ستتر سال سے ایک سوال : اب کرنا کیا ہے؟


قیام پاکستان کے فوراً بعد لوگ ایک دوسرے سے سوال کرنے لگے کہ ہم نے پاکستان تو بنا لیا لیکن ’اب کرنا کیا ہے؟‘ اس ایک سوال نے درجنوں نئے سوال پیدا کر دیے۔ یہ بحث شروع ہو گئی کہ نو تخلیق پاکستان جس نئے سفر آغاز کرے گا اس کی سمت کیا ہو گی؟ سیاسی نظام، جمہوری ہو گا یا آمرانہ؟ طرز حکومت، صدارتی ہو گی یا پارلیمانی؟ ریاست، سیکولر ہو گی یا مذہبی، اس کی ہیئت وحدانی ہو گی یا وفاقی؟ ترقی اور استحکام کے لیے کس طرح کا معاشی نظام اپنایا جائے گا؟ دوستی کس ملک سے ہو گی اور کس سے نہیں، تجارت کس سے کریں گے کس سے نہیں؟ تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی اعتبار سے ہم خود کو ، جنوبی ایشیا کا حصہ تصور کریں گے یا ہماری شناخت کا حوالہ مغربی ایشیا ہو گا؟ عالمی سیاست میں غیر جانبدار رہیں گے یا کسی بلاک کا حصہ بنیں گے؟ کسی کا کہنا تھا کہ خرابی کی جڑ، مغرب کی تقلید ہے جس سے ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملے گا، دوسرا نقطہٴ نظر تھا کہ عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہماری ضرورت ہے۔ جدید دور کے افکار کو مغربی قرار دے کر مسترد کر نا تباہ کن ہو گا اور ترقی کی دوڑ میں ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے۔

1947 سے جاری اس بحث نے 1970 تک ملک کے مشرقی اور مغربی بازو کے درمیان شدید محاذ آرائی اور سیاسی خلیج پیدا کر دی جو بالآخر پاکستان کے دو لخت ہونے پر منتج ہوئی۔ اتنے بھیانک تجربے سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ آج 2025 میں بھی ہماری گلیوں، کوچوں، چوباروں، اہل دانش کی محفلوں، اشرافیہ کے پرشکوہ محلوں اور اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں یہ بحث بدستور جاری ہے۔

ہمیں اس امر پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ پون صدی گزرنے کے بعد بھی ہم اپنے مستقبل کے لیے کسی راہ کا تعین کیوں نہیں کر سکے؟ بات کا آغاز اس نکتے سے کرنا ہو گا کہ آزادی سے قبل کے انتہائی اہم برسوں میں مسلم لیگ کی جانب سے کوئی ایسا آئینی خاکہ کیوں تیار نہیں کیا جا سکا جس سے واضح ہو جاتا کہ نئی تشکیل شدہ ریاست اور اس میں شامل اکائیوں کے درمیان باہمی تعلق کی کیا نوعیت ہو گی اور مملکت کا نظام، کن آئینی اصولوں، قوانین، ضابطوں اور منتخب جمہوری اداروں کے تحت چلایا جائے گا۔ اگر یہ کام ہو جاتا تو قیام پاکستان کے فوراً بعد دستور سازی کا عمل با آسانی شروع کیا جا سکتا تھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئی آئینی خاکہ مرتب کیوں نہ کیا جا سکا؟ اس حوالے سے کئی وجوہ سامنے آتی ہیں۔ پہلی وجہ یہ تھی کہ 1947 سے کئی سال پہلے تک یہ بات حتمی نہیں تھی کہ ہندوستان کو تقسیم کر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک تخلیق کر دیا جائے گا اور اس متنازعہ مسئلہ پر برطانیہ اور نیشنل کانگریس اتفاق کر لیں گے۔ اس وقت یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اگر پاکستان بن جاتا ہے تو کیا تمام مسلم اکثریتی صوبے مکمل طور پر اس کا حصہ ہوں گے یا انہیں بھی فرقہ ورانہ بنیادوں پر تقسیم کر دیا جائے گا۔ کسی ابتدائی آئینی خاکے کی تیاری میں ایک بڑی رکاوٹ، قائد اعظم اور مسلم لیگ کی یہ اولین ترجیح بھی تھی کہ پاکستان کی تخلیق کے لیے، ہندوستان کے مختلف حصوں میں آباد اور متنوع نسلی، لسانی، ثقافتی، تہذیبی اور مسلکی شناخت رکھنے والے مسلمانوں کو پہلے ایک قوم کے نعرے پر متحد کیا جائے۔ کسی آئینی میثاق کا معاملہ اٹھانا ان کے درمیان تنازعات پیدا کر سکتا تھا لہٰذا ایسا کرنے سے گریز کیا گیا۔ یہ وہ عوامل تھے جن کے باعث امکانی طور پر وجود میں آنے والے پاکستان کے لیے کوئی جامع آئینی خاکہ تشکیل دینا ممکن نہ ہو سکا۔

