کائنات کے راز ہائے سر بستہ


1۔ تعارف

میری سیکرٹری مارسیلینا نے مجھے ایک خوش خبری سنائی
ڈاکٹر سہیل آپ کے لیے نئے سال کا پہلا تحفہ آیا ہے
وہ کیا تحفہ ہے اور وہ کس نے بھیجا ہے؟ میں متجسس تھا
ڈاکیہ آپ کے لیے ایک پارسل لایا ہے اور وہ پارسل آپ کے ہم نام سہیل زبیری نے بھیجا ہے۔
پارسل کھولا تو اس میں سے جو کتاب نکلی اس کا نام
کائنات: ایک حیرت کدہ
تھا۔
اس کتاب کو سانجھ کے پبلشر امجد سلیم منہاس نے لاہور سے چھاپا تھا۔
میں نے وہ کتاب بڑے شوق سے پڑھی کیونکہ وہ میرے بچپن کے دوست کی لکھی ہوئی تھی۔

سہیل زبیری کی یہ کتاب اردو میں لکھی گئی اپنی نوعیت کی انوکھی کتاب ہے۔ اس کتاب میں سہیل زبیری نے ان پراسرار، اور اکثر اوقات ناقابل فہم، قوانین کو بہت دلچسپ انداز میں عام فہم زبان میں پیش کیا ہے جن کے تحت اس کائنات کا نظام چل رہا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے کوانٹم مکینکس کی بنیادوں اور نظریہ اضافیت اور ان کے نتائج جیسے بظاہر ثقیل موضوعات کو اتنی مہارت سے پیش کیا ہے کہ سائنس سے نابلد کسی بھی شخص کے لئے ان کو سمجھنا آسان دکھائی دیتا ہے۔

یہ کتاب کائنات کے بارے میں ہمارے تصورات کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد یوں لگا کہ کائنات کی نوعیت ہماری سوچوں سے یکسر مختلف ہے۔ وقت، جگہ، مادہ، توانائی، اور حقیقت جیسی بنیادی چیزوں کی نوعیت اس سے کہیں مختلف ہے جن کا ہم تصور کرتے ہیں۔

سہیل زبیری کی یہ کتاب کائنات کے بنیادی قوانین سمجھنے کی خواہش رکھنے والے کسی شخص کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔

میں سہیل زبیری کو ایسی کتاب لکھنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے کتاب کے تعارف میں درویش کا نام بھی رقم کیا ہے۔ میرے لیے ان کی دوستی فخر کی بات ہے۔

میں نے اس کتاب سے جو کائنات کے جو رازہائے سربستہ سیکھے ہیں ان میں سے چند ایک آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

2۔ زمین۔ سورج۔ کشش ثقل

ایک وہ زمانہ تھا جب انسان یہ سمجھتے تھے کہ زمیں کائنات کا محور ہے اور سورج چاند اور سیارے زمین کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ ماڈل جیو سنٹرک ماڈل کہلاتا تھا۔

پندرہ سو ترتالیس عیسوی 1543 میں کوپرنیکس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ سورج مرکز میں ہے اور زمیں اور سیارے سورج کے گرد گھومتے ہیں۔ اب یہ ماڈل ہیلیو سنٹرک ماڈل کہلاتا ہے۔

کوپرنیکس خوفزدہ تھے کہ اگر انہوں نے اپنی کتاب اور اپنا نظریہ چھاپ دیا تو گرجے کے اصحاب بست و کشاد ان کا دائرہ حیات تنگ کر دیں گے۔

گیلیلیو گیلیلی 1564 میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی دوربین کے مشاہدات سے کوپرنیکس کے ہیلیو سنٹرک ماڈل کی مقبولیت کے لیے راہ ہموار کی۔

گیلیلیو کی تحقیقات کے نتائج نے آئزک نیوٹن کی سائنسی تحقیقات کو تقویت دی۔ آئزک نیوٹن 1642 میں پیدا ہوئے۔ اسی سال گلیلیو گلیلی فوت ہوئے۔

نیوٹن 1666 میں ’جب وہ کیمبرج کے طالب علم تھے اپنے گاؤں گئے کیونکہ شہروں میں طاعون کی بیماری پھیل گئی تھی اور سائنسی تحقیق جاری رکھی اور وہ نظریات پیش کیے جو سائنسی انقلاب کا پیش خیمہ بن گئے۔

نیوٹن نے اپنے سائنسی تجربے اور مشاہدے سے دنیا کو بتایا کہ مادی چیزوں کے درمیان ایک کشش پائی جاتی ہے۔ چیزیں جتنی بھاری ہوں وہ کشش اتنی زیادہ ہوتی ہے اور چیزوں کے درمیان فاصلہ بڑھنے سے کشش کم ہوتی ہے۔ نیوٹن نے اس کشش کو کشش ثقل کا نام دیا۔

