانہ تنظیموں نے اپنے اپنے ’سپاہ‘ بھی تیار کر لیے تھے۔ اِسی دوران جہادِ اَفغانستان نے شمال مغربی سرحدی صوبے کی صورتِ حال پر گہرے اثرات مرتب کیے جس نے افغانستان کی شہ پر پختونستان کے شوشے کو ہوا دِی۔
تشکیلِ پاکستان کے سلسلے میں ’قانونِ آزادیٔ ہند‘ برطانوی پارلیمنٹ نے جولائی 1947 ء میں منظور کیا، اُس میں یہ درج تھا کہ شمال مغربی صوبے میں اِس امر پر ریفرنڈم کرایا جائے گا کہ وہاں کے عوام پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا بھارت میں۔ اُس وقت وہاں ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت قائم تھی جو کانگریس کے زیرِاثر تھے۔ یہ ریفرنڈم پاکستان کے لیے غیرمعمولی اہمیت کا حامل تھا، کیونکہ اگر اُس میں شمالی مغربی سرحدی صوبہ ہندوستان میں جانے کا فیصلہ دے دیتا، تو پاکستان جغرافیائی طور پر بری طرح غیرمحفوظ ہو جاتا، چنانچہ اسلامیہ کالج پشاور اَور اِسلامیہ کالج لاہور کے طلبہ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی زیرِ قیادت پورے صوبے میں پھیل گئے اور اُن کی شبانہ روز کوششوں سے وہاں کے عوام کانگریس کے دامِ فریب سے باہر نکل آئے۔
تب خدائی خدمت گار کے رہنما خان عبدالغفار خاں نے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کر دیا جبکہ لاکھوں ووٹوں سے پاکستان نے ریفرنڈم جیت لیا، مگر افغانستان نے پختونستان کا ایشو زِندہ رَکھا۔ یہی وہ ملک ہے جس نے اقوامِ متحدہ کی رکنیت حاصل کرنے کے موقع پر پاکستان کی سخت مخالفت کی۔ وہ ناکامی کے باوجود شمال مغربی سرحدی صوبے میں پاکستان کے لیے سنگین مسائل پیدا کرتا رہا۔ آج خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا جو ہلاکت خیز طوفان اُمڈا چلا آ رہا ہے، اُس کی پشت پر افغانستان ہے جہاں طالبان سیاہ و سپید کے مالک ہیں۔ اُنہوں نے نفاذِ شریعت کے نام پر انتہائی سخت موقف اختیار کر رکھا ہے اور اَب پاکستان کو ایک طرح سے گوریلا جنگ میں دھکیل رہے ہیں۔ اِن تشویشناک حقائق کے تناظر میں پاکستانی قیادت کو غیرمعمولی طور پر مستقبل بینی سے کام لینا اور بے پایاں تاریخی شعور کا ثبوت دینا ہو گا۔ (جاری ہے )