پاکستان کے برعکس، ہندوستان کو اس نوعیت کے مسائل کا سامنا نہیں تھا۔ انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت کو یقین تھا کہ دوسری جنگ عظیم کے غیر معمولی مالی دباؤ کے باعث برطانیہ بہت جلد ہندوستان کو تقسیم کیے یا کیے بغیر، آزاد کرنے پر مجبور ہو جائے گا لہٰذا کانگریس نے 1947 سے قبل ہی آئین کی تیاری کا کام شروع کر دیا تھا۔ دلت رہنما ڈاکٹر امبیڈکر کی سربراہی میں قائم ڈرافٹ کمیٹی نے 1946 میں اپنا کام شروع کیا اور نومبر 1949 میں دنیا کا طویل ترین تحریری آئین مکمل کر لیا جسے 26 جنوری 1950 کو نافذ کر دیا گیا۔ اس طرح ہندوستان پائیدار جمہوریت کی راہ پر گامزن ہو گیا۔

تاہم، پاکستان کے حوالے سے زیادہ غور طلب امر یہ ہے کہ آزادی کے بعد بھی آئین سازی کا عمل غیر معمولی تا خیر اور مسائل کا شکار کیوں رہا؟ اس ضمن میں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہو گی کہ اس کام کے لیے درکار اہلیت اور طاقت، قائد اعظم کے علاوہ کسی اور مسلم لیگی رہنما کے پاس موجود نہیں تھی۔ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس 10 اگست 1947 کو کراچی میں منعقد ہوا، 11 اگست کو قائد اعظم کو اسمبلی کا صدر منتخب کر لیا گیا جنہوں نے پاکستان کے شہریوں اور اقلیتوں کے بنیادی حقوق سے متعلق ایک کمیٹی قائم کی جسے اسمبلی میں ضروری قانون سازی کا عمل بھی سر انجام دینا تھا۔ 15 اگست کو قائد اعظم نے ملک کے پہلے گورنر جنرل کے عہدے کا حلف اٹھا لیا اور نئے آئین کی تیاری تک نو تخلیق ریاست کا انتظام و انصرام، گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ مجریہ 1935 کے تحت چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن بعد ازاں، ایک بڑا المیہ یہ رونما ہوا کہ آزادی کے بعد ، قائد اعظم مستقل علالت کے باعث صرف تیرہ ماہ زندہ رہ سکے لہٰذا آئین سازی کے حوالے سے کوئی نتیجہ خیز پیش رفت نہ ہو سکی۔