نیوٹن کے تجویز کردہ قانون کے تحت ایک سیب زمین پر اس لئے گرتا ہے کیونکہ زمین کی کشش ثقل سیب کو زمین کی طرف کھینچتی ہے۔ اس طرح سورج کے گرد زمین کی حرکت کو بھی کشش ثقل کی بنیاد پر سمجھا جا سکتا ہے۔ نیوٹن کے کشش ثقل کے قانون کی بنیاد پر ستاروں اور سیاروں کی حرکت کو انتہائی کامیابی سے سمجھنا ممکن ہو سکا تھا۔ یہ صورت حال انیسویں صدی کے آخر تک برقرار رہی۔

پھر 1905 میں آئن سٹائن نے ایک انقلابی نظریہ پیش کیا، حیرت انگیز طور پر آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کے مطابق کشش ثقل کا کوئی تصور نہیں۔ ہر چیز کی حرکت کو زمان و مکاں کی عجیب و غریب نوعیت کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ سیب زمین پر اس لئے گرتا ہے کہ زمین کے گرد زمان و مکاں خمیدہ ہیں۔ اسی طرح زمین سورج کے گرد اس لئے گھومتی ہے کیونکہ سورج کے گرد زمان و مکاں بھی خمیدہ ہیں۔

3 حرکت کے قوانین

نیوٹن نے دنیا کو حرکت کے قوانین سے بھی تعارف کروایا۔ انہوں نے اپنی کتاب
PRINCIPA MATHEMATICA PHILOSOPHIAE NATURALIS
میں یہ قوانین پیش کیے۔ وہ کتاب اب
PRINCIPA
کے نام سے جانی جاتی ہے۔

نیوٹن کے وضع کردہ قوانین کے مطابق جگہ اور وقت ایک دوسرے سے مکمل طور پر آزاد تھے، اور مطلق یعنی absolute نوعیت کے حامل تھے۔

نیوٹن کے مطابق خلا میں دو مختلف مقامات پر رونما ہونے والے دو واقعات کو بیک وقت سمجھا جائے گا اگر وہ ایک ہی مطلق وقت پر رونما ہوں۔ مثال کے طور پر، تین دوست، ایک گھر میں، دوسرا ٹرین میں اور تیسرا ہوائی جہاز میں سفر کرتے ہوئے، ایک ہی ’مطلق وقت پر لنچ کر سکتے ہیں۔ وقت ماضی سے حال اور مستقبل کی طرف مسلسل اور باقاعدگی سے بہتا ہے۔ وقت کا بہاؤ کسی بھی چیز، جیسے کشش ثقل، حرارت، قوت، سے متاثر نہیں ہو سکتا۔

نیوٹن کے قوانین کا ایک اور نتیجہ یہ ہے کہ کوئی چیز کتنی تیزی سے حرکت کر سکتی ہے، اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ اصولی طور پر، اگر کسی چیز پر بہت طویل عرصے تک مسلسل قوت کا اطلاق ہوتا ہے، تو اس چیز کی رفتار کو لامحدود قدر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

کوانٹم مکینکس اور نظریہ اضافیت نے نیوٹن کے قوانین پر سوالیہ نشان لگا دیا۔
مثال کے طور پر
کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز نہیں چل سکتی۔

گھڑیاں زمین کے قریب زمین سے دور کے مقابلے میں آہستہ چلتی ہیں۔ اگر ہم کسی بھاری تر سیارے یا ستارے کے قریب جائیں تو گھڑیوں کی رفتار مزید آہستہ ہو جائے گی۔

روشنی سورج اور ستاروں جیسی بڑی چیزوں کی طرف جھکتی ہے، حالانکہ روشنی کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔

سہیل زبیری کی کتاب میں پیش کردہ یہ اور اس قسم کے بہت سارے دوسرے نتائج ہوشربا اور حیرت انگیز محسوس ہوتے ہیں۔

4۔ کوانٹم مکینکس کا جنم

جب کسی دھات کو گرم کیا جاتا ہے تو اس میں سے روشنی نکلتی ہے اور جوں جوں حرارت بڑھتی ہے اس روشنی کا رنگ بھی بدلتا جاتا ہے۔ پہلے وہ رنگ سرخ ہوتا ہے اور پھر بدلتے بدلتے وہ نیلا ہو جاتا ہے۔

