تاریخی نقطہ نظر سے ہندوستانی مسلمانوں کا اصل مسئلہ


اپنے ایک کالم میں میں نے ہندوستان کے مسلمانوں کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کا درست فہم حاصل کرنے کے لئے مختلف زاویے موجود ہیں اور اس کو محض مذہب اور شناخت کی لڑائی قرار دینا نا انصافی ہو گی۔ اس کالم میں معاشی زاویے سے ان کے مسائل کی جانچ کی گئی تھی۔ اگر ہندوستانی مسلمانوں کو درپیش مشکلات کو سمجھنا ہے تو اس واسطے ہمیں ہندوستانی مسلمانوں کو بھی سمجھنا ہو گا وگرنہ اس موضوع پر ہماری گرفت مضبوط نہیں ہو سکتی۔ ہندوستانی مسلمانوں کو جاننے کے لئے تاریخ معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے لئے ہمیں ہندوستانی تاریخ کی ایک مشہور تھیوری آریائی حملہ آوروں کو سمجھنا ہو گا۔

اس نظریے کے حوالے سے کافی اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہ نظریہ ہندوستان میں برطانوی سامراج کے تسلط کے دوران میکس ملر نے 1850 میں پیش کیا جس کے مطابق بحر کیسپین کے گرد و نواح میں مقیم آریائی حملہ آوروں کی ایک شاخ یورپ روانہ ہوئی جبکہ دوسری ہندوستان، تقریباً 1815 قبل از مسیح کے دوران۔ جو شروعات میں پنجاب میں آباد رہی پھر گنگا جمنا کے علاقوں میں ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھی۔

اس کو دائیں بازو کے ہندو تاریخ دان رد کرتے ہوئے ایک متبادل تاریخ پیش کرتے ہیں جو ان کے بیانیے کو زیادہ بھاتی ہے جس کی وجہ میں نے ہندوستانی مسلمانوں پر لکھے کالم میں بھی بیان کی اور ہندوستان کی آزاد تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے اس کی وجوہات مزید واضح ہو جائیں گی۔ ہندوستان کے دائیں بازو کے تاریخ دان اپنی تاریخ کو بطور قدیم پیش کرنا چاہتے ہیں کیونکہ برطانوی دور حکومت میں ہندوستان کی جو آزاد تاریخ سامنے آئی اس کے مطابق ہندوستان میں تاریخی لحاظ سے خاطر خواہ ترقی دیکھنے کو نہیں ملی جس کی مناسب وجوہات موجود ہیں جیسے یہاں کے لوگوں کا یہ ماننا تھا کہ تاریخ ایک چکر کی صورت میں خود کو دہراتی ہے اس لئے ہمارے اعمال کی خاص وقعت نہیں۔ بہر حال، ہندوستان کی اصل تاریخ آریاؤں کی بدولت ہی شروع ہوتی ہے جو اس خطے میں عوام الناس کی تباہی کا باعث بنے۔ یہ اچھی جسامت کے گھڑ سوار جنگجو تھے جو وسط ایشیا کے باشندے تھے۔ ہڑپہ کے وارث سانولی رنگت کے لوگ تھے۔

ہندوستانی تاریخ کی کھوج کی شروعات میں بعض مورخین جیسے کہ میکس ملر کا خیال تھا کہ آریائی ہندوستان پر حملہ آور ہوئے تھے لیکن جیسے جیسے ہندوستانی تاریخ بذریعہ تحقیق مزید ارتقاء سے گزر رہی ہے تو اس بات پر زیادہ تر لوگ متفق نظر آتے ہیں کہ آریائی حملہ آور نہیں ہوئے تھے بلکہ وہ گروہی صورت میں ہندوستان آئے جیسے کہ علم بشریات کے مطابق زراعت کی ترقی سے پہلے شکار کے دور میں انسان ہمہ وقت ہجرت کا حامل تھا تاکہ اس کی خوراک کا بندوبست بھی ہو سکے اور جنگلی جانوروں سے حفاظت بھی ممکن ہو پائے۔ بالکل اسی طرح آریائی بھی معاشی و دفاعی ضرورت کے تحت ہمہ وقت ہجرت کے قائل تھے اور جس کی بدولت وہ ہندوستان آئے۔ مضحکہ خیز طور پر دائیں بازو کے تاریخ دان آریاؤں کو ہندوستانی بتاتے ہیں، اور آج جب ڈی این اے ٹیسٹنگ کی بدولت ہندوستان کے براہمنوں اور مزید اونچی ذاتوں کے افراد میں وسطی ایشیائی عنصر معلوم ہوتا ہے تو من گھڑت نظریات پیش کیے جا رہے ہیں کے آریائی ہندوستان سے وسط ایشیا گئے پھر کچھ عرصے بعد ہندوستان واپس آ گئے۔ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے سو جھوٹ بولے جا رہے ہیں اور مقصد صرف ایک ہے کہ تاریخ کو استعمال کرتے ہوئے ہندوستان میں مقیم مختلف اقوام اور خود کو یکساں طور پر پیش کیا جائے تاکہ شناخت کے اختلاف کو رد کیا جائے اور شناخت کی بنیاد پر حاصل ہونے والے آئینی تحفظ کو ہندوستانی اقلیتوں سے چھینا جائے۔ لیکن آریاؤں کے ہندوستان آنے اور ان کے ہندوستان کے مقامی باشندوں یعنی دراوڑوں کو تباہ کرنے سے ہندوستانی مسلمانوں اور باقی اقلیتوں کا تاریخی پس منظر واضح نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ ہندوستان کے اونچی ذات کے باجبروت مقتدروں کے ساتھ شناخت کے اختلاف کے لئے بطور تاریخی دلیل کافی ہے۔ آریائی پنجاب پر حملہ آور ہونے کے بعد کافی عرصہ وہاں مقیم رہے جسے ویدک کال یا ویدک دور کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد آریائی تقریباٌ 2000 سال قبل پنجاب سے ہجرت کر کے گنگا دریا کے کنارے آباد ہو گئے جس کے بعد رگ ویدک دور شروع ہوا جس میں راماین، مہا بھارت جیسے بے مثال قصے تحریر کیے گئے۔ یہی وہ دور تھا جس میں ہندوؤں کی مقدس کتابیں سامنے آئیں جیسے پران، گیتا، سام وید، یجر وید، اتھر وید اور اپنشد وغیرہ۔ اگر ہم رامائن کا مطالعہ کریں تو ہمیں آریاؤں کی گنگا جمنا میں آمد سے قبل اور بعد کے کچھ مواخذات ملتے ہیں جو اس وقت کی صورتحال کی بہترین عکاس ہیں۔ جیسے اندرا بھگوان کو شہروں کو تباہ کرنے والا خدا کہا جاتا ہے۔ رامائن میں اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ اندرا بھگوان نے کیسے اسروں کو جنگ میں شکست دی اور انھیں تباہ کیا۔ یہاں اسروں سے مراد دراوڑ قوم ہے جس کو اپنی مقدس کتاب میں ہندو بطور شیطان پیش کرتے ہیں۔ رامائن میں ہی اسروں کو بندھی بنانے کا ذکر ملتا ہے اور ان کے ساتھ گنگا کی وادیوں میں آبادکاری کا بھی تذکرہ ہے۔

