پر تشدد سیاست، اخلاقیات اور معیشت کی دشمن


سیاست عربی زبان کا لفظ ہے جو فارسی اور اردو میں عام مستعمل ہے۔

لغت میں سیاست کے معنی ”حکومت چلانا اور لوگوں کی امر و نہی کے ذریعہ اصلاح کرنا ہے۔“ یعنی فن حکومت اور لوگوں کو اصلاح سے قریب اور فساد سے دور رکھنے کو سیاست کہتے ہیں۔ یا پھر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ سیاست کسی گروہ کی بنائی گئی اس پالیسی کو کہا جا سکتا ہے۔ جس کا مقصد اپنے ملک کی بالا دستی کو یقینی بنانا ہو تا ہے۔ سیاست میں کامیابی غریب کی غربت ختم کرنے کا نام ہے نہ کہ مخالفین کو جھوٹے پراپیگنڈہ اور الزام تراشی کے ذریعے نیچا دکھانے کا نام ہے

سیاست کا مطلب ملک میں خوش حالی لانا ہوتا ہے نہ کہ سیاست کی آڑ میں جھوٹ، گالم گلوچ کے کلچر اور طوفان بدتمیزی کو پروان چڑھا کر ملک کی اساس کو کمزور کرنا ہوتا ہے اور نہ ہی سیاست کی آڑ میں ملکی اداروں کے خلاف زبان درازی کی اجازت ہوتی ہے اور نہ ہی سیاست ہمیں پرتشدد دنگا فساد اور ملک میں انار کی پھیلانے کا سرٹیفکیٹ عطا کرتی ہے، سیاست ہمیں اپنے اصولی موقف پر ڈٹ کر کھڑا ہونا سکھاتی ہے نہ کہ ہر موڑ پر نیا جھوٹ بول کر عوام کو اشتعال، پرتشدد کارروائیوں پر اکسانا اور ملکی اداروں کے خلاف محاذ جنگ پیدا کرنا سکھاتی ہے۔

آج کل دیکھنے میں آیا ہے کہ اک سیاسی جماعت جمہوری و سیاسی عمل کا حصہ بن کر آگے بڑھنے کی بجائے جارحانہ عزائم کے تابع حکمت عملی پر کاربند ہے۔ ہمیشہ سیاسی جماعتیں اپنے احتجاج اور مزاحمتی عمل کو آئین اور قانون کے تابع رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ایک عرصہ سے دیکھنے میں آ رہا ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کی لیڈر شپ احتجاجی روش سے باہر آنے کو تیار نہیں۔ ان کے ذمہ داران کی جانب سے احتجاجی عمل میں مرنے مارنے کی باتوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور پختونخوا حکومت کے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اسلام آباد پر چڑھائی کی گئی ہے۔ کوئی محب وطن بھی اس کی تائید نہیں کر سکتا۔

ملک پاک میں پرتشدد سیاسی رجحانات کا بڑھنا مجموعی طور پر ہمارے سیاسی کلچر پر ہی سوالیہ نشان ہے۔ کیونکہ نہ تو اس میں سیاست ہے، نہ جمہوریت ہے، نہ آئین و قانون کی حکمرانی ہے اور نہ ہی سیاسی اخلاقیات یا سیاسی قبولیت یا برداشت کا پہلو ہے۔ اس رجحان کو مضبوط بنانے میں سیاست دانوں اور علمائے کرام سمیت اہل دانش کا بھی ہاتھ ہے جو خود بھی پرتشدد بیانات، تقریریں یا اقدامات کرتے ہیں اور کارکنوں کو یا اپنے ہمدردوں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ہمارے مخالفین ملک دشمن ہیں، کافر ہیں، غدار ہیں یا چور و ڈاکو ہیں۔ یہ ہی بیانیہ اوپر سے لے کر نیچے تک جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے پرتشدد سیاست کے اثرات ملک اور اس کی معیشت پر بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔

ایسے میں یہ سوال اٹھانا بالکل درست ہے کہ کیا اس صورتحال میں معاشی بحالی اور ترقی کا خواب حقیقت بن سکے گا؟ فی الحال اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ جب سیاست پر تشدد حاوی ہو جائے تو یہ معیشت کے ساتھ ساتھ جمہوریت اور سیاست کے مسائل کے حوالے سے خوش آئند نہیں ہوتا۔ پاکستان ایک ذمہ دار نیو کلیئر طاقت ہے یہاں تناؤ ٹکراؤ کا عمل دشمن کا ایجنڈا تو ہو سکتا ہے کوئی محب وطن جماعت اور قیادت اسے غیر مستحکم ہوتا نہیں دیکھ سکتی۔ کسی صوبہ کی مرکز کے خلاف چڑھائی وفاق کے حوالے سے اچھی نہیں۔ حکومتی وسائل عوام کی خدمت کے لئے ہوتے ہیں نہ کہ احتجاجی مارچ کے لئے۔

جب تحریک انصاف کے گمراہ پیروکار اپنے سیاسی مخالفین کی سرعام تضحیک کریں گے، ان کے گھروں پر حملے کریں گے، آگ لگائیں گے، پولنگ دفاتر پر قبضے ہوں گے، پی ٹی وی، ناپسندیدہ پولیس، الیکشن کمیشن اور سرکاری عمارتوں پر حملے ہوں گے تو یہ شرپسندی ہی کہلائے گی۔ ایسی کارروائیوں کو کسی صورت پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔

اس لیے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز اور محب وطن سیاسی، مذہبی قیادت بیٹھ کر فیصلہ کریں کہ ہم نے نوجوان نسل کو پرتشدد سیاست سے کیسے پاک کرنا ہے اور سیاست کی آڑ میں پرتشدد کارروائیاں کرنے والے ملک دشمن عناصر کا کیسے قلعہ قمع کرنا ہے۔ اگر ہم آج یہ فیصلہ نہ کر سکے تو یاد رکھئے گا

"ہماری” داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

کیونکہ ملک میں بڑھتی ہوئی پرتشدد سیاست کے پیچھے چھپے اغیار کا صرف اور صرف اک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح افواج پاکستان کو کمزور کیا جائے کیونکہ فوج ہی پاکستان کی سرحدوں کی محافظ ہے جب محافظ کمزور ہو گا تو ملک اپنے آپ کمزور ہو جائے گا

لیکن انشاءاللہ ایسا کبھی نہیں ہو گا کیونکہ پاکستان اس وقت محفوظ ہاتھوں میں ہے اور انشاءاللہ بہت جلد پاکستان کو کمزور کرنے والے، پاکستان میں پرتشدد سیاست، گالم گلوچ کلچر کو فروغ دینے والے اپنے منطقی انجام کو پہنچیں گے جو آنے والوں کے لئے بھی مقام عبرت ہو گا۔

Facebook Comments HS