میکس پلانک نے یہ خیال پیش کیا کہ دھاتوں کے اندر الیکٹرون کی حرکت ایک جھولے کی طرح ہے جوں جوں حرارت بڑھتی جاتی ہے اس جھولے کی حرکت میں اضافہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے رنگ بدلتے چلے جاتے ہیں۔

پلانک نے 1900 میں یہ تصور پیش کیا کہ توانائی پیکٹوں یا کوانٹا میں آتی ہے۔

1905 میں البرٹ آئن سٹائن نے فوٹو الیکٹرک اثر کو ثابت کرنے کے لیے پلانک کے کوانٹم کے مفروضے کو استعمال کیا اور فوٹون کا تصور پیش کیا۔

جب کسی دھات پر روشنی ڈالی جائے اور اس دھات سے الیکٹرون خارج ہونے شروع ہو جائیں تو وہ عمل فوٹو الیکٹرک اثر کہلاتا ہے اور وہ الیکٹرون فوٹو الیکٹرون کہلاتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ سرخ روشنی سے کوئی الیکٹرون خارج نہیں ہوتا چاہے وہ روشنی کتنی ہی تیز کیوں نہ ہو
لیکن نیلی روشنی سے فوٹو الیکٹرون خارج ہوتے ہیں چاہے وہ روشنی کمزور ہی کیوں نہ ہو۔

1905 میں البرٹ آئن سٹائن نے اس عمل کی پلانک کے کوانٹا کے تصور کو استعمال کرتے ہوئے اس کی وضاحت اس طرح پیش کی کہ روشنی کوانٹا کے مجموعے کی طرح ہوتی ہے جسے فوٹون کہتے ہیں۔ فوٹون کی توانائی کا دار و مدار اس پر ہے کہ وہ کس رنگ کی روشنی ہے اور رنگ کی شناخت اس کی فریکوینسی ہے۔

چنانچہ چھوٹی فریکون سی کی سرخ روشنی میں کم توانائی ہے اور نیلے رنگ کی بڑی فریکون سی کی روشنی میں زیادہ توانائی ہے۔

فوٹو الیکٹرک اثر کی وضاحت یوں کی گئی کہ

سرخ فوٹون میں اتنی توانائی نہیں ہوتی کہ وہ دھات سے الیکٹرون کو باہر نکالے لیکن نیلے فوٹون میں اتنی توانائی ہوتی ہے کہ وہ دھات سے الیکٹرون کو نکال سکتے ہیں۔

چنانچہ آئن سٹائن کے فوٹو الیکٹرک اثر کی وضاحت نے پلانک کے کوانٹم خیال کو تقویت دی۔
1908 میں ارنسٹ ردرفورڈ نے ہمیں بتایا کہ ایٹم کے مرکز میں
مثبت توانائی کا نیوکلس ہوتا ہے
اس کے گرد
منفی توانائی کے الیکٹرون چکر لگاتے رہتے ہیں۔
سوال یہ تھا کہ ہائیڈروجن ایٹم مخصوص فریکوئنسی کے مخصوص رنگ ہی کیوں بکھیرتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں

1913 میں نیلز بوہر نے یہ خیال پیش کیا کہ الیکٹرون نیوکلس کے گرد ایسے چکر لگاتا ہے جیسے کوئی سیارہ سورج کے گرد چکر لگاتا ہے لیکن وہ الیکٹرون صرف خاص مداروں میں ہی چکر لگاتا رہتا ہے۔

ہائیڈروجن کے ایٹم میں جب الیکٹرون اونچے مدار سے نیچے مدار میں آتا ہے تو اس عمل میں مخصوص توانائی کا فوٹون باہر نکلتا ہے۔ اس مشاہدے نے بھی کوانٹم کے نظریے کی تائید کی۔

5۔ روشنی کی فطرت

قدیم مصر کی دیو مالائی کہانیوں میں یہ کہا گیا ہے کہ
جب دیوتا را کی
آنکھ سورج بن کر کھلتی ہے تو دن ہو جاتا ہے
اور جب آنکھ بند ہوتی ہے تو رات ہو جاتی ہے
یونانی فلسفی افلاطون کا کہنا تھا کہ
آنکھوں سے روشنی نکلتی ہے اور چیزوں کو چھوتی ہے تو ہمیں چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔

افلاطون کے اس نظریے کو ایک ہزار سال بعد عرب سائنسدان الحازن نے چیلنج کیا اور یہ نظریہ پیش کیا کہ روشنی آنکھوں سے نہیں سورج اور دیے جیسی روشن اشیا سے نکلتی ہے۔

انہوں نے مختلف بلندی پر دو لالٹینیں رکھیں اور ایک سوراخ کے ذریعے ان کی روشنی کو ایک تاریک کمرے میں بھیجا۔ اس طرح کمرے کی دیوار پر دو مقامات پر روشنی دکھائی دی۔