آریاؤں نے نہ صرف ہڑپہ کی تہذیب کو ملیامیٹ کیا بلکہ اس قوم کے کئی افراد کو اپنی طاقت کے زور پر غلام بھی بنایا اور ذات پات کا استحصالی نظام قائم کیا جس کے تحت ان کو زبردستی مزدوری کے پیشوں سے منسلک اور منسوب کیا گیا۔ آج بھی ہندوستان کے کئی مسلمانوں کے نام کے آخر میں ان کے پیشے لکھے جاتے ہیں جو ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ تاریخی طور پر ہونے والی نا انصافی کا آئینہ دار ہے۔ آریاؤں نے بلند مرتبے کے حامل شعبے ذاتی طور پر اختیار کیے جیسے، مذہبی پیشوائیت، تجارت اور فوجداری کے معاملات جبکہ دراوڑوں اور ہڑپہ کے وارثوں کو زبردستی اپنے مفاد کے لئے کھیتی باڑی اور دوسری ملازمتوں کے ساتھ مختص کر دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حالات کے ساتھ تبدیلی آ رہی ہے لیکن ہندوستان کے ہندو انتہا پرست آج بھی اپنے قائم کردہ استحصالی سماجی آرڈر کی تعریف کرتے نہیں تھکتے اور ببانگ دہل کہتے پھرتے ہیں کہ وہ ہندوستان کا سنہری دور واپس لانا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کا تعلق درواڑ قوم سے نہیں۔ جیسا کہ وسط ایشیا جیسے افغانستان اور ایران سے بھی مسلمانوں نے ہندوستان ہجرت کی، ان میں سے اکثریت آج بھی اثر و رسوخ کی حامل ہے اور وہ ہمیں ہندوستان کی سیاست، معاشرت، تجارت اور دیگر معاملات میں نمایاں کردار ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس لئے جب ہندوستان کے مسلمانوں کی بات کی جائے تو اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ کن مسلمانوں کی بات کی جا رہی ہے کیونکہ ہندوستانی مسلمانوں میں بھی طبقات موجود ہیں۔ سب سے اونچے درجے سے تعلق رکھنے والے اشراف کہلاتے ہیں، متوسط طبقے والے ارذال اور مسلمانوں کا پسماندہ طبقہ اذلاف کہلاتا ہے۔

میرے اس مضمون کا محور بھی اذلاف ہیں جو ہندوستان کے اصل باشندے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں ہم سنتے ہیں کہ جو صوفیوں کے پیار اور انسانیت کے درس سے متاثر ہو کر مسلمان ہوئے۔ غرض یہ کہ ہندوستان کا مسلمان ہی نہیں بلکہ تمام اقلیتیں جنھوں نے اونچی ذات کے ہندوؤں سے متنفر ہو کر خود کو الگ کرنے کے لئے اور مختلف پیغامات سے متاثر ہو کر مسیحیت، بدھ ازم وغیرہ اختیار کی، ان کو ہندوستان کے انتہا پسند ہندو اور دائیں بازو کے تاریخ دان یکساں پیش کرنے کے خواہاں ہیں جبکہ تاریخی لحاظ سے حقیقت اس کے برعکس ہے۔

Facebook Comments HS