روشن اور فتح


naseer ahmad

روشن اور فتح بھی ہماری زندگیوں میں ایسی شخصیات ہیں جن کہ نہ عروج کی داستانوں پر یقین آتا ہے اور نہ زوال کی کہانیوں پر۔ دونوں میں تھوڑا بہت سچ تو ہوتا ہی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم لوگ بھی اوسط کاری کا استعمال کرتے ہوئے سچ کے قریب پہنچ ہی جاتے ہیں۔ یعنی جب وہ تباہی کے گڑھے میں گرے ہوتے ہیں تو ہم لوگوں کے ہاتھ خودکار طریقے سے جیبوں کی طرف چلے جاتے ہیں اور جو بھی ریزگاری نکلتی ہے ان کی نذر کر دیتے ہیں اور تباہی کا ملال کم کرنے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں۔ جو کامیاب بھی ہو جاتی ہے۔ اور جب وہ کامیابی کے ہمالے پر جلوہ افروز ہوتے ہیں اور ہمیں وہ ریزگاری واپس مل جاتی ہے اور ہم لوگ کامیابی کی خوب داد دیتے ہیں۔

پچھلے دنوں تو پردیسوں سے فون آنے لگے کہ تم کتنے بے حس ہو۔ ادھر بے چارے روشن کی بھینسوں کے ریوڑ کے ریوڑ مر گئے ہیں اور تمھیں خبر تک نہیں۔ پھر ہمیں معلوم کرنا ہی پڑ گیا۔ تو معلوم یہ ہوا کہ کوئی کٹیا مردہ پیدا ہوئی تھی۔

کبھی کبھی اوسط کاری میں غلطی بھی ہو جاتی ہے۔ یعنی وہ بریگیڈیئر صاحبہ جنھوں نے روشن کے عشق کے غم میں ابھی تک شادی نہیں کی، واقعی بریگیڈیئر صاحبہ ہی ہیں۔ کتنا غلط سوچتے رہے ہیں۔ جب روشن کی زندگی میں وہ لفٹین تھیں، ہمارے ذہن میں وہ لفٹین صاحبہ کے دفتر کے باہر تعینات تھیں۔ جب وہ بریگیڈیئر ہوئیں، تو ہمارے ذہن میں وہ ریسیپشنسٹ ہو گئی تھیں۔ بہرحال، حقائق جاننے کے باوجود اپنی اوسط کاری کو ہم نے یکسر مسترد بھی نہیں کیا ہے۔

اب روشن کا کیا پتا کہ حقائق کے ذرائع کو بھی کنٹرول کر رہے ہوں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے واقعی ایسی کوئی بریگیڈیئر صاحبہ ہیں لیکن غم عشق بس فسانہ ہی ہے۔ پھر روشن کے اشکوں کا ذہن میں آتا ہے کہ اپنی ان خیالی معشوقہ کی یاد میں وہ اتنے اخلاص سے روتے تھے تو خود کو ملامت کرنے لگتے ہیں۔ اب اتنی بھی کیا تشکیک۔ واقعی بریگیڈیئر صاحبہ ہیں اور روشن کے عشق کے غم میں مبتلا بھی۔

اب سالوں بعد فتح سے ملے ہیں۔ اب ان کے طور طریقوں سے لگتا ہے کہ وہاں کے سب سے بڑے وکیل یہی ہیں۔ اس دفعہ ہم نے تشکیک کو مسترد کر دیا ہے اور حقائق کو جوں کے توں مان لیا ہے۔ لیکن کیا کریں، ہم ادھر رہے ہیں، اور بھائی کی انگریزی کا وہی حال ہے جو ادھر کالج میں ہوتا تھا۔ لنڈن کو جنوبی ایشیائیوں نے کوچہ دلدار بنا تو لیا ہے لیکن شنید ہے کہ پھر بھی پڑھے لکھے شعبوں میں ابھی تک لنڈن غیر رہنے پر ہی مصر ہے۔ امید یہی ہے کہ ہم نے غلط سنا ہو اور بھائی واقعی وہاں کے سب سے بڑے وکیل ہی ہوں۔ اور وہاں کے مشہور وکیل الفاظ صاحب کو میلوں پیچھے چھوڑ دیا ہو۔

