مساجنسٹ عورتیں


آپ نے مساجنسٹ مردوں کا ذکر سنا ہو گا، مساجنسٹ وہ مرد ہوتے ہیں جو عورتوں کے خلاف شدت پسند رویہ رکھتے ہیں اور عورتوں پر ظلم کرنے والوں کی حمایت میں پیش پیش رہتے ہیں۔ یہ وہ مرد ہوتے ہیں جن کی مثال اس کبوتر کی سی ہوتی ہے جو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے اور سوچتا ہے کہ کسی بھی طرح کی کوئی پریشانی نہیں ہے، راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے کے مصداق ایک کھسیانی سی ہنسی اپنے منہ پر سجائے رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک خواتین تو محض ایک چیز کی مانند ہوتی ہیں اور بلاوجہ کا واویلا کرتی رہتی ہیں۔ انہیں کوئی مسائل یا پریشانی نہیں ہوتی اور جو ان پر مظالم ہو رہے ہیں وہ مرد نہیں کرتے بلکہ خاتون ہی خاتون پر کر رہی ہے، یہ مثال دے کر یہ خود کو بری الذمہ ثابت کر لیتے ہیں۔

خواتین مساجنسٹ مردوں سے تو اپنی بقاء کی جنگ لڑ ہی رہی ہیں لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ان مردوں کو شہ دینے میں پیش پیش رہتا ہے۔ اس طبقے یا مافیا کو ”مساجنسٹ خواتین“ کہا جاتا ہے، یہ وہ خواتین ہوتی ہیں جو مسلسل ظلم کی چکی میں پس رہی ہوتی ہیں، انہوں نے بچپن میں والدین کا شدت پسندانہ رویہ برداشت کیا ہوتا ہے۔ ان کی تربیت کچھ اس انداز میں کی گئی ہوتی ہے کہ یہ اسی مکروہ بندوبست کو ذہنی طور پر قبول کر لیتی ہیں اور اپنے استحصال کو مرد کا مادر پدر حق سمجھتی ہیں۔ وہ ذہنی، جسمانی یا روحانی تشدد کو مرد کا جائز حق سمجھتی ہیں اور اس ظلم کو برداشت کرنا اپنی زندگی کا آخری مقصد بنا لیتی ہیں۔ وہ یہ سمجھنے لگتی ہیں کہ جس طرح وہ سب برداشت کر رہی ہیں دوسری خواتین بھی اسی طرح سے برداشت کریں۔

جہاں بھی خواتین کے حقوق کی بات ہوگی مرد اپنے پیٹی بھائیوں کا دفاع کرنے پہنچ جاتے ہیں اور ساتھ میں یہ مساجنسٹ خواتین بھی ان مردوں کا ساتھ دینے پہنچ جاتی ہیں۔ یہ خواتین صبر، برداشت اور تحمل کا چورن دوسری خواتین کو بیچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ اگر مردوں کے سامنے ہم اچھی بن جائیں تو معاشرہ اس خاتون کو نیک گردانتا ہے، جو سسرال کا ظلم صبر اور تحمل سے اور اف کا تکلف کیے بغیر برداشت کرتی ہے اس کی زندگی سہل ہو جاتی ہے، اس طرح کی باتیں کر کے یہ اچھی عورت کا تمغہ خود پر سجانا چاہتی ہیں۔ تعریف کے دو بول جو کبھی اس کے کام کرنے پر نہیں بولے گئے، اسے کبھی سراہا نہیں گیا اب یہ تعریف اس انداز میں سمیٹ لینا چاہتی ہے کہ میں جو ظلم سہ رہی ہوں اس پر یہ مرد میری تعریف کر دیں۔ یہ معاشرہ مجھے قبول کر لے۔

چارپائی پر بیٹھ کر ایک خاتون کو ٹانگ مارے اور گالی دے کر جب مرد دوسری خاتون کے سامنے اسی مساجنسٹ خاتون کی تعریف کرتا ہے اور بڑے دھڑلے سے کہتا ہے کہ ”دیکھو اس نے میری گالی برداشت کر لی اور مار برداشت کر لی“ اور اس طرح سے مساجنسٹ خاتون کو مار کھانے کی کمائی وصول ہو جاتی ہے یہی تعریف تو وہ چاہتی ہے۔

یہاں پر مساجنسٹ خاتون کی ایک اور قسم بھی پائی جاتی ہے جن پر ظلم تو نہیں ہو رہا لیکن مردوں کی ”گڈ بک“ میں رہنے کے لیے یہ ہمیشہ خواتین کے خلاف بولیں گی۔ ان کے سامنے معتبر بننے اور معاشرے میں اپنی پہچان بنانے کے لئے مکاریاں کرتی ہیں۔ یہ مرد کے تشدد پسند رویے کے دفاع کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتی ہیں، ان کے نزدیک خاتون پر ظلم کے خلاف بولنے والی خاتون بدکردار اور گھٹیا ہوتی ہے، اس لیے اپنے کردار کو پاکباز اور پرہیزگار ثابت کرنے کے لئے خود پر ایسا لبادہ اوڑھتی ہیں کہ کسی بھی طرح سے مرد انہیں معاشرے کی اچھی خواتین سمجھیں۔

ان مساجنسٹ خواتین کی وجہ سے مردوں کو اور شہ مل جاتی ہے، انہیں لگتا ہے کہ اگر ایک طبقہ اسے ظلم سمجھ رہا ہے تو ایک طبقہ اس کے دفاع میں بھی کھڑا ہے۔ سونے پر سہاگا یہ ہے کہ مظلوم کی اپنی جنس کا طبقہ بھی ظالم کے حق میں دلائل دیتا نظر آتا ہے اور پھر انہی مساجنسٹ مردوں کو موقع مل جاتا ہے یہ دلیل دینے کا کہ ”خاتون ہی خاتون کی دشمن ہے اور خواتین ہی اصل قصور وار ہوتی ہیں۔“ یہ مساجنسٹ خواتین یہ نہیں جانتی ہیں کہ ذرا سی تعریف کی بھوک اور مقام کے لیے یہ مزید خواتین کے لیے مسائل کا گڑھا کھود رہی ہیں۔

Facebook Comments HS