ان کی رحلت کے بعد ریاست کے ان طاقت ور عناصر کی جانب سے اقتدار پر قبضے کی خطرناک رسہ کشی شروع ہو گئی جن کے مخصوص مفادات کا تقاضا تھا کہ اقتدار اعلیٰ کو کسی بھی قیمت پر عوام کی منتخب کردہ پارلیمنٹ کے پاس منتقل ہونے سے روکا جائے اور اس مقصد کے لیے آئین سازی کے عمل میں ہر ممکن رکاوٹ ڈالی جائے۔ تمام تر تاخیری حربوں کے باوجود دستور ساز اسمبلی نے 1954 میں آئین کا مسودہ تیار کر لیا جسے حتمی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا تھا۔ اس عمل سے فرار کی جب کوئی راہ نہ ملی تو اکتوبر 1954 میں اس وقت کے گورنر جنرل اور بیوروکریٹ غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی تحلیل کر دی لیکن محمد علی بوگرہ کو وزیراعظم رہنے دیا۔

اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیزالدین خان نے اس فیصلے کو سندھ چیف کورٹ میں چیلنج کیا، عدالت نے اسمبلی کی تحلیل غیر قانونی قرار دی، وفاق نے فیصلے کے خلاف فیڈرل کورٹ میں اپیل کی جو منظور کر لی گئی۔ جسٹس منیر کے سیاہ فیصلے نے پاکستان میں آئین اور قانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کی رہی سہی امید بھی ختم کردی۔ غلام محمد نے صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے نئی دستور ساز اسمبلی بنائی جس نے بڑے دباؤ اور سمجھوتوں کے بعد 1956 کا آئین بنا لیا جس کے تحت 1959 کے اوائل میں عام انتخابات ہونے تھے لیکن صدر میجر جنرل اسکندر مرزا نے شب خوں مارا اور آئین منسوخ کرتے ہوئے 7 اکتوبر 1958 کو مرکزی و صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر کے کمانڈر ان چیف جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔

1948 سے 1958 تک بڑی مشکل سے دو آئین بنے اور تحلیل کر دیے گئے۔ مارچ 1969 میں جنرل ایوب مستعفی ہوئے، جنرل یحیٰی خان نے مارشل لا لگایا، 1970 میں ملک میں پہلے عام انتخابات منعقد ہوئے، عوام نے پارلیمنٹ منتخب کی جسے اقتدار منتقل نہیں کیا گیا اور ملک 16 دسمبر 1971 کو ٹوٹ گیا۔

1973 میں نیا آئین بنا، 1977 میں جنرل ضیا نے اسے چند صفحوں کا چیتھڑا کہا اور اقتدار پر نہ صرف غاصبانہ قبضے کیا بلکہ باقی ماندہ ملک کا پہلا آئین بنانے والے منتخب وزیر اعظم کا عدالتی قتل بھی کرا دیا۔ ضیا الحق کے بعد 58/2 بی کے ذریعے پارلیمنٹ اور وزرائے اعظم کو بے توقیری کیا جاتا رہا۔ 1999 میں براہ راست اقتدار کی ہوس پھر جاگی اور جنرل پرویز مشرف نے زمین پر بیٹھے وزیر اعظم کو ہائی جیکر قرار دے کر جیل کی کال کوٹھری میں پھینک دیا۔ جنرل پرویز مشرف کے جانے کے بعد بھی بالواسطہ مداخلتوں کے ذریعے پارلیمنٹ کی بالا دستی قبول نہیں کی گئی تاکہ ملک، عوامی امنگوں کے مطابق اپنے مستقبل کی راہ متعین نہ کر سکے۔

جن ملکوں نے مسیحاؤں کا انتظار نہیں کیا اور منتخب ایوانوں کے ذریعے اپنے عوام کی اجتماعی دانش سے رہنمائی لی اور فیصلے کیے وہ ترقی کرتے چلے گئے۔ کیسا المیہ ہے کہ ہماری پارلیمنٹ آج بھی اپنی بالا دستی کے لیے چومکھی جنگ لڑ رہی ہے۔

ذرا سوچیے، ہم 77 سال کسی مسیحا کے انتظار میں برباد کرنے کی بجائے اگر پارلیمنٹ کی بالا دستی قائم کر لیتے تو آج حالات کتنے مختلف ہوتے۔ پاکستان نہ صرف متحد رہتا بلکہ ایک صنعت یافتہ ملک بن چکا ہوتا اور ہم ایک دوسرے سے یہ سوال کر کے شرمندہ بھی نہ ہو رہے ہوتے کہ اب ہمیں ’کرنا کیا ہے۔ جانا کہاں ہے‘ ؟

