غیر رسمی تعلیم: پاکستان، خصوصاً سندھ کے تناظر میں ایک علمی اور نفسیاتی تجزیہ


کیا آپ جانتے ہیں؟ یونیسکو کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں خواندگی کی شرح 59 فیصد اور سندھ میں 55 فیصد ہے۔ NCHD کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق، 2002 سے 2020 کے دوران پاکستان میں غیر رسمی تعلیم کے ذریعے 3.5 ملین افراد کو تعلیم فراہم کی گئی، جس میں سندھ کا حصہ 25 فیصد رہا۔ غیر رسمی تعلیم روایتی تعلیمی ڈھانچے سے ہٹ کر ان افراد کو تعلیم فراہم کرتا ہے جو کسی بھی وجہ سے رسمی اسکول کے نظام سے باہر رہ جاتے ہیں۔ پاکستان میں، خصوصاً سندھ میں، غیر رسمی تعلیم کی ضرورت خواندگی کی کمی، غربت، اور رسمی اسکولنگ کی ناقابلِ رسائی کی وجہ سے بڑھتی ہے۔ یہ نظام لچکدار اوقات، آسان مواد، اور مقامی ضروریات کے مطابق نصاب فراہم کرتا ہے۔

غیر رسمی تعلیم کی کامیابی میں تحقیقات کا فقدان ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 22.8 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں، جن کی اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ غیر رسمی تعلیمی مراکز بچوں کی تعلیم میں موثر ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا معیار بہتر ہو۔ پروفیسر پرویز ہودبھائی نے اپنی تحقیق میں غیر رسمی تعلیم کو رسمی تعلیم کا ایک اہم متبادل قرار دیا ہے۔

پاکستان میں غیر رسمی تعلیم کا آغاز 1970 کی دہائی میں ہوا، جب حکومت نے تعلیم بالغاں کے پروگرام شروع کیے تاکہ خواندگی کی سطح کو بہتر بنایا جا سکے۔ 1980 کی دہائی میں نئی روشنی پروگرام شروع کیا گیا، جس کا مقصد کم عمر بچیوں اور خواتین کو بنیادی تعلیم فراہم کرنا تھا۔ 2002 میں NCHD قائم کی گئی، جس نے غیر رسمی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے پورے ملک میں مراکز قائم کیے۔ سندھ میں سال 2000 میں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی طرف سے چائلڈ لیبر ایجوکیشن پروگرام اور خواتین کی خواندگی اور خود مختاری کا ایک پروگرام شروع کیا گیا۔ جبکہ، سال 2016 میں ایک پروگرام نوجوانوں اور بالغوں کے لیے متعارف کرایا گیا، جس کا مقصد انہیں پیشہ ورانہ مہارتیں اور بنیادی تعلیم فراہم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ سندھ میں مختلف این جی اوز جیسے انڈس ریسورس سینٹر نے غیر رسمی تعلیمی مراکز قائم کیے ہیں۔ لیکن وسائل کی کمی اور حکومتی دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی کارکردگی محدود ہے۔

بنگلہ دیش کا BRAC پروگرام دیہی اور پسماندہ علاقوں میں غیر رسمی تعلیم فراہم کرنے کا ایک کامیاب ماڈل ہے جو مقامی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کے تحت تعلیم پانے والے بچوں کی خواندگی کی شرح 90 % سے زیادہ ہے، جبکہ پاکستان میں یہ مراکز معیاری تربیت یافتہ عملے اور بہتر نصاب کی کمی کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ غیر رسمی تعلیم مزدور بچوں، دور دراز علاقوں کے رہائشیوں، اور ان لڑکیوں کے لیے موزوں ہے جنہیں رسمی تعلیم کے مواقع نہیں ملتے۔ یہ نظام نہ صرف تعلیم تک رسائی فراہم کرتا ہے بلکہ صنفی تفریق کو کم کر کے معاشرتی مساوات کو فروغ دینے اور خواتین کو اپنی زندگی میں بہتر فیصلے کرنے اور سماجی و اقتصادی آزادی حاصل کرنے کا موقع دیتا ہے۔

