پاکستان کی سیاسی کشیدگی
پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال بے حد پیچیدہ اور نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں سیاسی جماعتوں کے اختلافات ذاتی دشمنیوں میں بدل چکے ہیں۔ سیاسی قیادت نظریاتی اختلافات کو برداشت کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے نظریں چرانے پر مجبور نظر آتی ہے۔ اس کشیدہ ماحول کا فائدہ اندرونی اور بیرونی عناصر اٹھا رہے ہیں، جو ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کے درپے ہیں۔ سیاسی جلسوں اور مظاہروں کے دوران حملے، ملک دشمن قوتوں کی جانب سے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی منظم کوششوں کا حصہ ہیں، جس سے قومی سلامتی اور امن و امان کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
سیاسی قیادت کو جاگیردارانہ سوچ ترک کر کے ملک کے وسیع تر مفادات پر غور کرنا ہو گا، کیونکہ ملک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خانہ جنگی جیسے حالات کی بنیادی وجہ یہی روایتی جاگیردارانہ نظام ہے۔ سیاستدان اپنے ذاتی وقار اور اقتدار کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور اپنی چالاکی سے ہر بحران کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے میں ماہر ہیں۔ بدقسمتی سے، وہ قومی وقار اور ملکی سلامتی کو بھی اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھانے سے گریز نہیں کرتے، اور جب حالات سنگین رخ اختیار کر لیتے ہیں، تو خود کو معصوم ظاہر کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔
جب بھی ملکی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے، ان ہی سیاسی جماعتوں کو یکجا ہونے کے بجائے ذاتی مفادات عزیز ہوتے ہیں۔ اس کا واحد حل ”مذاکرات“ ہیں، مگر بدقسمتی سے مفاہمت کے راستے مسدود کر دیے گئے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں نے ایک دوسرے کے خلاف نفرت کی ایسی فضا قائم کر دی ہے کہ اب وہ گفت و شنید کے بجائے محاذ آرائی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف ملکی معیشت کو کمزور کر رہا ہے بلکہ بے روزگاری اور جمہوری استحکام کے لیے بھی زہر قاتل ثابت ہو رہا ہے، جبکہ دنیا محض ایک تماشائی بنی ہوئی ہے۔
اگر سیاسی قیادت نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور اختلافات کو دشمنی میں بدلنے کا سلسلہ جاری رکھا، تو پاکستان کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جب تک داخلی تضادات ختم نہیں ہوں گے، نہ دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو گا اور نہ ہی معیشت بحال ہوگی۔ یہی سیاسی بحران ہے جس نے ملک کو عدم استحکام کا شکار کر رکھا ہے۔ حکومتوں کے بار بار غیر جمہوری طریقے سے برطرف ہونے سے نہ صرف عوام کا منتخب کردہ نمائندہ محروم ہو جاتا ہے بلکہ جمہوری نظام بھی کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
جمہوریت کی مضبوطی اسی میں ہے کہ ہر منتخب حکومت کو آئینی مدت پوری کرنے دی جائے، تاکہ وہ ملک و قوم کے لیے دیرپا اور فائدہ مند فیصلے کر سکے۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں اقتدار کا کھیل الٹی سمت میں چل رہا ہے، جو ملکی ترقی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر پاکستان کو ایک مستحکم، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنانا ہے تو سیاسی قیادت کو اپنے رویے بدلنے ہوں گے، مذاکرات کا دروازہ کھولنا ہو گا اور قومی مفاد کو ذاتی مفادات پر فوقیت دینا ہوگی۔


