پی ایچ ڈی یورپ اور ہم ( 3 )
ہم گریٹ فاریسٹ پراپرٹی میں قریباً ایک گھنٹہ لگانے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ کل صبح ان شاء اللہ مکان دیکھنے جائیں گے، مسٹر جو نے مالک مکان سے ملاقات کا وقت طے کرنے کا وعدہ کر لیا۔
میڈم سحر کے اسٹوڈیو اپارٹمنٹ کے لئے ہمیں کوئی آپشن گریٹ فاریسٹ سے نہیں مل سکا، ہم ایک اور پراپرٹی آفس گئے اس دفتر کا نام نیٹ ہوم پراپرٹی تھا اور یہ ایجاٹم شُگا روٹ پر واقع تھا، ایجاٹم ہنگیرین زبان میں یونیورسٹی کو کہتے ہیں جبکہ شُگا روٹ یعنی سیدھی بڑی سڑک۔ نیٹ ہوم پر ہماری ملاقات سینڈرا نامی خاتون سے ہوئی، سینڈرا تقریباً 28، 30 سالہ اوسط قد کی بلونڈ بالوں والی مناسب شکل خاتون تھیں، بلونڈ یعنی بُھورے یا براؤن بالوں والی، عام طور پر یورپ میں بلونڈ لڑکیوں کو زیادہ خوبصورت سمجھا جاتا ہے اور ان کو سیاہ کاکُل والی دوشیزاؤں پر ترجیح دی جاتی ہے، لہٰذا یورپ کے شعراء سیاہ زلفوں کا شاید استعمال کم ہی کرتے ہوں، اب سوچئے کہ اگر برصغیر پاک و ہند میں بھی بلونڈ زلفوں والی دوشیزائیں ہوتی تو ہمارے شعراء کی مشکلات بڑھ نہ جاتیں۔
سُنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی
سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
کہ فراز صاحب اپنی معرکۃ الآرا غزل کے اس شعر میں زلفِ محبوب کو رات کے علاوہ کس سے تشبیہ دیتے، اور فیض صاحب
جانے اس زلف کی موہوم گھنی چھاؤں میں
ٹمٹماتا ہے وہ آویزہ ابھی تک کہ نہیں
اپنی معروف نظم موضوع سخن کے اس شعر میں میں بلونڈ زلفوں سے گھنی چھاؤں میں آویزے کے ٹمٹمانے کا منظر کیسے کھینچتے، یہی نہیں بلکہ نندیں بھابھیوں پر اور بھابھیاں نندوں پر اپنے بلونڈ بالوں کی وجہ سے رُعب دکھاتیں اور دیورانی جیٹھانی کو اس کی سیاہ زلف ہونے پر کمتر سمجھتی لہٰذا اب سمجھ آیا کہ قدرت کے ہر کام میں مصلحت پوشیدہ ہے۔
سینڈرا ہمیں ایک اپارٹمنٹ دکھانے کے لئے لے گئی، پیدل ہی جانا تھا، وہ خاصا تیز چل رہی تھی اور ہماری سانس پھول جاتی تھی، یورپ میں عام طور پر لوگ دن میں 5 کلومیٹر کے قریب پیدل چل ہی لیتے ہیں اور ہمیں پیدل چلنے کی عادت نہ تھی جو کہ بعد میں ہو گئی۔ ابھی ہم راستے میں ہی تھے کہ ایک عرب جوان نے ہمیں سرِ راہ رُکنے پر مجبور کر دیا نہ فقط یہ کہ ہمیں روک لیا بلکہ ہمیں ہکا بکا و حیران کر دیا، وہ تو سینڈرا کے ساتھ لپٹ ہی گیا جیسے سالوں کا ہجر و فراق اب کہیں جا کر وصل میں بدلا ہو، جب ہم نے فرانسیسی انداز کا بوس و کنار دیکھا تو منہ دوسری جانب کرنے کے سوا اور کچھ نہ سُوجھا، یہ ہمارے لئے یورپی تہذیب کے اِس زاویے کی پہلی جھلک تھی، کچھ دیر معانقے کے بعد سینڈرا اور اس کا بوائے فرینڈ جُدا ہو گئے۔
سینڈرا نے بہت فخر سے اس کا تعارف کروایا تھا، میں نے پوچھا کہ یہ تمہارا شوہر ہے تو کہنے لگی کہ نہیں نہیں بوائے فرینڈ ہے ہمیں اس تعلق میں 4 سال ہو گئے ہیں اور ہم 2018 میں یعنی مزید 3 سال بعد شادی کر لیں گے پتہ نہیں یہ تعلق شادی میں بدلے کہ نہ بدلے کیوں کہ ہمارے 3 سالہ قیام میں ہم نے کئی سینڈراؤں کو شادی کے دِلاسے پر اس تعلق کو مجبوراً نبھاتے اور پچھتاتے دیکھا مگر وہاں کی خواتین مجبور ہیں کہ اس کے بغیر رشتۂ ازدواج بھی قائم نہیں ہوتا، اکثر لڑکیاں شادی کرنے اور گھر بسانے کے لئے مجبوراً نہ چاہتے ہوئے بھی اس غلیظ تعلق کو قائم رکھتی ہیں اور پھر گھر بھی آباد نہیں ہو پاتا مگر ان بے چاریوں کے پاس اور کوئی حل بھی تو نہیں ہے۔