Facebook Comments HS

ندیم اختر، سندھ

ندیم اختر ہے کی دلچسپی کے شعبے تصنیف و تالیف، صحافت اور ترجمہ نگاری نیز قومی اور عالمی امور ہیں۔ ندیم اختر سندھ نیشنل سٹو ڈنٹس فیدریشن کے بانی سینئر نائب صدر رہے ہیں جس کے بانی صدر جام ساقی تھے۔ ملک کی جمہوری اور قومی حقوق کی جدوجہد میں شریک رہے، کئی جریدوں کی ادارت کر چکے ہیں، ڈاکٹر کامران اصدر علی، ڈاکٹر احمد یونس صمد، ڈاکٹر ناظر محمود، ڈاکٹر جعفر احمد کی کتابوں کے علاوہ ڈاکٹر مبارک علی اور دیگر دانشوروں کی تصانیف اور مضامین کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔

nadeem-akhtar-sindh has 19 posts and counting.See all posts by nadeem-akhtar-sindh

3 thoughts on “ستتر سال سے ایک سوال : اب کرنا کیا ہے؟

  • 12/01/2025 at 9:05 شام
    Permalink

    ہم سب کی اچھی بات یہ ہے کہ بعض لوگوں کا اتنا مفصل تعارف موجود ہوتا ہے کہ سمجھ آجاتی ہے کہ اس دیگ کے چاول کیسے ہونگے اور لکھاری کی چول کی کیا وجوہات ہیں۔
    ۔
    کاش ماضی کے یہ پیپلے دو حرف ان صاحب پر بھی بھیج دیتے جو 1977 کے الیکشن کے دوران ملک بھر کے سینکڑوں جوانوں کے کرفیو کے نام پر قتل میں ملوث تھا۔ سقوط ڈھاکہ اور 1970 کے الیکشن کے نتائج کو مسترد کرنے کا ذمہ دار تھا اور سب سے بڑھ کر پاکستان کی ترقی کرتی معیشت کو بنک سے لیکر انڈسٹریز اور تعلیمی ادارے قومیا کر زمین پر پٹخنے کا ذمہ دار۔۔۔۔۔
    ۔
    کاش یہ نام نہاد لکھاری اپنی آنکھوں پر لگے کھوپوں کو ہٹاکر وہ کچھ بھی دیکھ اور لکھ لیا کریں جس سے یہ کنی کتراجاتے ہیں۔
    ۔
    اللہ جانے 1958 تک کون سے دو آئین تحلیل ہوئے۔
    ۔
    Selective Trurh

    • 12/01/2025 at 10:33 شام
      Permalink

      Truth

    • 13/01/2025 at 11:02 صبح
      Permalink

      درست لکھا ہے پی پی کے جیالے دروغ گوئی اور حقائق کو اپنی مرضی کے معنی پہنانے میں اپنی مثال آپ ہیں۔ بانی پی پی نے اپنی سیاست پہلے میجر جنرل ریٹائرڈ اسکندر مرزا کی چاپلوسی سے شروع کی۔اور جب اسکندر مرزا کو ایوب خان نے باہر کا رستہ دکھایا تو اسکندر مرزا سے طوطا چشمی کر کے ایوب خان کو ڈیڈی بنا لیا۔

      ایوب خان نے باسٹھ کا آئین نافذ کیا اور صدارتی انتخابات کرواۓ جس میں بانی پی پی ایوب خان کے پولنگ ایجنٹ تھے اور محترمہ فاطمہ جناح پر رکیک نجی نوعیت کے الزامات لگاتے رہے۔

      ستر کے انتخابات میں بانی پی پی نے اکثریتی جماعت کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا اور فوجی حکمرانوں کے ہم قدم رہے۔

Comments are closed.