ظالم اور مظلوم
یونانی سوفسطائی اور سقراط کسی بھی عنوان پر بحث کرنے سے پہلے اس کی تعریف طے کرتے۔ کئی دفعہ تو کسی ایک عنوان کی صرف تعریف طے کرنے میں بحث کرتے ہوئے کئی دن گزر جاتے۔ سقراط نے ان متفقہ تعریفوں کو ”تعقلات“ کا نام دیا تھا۔ ان تعقلات کو انگریزی میں (concept) بھی کہتے ہیں۔ جس طرح افلاطون نے ”عدل“ پر بحث کے کئی ابواب لکھنے سے پہلے عدل کی یہ تعریف کی تھی ”ریاست کے لئے عدل یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کی صلاحیتوں کے مطابق کام کرنے دیا جائے“ ۔
چاہے وہ فاصلے ہوں یا کوئی مادی چیز۔ برقی لہریں ہوں یا نظر نہ آنے والی کوئی شے، انسان ہر چیز کی پیمائش کا ایک پیمانہ ضرور رکھتا ہے۔ بالکل اسی طرح بحث کا پیمانہ یہی ”تعقلات“ ہیں۔ ان تعقلات کے بغیر بحث محض جانوروں کی آپس کی لڑائی کی طرح ہے جس میں دونوں فریق آخر میں ایک دوسرے کو پنجے مارتے ہوئے غائب ہو جاتے ہیں۔
ظالم اور مظلوم کی لڑائی ہر دور میں رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ یہاں ظالم کبھی یہ تسلیم نہیں کرتا کہ وہ ظلم کر رہا ہے اور ہر شخص یہی کہتا ہے کہ وہ مظلوم ہے، اس لئے ظالم اور مظلوم کی تعریف طے کرنا ضروری ہے۔ تختہ مشق بنا ہر شخص جس کے بال کھینچے جا رہے ہوں، کپڑے پھاڑے جا رہے ہوں اور سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا ہو مظلوم نہیں ہوتا۔ وہ شخص مظلوم نہیں ہوتا جو طاقت اور اختیار کے نشے میں لوگوں پر ظلم کرتا رہے اور طاقت سے محروم ہو کر خود جبر و ستم کا نشانہ بن جائے۔ اس جبر و ستم کا نشانہ، جو وہ طاقتور ہوتے ہوئے دوسروں پر کرتا رہا تھا۔ دانتوں سے محروم بوڑھا شیر جو شکار کرنے کے قابل نہ رہا ہو اور جسے بکریاں اور ہرن ٹکریں مارکر گزر جاتے ہوں وہ مظلوم نہیں ہوتا البتہ قابل رحم ضرور ہوتا ہے۔ تاریخ کی یہ ستم ظریفی ہے کہ جب بھی کسی بادشاہ کا تختہ الٹا جاتا تو اسے اور اس کے حواریوں کو قتل کر دیا جاتا یا انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں قید خانوں میں ڈال دیا جاتا۔ دیکھا جائے تو ایسے بادشاہ اور ان کے حواری بھی مظلوم نہیں ہوتے کیونکہ وہ اپنے دور حکومت میں خود ظلم و جبر کی علامت ہوتے ہیں۔
تیسری دنیا کے ممالک کے معاشی تناظر میں حکمران طبقہ ظلم و جبر کے بغیر اپنی حکمرانی برقرار نہیں رکھ سکتا اور ایسے ممالک میں اشرافیہ کی اقتدار کے لئے آپس کی لڑائی دراصل ظالموں کی آپس میں جنگ ہے جس میں اکثر ہی نادانی میں حقیقی مظلوم ہی پستے ہیں۔ آج تیسری دنیا کے ممالک کی وسیع آبادی کی غربت، بے بسی اور بھوک کی وجہ وہاں کے حکمران طبقات کا ظلم اور استحصال ہی ہے۔
ظالموں کی آپس کی لڑائی میں کوئی مظلوم نہیں ہوتا۔ مظلوم وہ ہوتا ہے جو بے اختیار ہو اور اپنے بنیادی انسانی حقوق روٹی، کپڑا، مکان اور روزگار کے لئے ظالموں سے ٹکرا جائے۔ استحصال کے خلاف اٹھنے والے ہی مظلوم ہوتے ہیں۔ ایرانی فوک کردار کاوہ لوہار جیسے ہی مظلوم ہوتے ہیں، جس نے اپنی دھونکنی کے چمڑے سے پرچم بنایا جو ”درفش کاویانی“ کے نام سے جانا جاتا ہے اور ظالم بادشاہ ضحاک کے خلاف یورش کی جس نے اس کے بیٹوں کو ناحق قتل کر دیا تھا۔
آقا کے خلاف بغاوت کرنے والے غلام، جاگیرداروں کے خلاف بغاوت کرنے والے کسان اور سرمایہ داروں کے خلاف بغاوت کرنے والے مزدور ہی مظلوم ہوتے ہیں۔