غیر رسمی تعلیم کی تشخیص روایتی امتحانات سے مختلف اور لچکدار ہونی چاہیے۔ پروجیکٹس، سماجی اور پیشہ ورانہ مہارتوں پر مبنی ٹیسٹوں، طلباء کی حقیقی صلاحیتوں کا اندازہ لگانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ BRAC پروگرام میں بچوں کی کارکردگی کو ان کے پروجیکٹس اور گروپ سرگرمیوں کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے، جو یہاں کے غیر رسمی تعلیمی نظام میں بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ طلباء کی حاضری اور تعلیم کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے والدین اور مقامی کمیونٹی کا کردار نہایت اہم ہے تاکہ وہ طلباء کو تعلیمی مراکز تک پہنچانے اور ان کی تعلیم کے تسلسل کو یقینی بنانے میں مدد کر سکیں۔ اساتذہ کو تربیت دینے سے ان کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔ جبکہ طلباء کو معاشی، جذباتی، اور وقت کی مناسبت سے مدد فراہم کرنا ضروری ہے۔ طلباء کو مالی امداد بھی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ معاشی دباؤ کا شکار نہ ہوں اور کام کرنے پر مجبور نہ ہوں۔ ایک محفوظ اور دوستانہ ماحول اور لچکدار تعلیمی اوقات طلباء کو اپنی گھریلو اور دیگر سماجی ذمہ داریوں کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے قابل بناتے ہیں۔

اس نظام کو موثر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کی ضرورت ہے جن میں نصاب میں جدت اور دلچسپی کا اضافہ، خواتین کے لیے ”صحت اور صفائی کے ماڈیولز“ اور نوجوانوں کے لیے ”کاروباری تربیت“ کے ماڈیولز اہم ہیں۔ دوسری طرف خواتین کی تعلیم کے حوالے سے ثقافتی رویے غیر رسمی تعلیم کی کامیابی کو متاثر کرتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں خواتین کی تعلیم کو غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق، دیہی سندھ میں لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے کی شرح 49 % ہے، جو والدین کی تعلیمی ترجیحات کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

سیاسی عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں کے تسلسل کا فقدان بھی اس نظام کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔ غیر رسمی تعلیم کو تکنیکی تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے ساتھ جوڑنے سے نوجوانوں اور بالغوں کو بہتر روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ جبکہ ان کے لئے قرضے، امداد یا انعام کی صورت میں ایسے کاروباری مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں جو انہیں معاشی طور پر خود کفیل بنائیں۔ اس کے سوا، غیر رسمی تعلیم کے سرٹیفکیٹس اور ڈگریوں کی رسمی تعلیمی اداروں کی طرح تسلیم شدگی نہ ہونے سے یہاں سے فارغ التحصیل طلباء کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔

مزید برآں، این جی اوز، مقامی کمیونٹیز، اور سرکاری اداروں کے درمیان شراکت داری کے ذریعے ان مراکز کی تشکیل اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ وسائل کی موثر تقسیم کے لیے بجٹ کی منصوبہ بندی اور مناسب پالیسی سازی ضروری ہے۔ پبلک اور پرائیویٹ شراکت داری کے ذریعے وسائل کی فراہمی اور انتظام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ غیر رسمی تعلیم ایک موثر نظام ہے، لیکن اس کی کامیابی کے لیے ایک جامع حکمت عملی اور معاشرتی حمایت وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سنتوش کامرانی

ڈاکٹر سنتوش کامرانی حیدرآباد، سندھ کی ایک نجی یونیورسٹی میں انسانی رویے، منطق و تنقیدی سوچ، فلسفہ، انسانی علوم اور تعلیمی نفسیات جیسے مضامین کی تدریس میں مشغول ہیں۔ ان کے تعلیمی پس منظر میں میڈیکل سائنسز، ماس کمیونیکیشن، تعلیم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔ آپ یونیسکو پاکستان کے پلیٹ فارم سے امن، انسانی حقوق اور تنازعہ حل کرنے کی تعلیم پر مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں

dr-santosh-kamrani has 33 posts and counting.See all posts by dr-santosh-kamrani