فتح کی بہرحال بڑی مہربانی ہے کہ ہم نامرادوں سے ملنے کے لیے اپنا قیمتی وقت نکالا لیکن گفتگو کا مرکز نامرادی ہی رکھا۔ ابھی تو حال دل پر ہنسی آنے لگی تھی تو وہ رلانے چلے آئے۔ ایک فاصلہ ہمارا اور مقامیوں کے درمیان موجود ہے۔ ان کے ذہن میں کچھ ایسا ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کچھ ایسے ضائع کی ہے کہ ہمیں ہر وقت معذرت خواہ اور مصروف گریہ رہنا چاہیے۔ ادھر ہم ہیں کہ یہی سوچتے ہیں کہ کتنے بے وقوف ہیں یہ لوگ۔ ایسا بھی کیا ہو گیا کہ ماحول کو ہر وقت رشک قبرستان کیے رکھیں۔ اچھی خاصی تو زندگی ہے۔

تو فتح کہنے لگے۔
سنا ہے بادیوں میں تنہا گھومتے رہتے ہو۔ کسی سے ملتے جلتے نہیں۔ کیا ہوا؟

بس یار، آج کل ابتدائے نوع پر سوچ رہے ہیں۔ جانو کہ معمہ حل ہو گیا۔ ہم بڑے دنوں سے سوچ رہے تھے کہ بندروں سے ارتقا کی تھیوری ادھر جنوبی ایشیا میں فٹ ہوتی نظر نہیں آتی۔ ہم یہ سوچ رہے تھے ہو نہ ہو اپنے لوگوں نے بندروں کی بجائے کتوں سے ارتقا کیا ہے۔ کل ایک بڑی بوڑھی گالیاں دے رہی تھی تو گالیوں کے مضامین پر غور کیا تو عقدہ سلجھ گیا۔

یعنی؟
سور نے جنائے کتے نے پتر۔ (سور کی جنی اولاد سگ)
ہر وقت ہنسی مذاق۔ واپس آ جاؤ۔
مسئلہ ہی حل ہو گیا۔ تم اپنے دفتر میں ہمیں تعینات کر دو۔ اچھے اچھے ڈرافٹ لکھ کے تمھیں دیتے رہیں گے۔

اس کے بعد تو فتح نے ہمارے معاملات ایسے سیدھے کیے کہ فردوس بھی کہیں پیچھے رہ گئی۔ وہ ہماری زندگی خوشنما ترین کرتے رہے اور ہم ان کے دعووں کی اوسط نکالتے رہے۔ نہ صرف ہماری زندگی سدھری بلکہ یونانی بھائی کی بھی سدھر گئی۔ اور فتح کے پاس کچھ وقت ہوتا تو ستاروں میں بیل بوٹے اور نقش و نگار بن جاتے اور شاعروں کے گلے ختم ہو جاتے۔

پھر کامران نے قاضی شمس دین کے مسئلے چھیڑ دیے۔ فوجی لوگوں کا کہتے ہیں کہ جو چیز کھڑی دکھائی دیتی ہے اسے سلیوٹ کرنے لگتے ہیں اور جو زمین پر بچھی نظر آتی ہے اس پر چونا پھیرنے لگتے ہیں۔ تو قاضی صاحب کا ان دنوں یہ فارمولا تھا کہ جو بھی چیز ذرا ٹیڑھی نظر آئے اس کو کچھ نہ کچھ رسید کر دو۔ مکا، لات، تھپڑ یا طمانچہ۔ اب تو بات اور ہے لیکن اس وقت تو بڑی خون ریزی کی تھی دوستوں نے۔

پھر فتح نے کسی خاندانی جھگڑے کی روداد سنائی۔ جس میں دونوں پارٹیوں کی طرف سے بہت بڑے بڑے افسران بالا شامل تھے۔

وہ ڈائریکٹر جنرل کہیں اور ہماری اوسط کاری معاملہ کانسٹیبل تک لے آئے۔ بس اسی کھینچ تان میں وقت گزر گیا۔

اب رابطہ قائم رکھنے کے بڑے پیمان ہوئے ہیں۔ لیکن زندگی کا اپنا طور ہے۔ اوسط نکالیں تو ایک آدھ عشرے کے بعد اگر زندہ ہوئے تو ملاقات ہو جائے گی۔

Facebook Comments HS