پھر جب انہوں نے ایک لالٹین کو ڈھانپا تو ایک روشنی غائب ہو گئی۔

اس تجربے نے ثابت کر دیا کہ روشنی انسانی آنکھ سے نہیں بلکہ لالٹین سے نکلتی ہے اور روشنی سیدھی لکیر میں سفر کرتی ہے۔

آئزک نیوٹن کا خیال تھا کہ روشنی چھوٹے چھوٹے ذرات پر مشتمل ہوتی ہے۔

1802 میں سائنسدان تھامس ینگ نے اپنے ڈبل سلٹ تجربے سے ثابت کیا کہ روشنی ایسی لہروں پر مشتمل ہوتی ہے جن کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔

اس تجربے میں ایک سکرین میں دو سوراخ کیے گئے اور ان سے روشنی بھیجی گئی۔ جہاں روشنی کی دو لہروں نے ایک دوسرے کی مدد کی وہ مقام روشن تھے اور جہاں لہروں نے ایک دوسرے کی نفی کی وہ مقام تاریک۔ دکھائی دیے۔

اس تجربے نے ثابت کیا کہ روشنی لہروں میں سفر کرتی ہے۔

1865 میں سائنسدان جیمز میکسول نے ثابت کیا کہ روشنی کی لہروں میں برق بھی ہوتی ہے اور مقناطیسیت بھی اور وہ تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہیں

6۔ روشنی کی دوہری خصوصیت

1924 میں لوئس ڈی بروگلی نے یہ نظریہ پیش کیا کہ روشنی اور مادے، دونوں کی فطرت میں ایک دوئی ہے جو
WAVE…PARTICLE DUALITY
کہلاتی ہے۔ اس نظریے کے مطابق
بعض تجربات میں روشنی لہر بن جاتی ہے
اور بعض
تجربات میں روشنی ذرات بن جاتی ہے۔
یہ عجیب و غریب اور ناقابل فہم تصور کوانٹم مکینکس کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
ڈی بروگلی کو اپنی سائنسی تحقیقات کی وجہ سے 1929 کا نوبل انعام ملا۔
1925 میں ورنر ہائیزن برگ نے
اور
1926 میں ایرون شروڈنگر نے ایسے نظریات پیش کیے جو کوانٹم مکینکس کی بنیاد بنے اور پھر ان بنیادوں پر
میکس بورن
پاسکل جارڈن
پال ڈیرک
اور
وولف گانگ پاؤلی
نے کوانٹم مکینکس کی بلند و بالا عمارت تعمیر کی

7۔ ایٹم

یونانی فلسفی ڈیموکریٹس نے 450 قبل مسیح میں کہا تھا کہ تمام چیزیں ناقابل تقسیم ذروں سے مل کر بنی ہیں جنہیں انہوں نے ایٹوموس کا نام دیا۔

ڈیموکروٹس کے نظریے کے مقابلے میں ارسطو کا نظریہ زیادہ مقبول ہوا کہ ہمارے ارد گرد کی چیزیں چار عناصر سے بنی ہیں

زمین
آگ
پانی
اور
ہوا۔
اٹھارہویں صدی کے سائنسدان جان ڈالٹن نے کہا کہ ڈایموکریٹس کا نظریہ درست ہے اور ارسطو کا نظریہ غلط۔
1897 میں جے جے تھامسن نے کہا کہ ایٹم کے اندر منفی توانائی لیے الیکٹرون پائے جاتے ہیں۔

سائنسدان ارنسٹ ردرفورڈ نے ایٹم کا مرکز نیوکلس دریافت کیا جس میں مثبت توانائی ہوتی ہے اور اس کے گرد منفی توانائی کے الیکٹرون چکر لگاتے ہیں۔

سائنسدان نیلز بوہر نے ہمیں بتایا کہ نیوکلس میں
مثبت توانائی کے پروٹون
اور
بغیر چارج کے نیوٹرون
پائے جاتے ہیں
منفی توانائی کے الیکٹرون مخصوص مداروں میں حرکت کرتے ہیں اور
ایٹم میں الیکٹرون پروٹون کے برابر ہوتے ہیں اور
پروٹون اور نیوٹرون الیکٹرون سے دو ہزار گنا بھاری ہوتے ہیں۔
ہائیڈروجن ایٹم میں ایک پروٹون
ہیلیم ایٹم میں دو پروٹون
لیتھیم ایٹم میں تین پروٹون
اوکسیجن ایٹم میں آٹھ پروٹون
ہوتے ہیں۔
لیکن کوانٹم مکینیکل کے نظریات کے مطابق ایٹم کی تصویر ناقابل تصور ہے۔