سینڈرا نے ہمیں ایک اپارٹمنٹ دکھایا جس میں ایک عمر رسیدہ ہنگیرین رہائش پذیر تھا اور وہ ایک کمرہ پیئنگ گیسٹ کے طور پر دینا چاہتا تھا، اس بزرگوار نے بہت اصرار کیا کہ یہ ایگریمنٹ ہو جائے مگر ہمیں ڈاکٹر سحر ذوالفقار صاحبہ کے لئے وہ مناسب نہیں لگا، اس کے بعد سینڈرا نے ہمیں ایجاٹم شگا روٹ پر ایک اپارٹمنٹ دکھایا جو بہتر تھا۔ اپارٹمنٹ کے مالک سے ملاقات کا وقت اگلے دن کا طے ہوا۔ ہم نے سوچا کہ سٹی سینٹر چلتے ہیں ٹریم میں بیٹھے تو 300 فارنٹ کا ایک سِنگل ٹکٹ تھا یعنی تقریبآ 130 پاکستانی روپے کے برابر، ہنگری میں یورو اور ہنگیرین فارنٹ دونوں ہی بطور کرنسی استعمال ہوتے تھے۔
ہم ٹرام میں سوار ہوئے تو جلدی جلدی میں لوگوں سے ٹکرانے لگے جسے بہت معیوب سمجھا گیا اور سمجھ آئی کہ جتنی بھی بِھیڑ ہو یہاں کم از کم 2 فٹ فاصلہ رکھنا بہت ضروری ہے، ٹرام ٹرانسپورٹ کا بہت اعلیٰ ذریعہ ہے، کاش ہمارے شہروں میں بھی ٹرامز چل رہی ہوتیں تو شاید سڑکوں پہ دوڑتی گاڑیوں کی تعداد اور آلودگی دونوں میں کچھ کمی واقع ہو جاتی۔
سٹی سینٹر اسٹاپ پر اترتے ہی ہماری نظر بِگ یلو چرچ پر پڑی، پِیلے رنگ کا یہ چرچ 1805 سے 1826 کے درمیان تعمیر ہوا تھا، لیکن اس کی عمارت دیکھ کر یُوں لگتا تھا کہ جیسے چند سال پہلے ہی تعمیر ہوا ہو، یعنی عمارت بہت سنبھالی ہوئی تھی فقط یہ عمارت ہی نہیں بلکہ یورپ میں ہم نے ہر پبلک پراپرٹی کو یوں ہی دیکھا، لوگ پبلک پراپرٹی کو اپنی ذاتی املاک کی طرح ہی سنبھالتے ہیں، یہ چرچ کیلونسٹ پروٹسٹنٹ عقائد کے پیروکاروں کی عبادت گاہ تھا، اس کی تاریخ 1805 سے بھی قدیم ہے کہ یہاں پر 1297 میں ایک چرچ تعمیر ہوا تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ تعمیرِ نو کے نتیجے میں اب گریٹ ریفارمڈ چرچ یا عرف عام میں بِگ یلو چرچ کے طور پر وجود پذیر تھا، اس چرچ کے سامنے ایک بڑا کُھلا سا میدان اور فوارہ تھا جس کے گرد بیٹھنے کے لئے کچھ لکڑی اور لوہے کی کرسیاں تھیں، ہم اکثر یہاں آ کر بیٹھا کرتے اور دھوپ سے لطف اندوز ہوتے۔ یلو چرچ کے دائیں ہاتھ کی جانب عمارات جبکہ بائیں جانب ٹرام لائن تھی اور ٹرام لائن کی دوسری جانب عمارات کی قطار تھی۔
کچھ ہنگیرین فارنٹ ہم نے حُسام بھائی کے ذریعے ایک منی چینجر سے لئے تھے جو کہ خاتمے کے قریب تھے۔ سٹی سینٹر میں ایک منی چینجر سے ہم نے کرنسی تبدیل کروائی اور وہیں پر واقع ترکش ریستوران باسفورس میں پیٹ پُوجا کے لئے چلے گئے۔
(جاری ہے )



اب تک لاعلم ہوں کہ آپ ادب کے ڈاکٹر ہیں یا کسی اور صنف کے۔
وگرنہ قتیل شفائی کی وہ مشہور غزل نہ بھولتے جسے پنکج داس نے امر کردیا تھا۔
–
چاندی جیسا رنگ ہے تیرا سونے جیسے بال
اک تو ہی دھنوان ہے گوری باقی سب کنگال
–
امجد صاحب نے باربی ڈال پر کہا تھا
نیلی نیلی آنکھیں اس کی
خوب سنہرے بال
–
جب کہ ساغر خیامی مے مزاحاً کہا تھا
سر پر سنہرے بال، بدن دودھ، ہونٹ جام
ہر لب پہ آئی لو ہے مگر عاشقی حرام
آپ کی محںتوں کے لئے شکر گزار ہوں
All pleasure is mine
لیکن آپ کی پی ایچ ڈی کا مضمون ابھی بھی راز ہے۔ ہرجاء کے آپ کے شاگردوں اور پچھل پیریوں (فالورز کا مزاحیہ نام) کی تعداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک اچھے استاد ہیں۔
میری پی ایچ ڈی بزنس مینجمنٹ میں ہے