الیکٹرون سیارے کی طرح نیوکلیس کے گرد چکر نہیں لگا رہے ہیں۔ اس کی بجائے، وہ نیوکلیس کے گرد ایک روئی کے گولے یا دھند کی مانند ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ، اس دھند کا الیکٹرون کی حقیقی پوزیشن سے تعلق نہیں ہے، یہ دھند صرف الیکٹرون کے ملنے کے امکان کو ظاہر کرتی ہے۔ جہاں دھند گہری ہے وہاں الیکٹرون کے ملنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

8۔ چار قوتیں

کائنات میں چار قوتیں پائی جاتی ہیں
کشش ثقل
برقی مقناطیسی قوت
کمزور قوت
مضبوط قوت

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں شیلڈن گلو شاؤ، عبدالسلام اور سٹیون وائن برگ نے برقی مقناطیسی اور کمزور قوت
ELECTROWEAK FORCE
میں متحد کیا جس کی وجہ سے انہیں 1979 کے فزکس کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

9۔ نوری سال

روشنی تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ وہ جتنا فاصلہ ایک سال میں طے کرتی ہے ہم سے نوری سال کہتے ہیں

10۔ پھیلتی ہوئی کائنات

ماہر فلکیات ایڈون ہوبل نے انیس سو انتیس میں اپنی دوربین کے مشاہدے سے ہمیں بتایا کہ دور کی کہکشائیں زمین سے مزید دور ہوتی جا رہی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات جامد نہیں بلکہ پھیل رہی ہے۔

کائنات کے پھیلنے سے یہ نتیجہ بھی نکالا گیا کہ یہ کائنات ہمیشہ سے قائم نہ تھی بلکہ اس کا ایک نقطہ آغاز تھا۔

کائنات کے پھیلنے کی رفتار سے جب یہ حساب لگایا گیا کہ کائنات کا لمحہ آغاز کب تھا تو اس کا جواب 13.8 ارب سال نکالا گیا

اور کائنات کی پیدائش کے لمحے کو بگ بینگ کا نام دیا گیا۔
ہمارا سورج بگ بینگ کے نو ارب سال بعد پیدا ہوا۔

چونکہ کائنات کی عمر تیرہ اعشاریہ آٹھ ارب سال ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے سورج کی عمر چار اعشاریہ آٹھ ارب سال ہے

ہماری زمین کی عمر چار اعشاریہ چھ ارب سال ہے
اور زمین پر زندگی کی عمر تین اعشاریہ پانچ ارب سال ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کی پیدائش کے دس ارب سال بعد زمین پر زندگی پیدا ہوئی۔

11۔ خلا

ایک وہ زمانہ تھا جب ہم سمجھتے تھے کہ خلا بالکل خالی ہوتا ہے۔ اس میں نہ روشنی ہوتی ہے نہ مادہ نہ توانائی لیکن اب ہمیں پتہ چلا کہ خلا توانائی سے بھرپور ہے۔

12۔ آئن سٹائن کے سائنسی تحفے

آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کے مطابق
مادہ توانائی میں
اور توانائی مادے میں بدل سکتی ہے
اس کا فارمولا
E=MC2
ہے
E۔ انرجی ہے
M۔ مادہ ہے
C۔ روشنی کی رفتار ہے
جو تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے
آئن سٹائن نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ کوئی چیز روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز نہیں چل سکتی۔

13۔ ستارے کی موت

ایک چھوٹا ستارہ
اپنی زندگی کے اختتام ہر
سفید ڈوارف
اور
ایک بڑا ستارہ
بلیک ہول
بن جاتا ہے۔
بلیک ہول اتنا عجیب و غریب ہے کہ اس میں وقت بھی رک جاتا ہے
پہلا بلیک ہول انیس سو اکہتر میں دیکھا گیا تھا
ایک اندازے کے مطابق ہماری کہکشاں میں ایک ارب کے قریب بلیک ہولز ہیں۔

14۔ تاریک مادہ

ہماری کائنات کا صرف پانچ فیصد ہمیں دکھائی دیتا ہے باقی پچانوے فیصد دکھائی نہیں دیتا کیونکہ وہ
تاریک مادے سے بنا ہوا ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ تاریک مادہ زیادہ تر بلیک ہولز پر مشتمل ہو۔ یہ تاریک مادہ ہماری کائنات کو مزید پراسرار بناتا ہے۔

15۔ دوست کو مشورہ

میں نے سہیل زبیری کی کتاب
کائنات: ایک حیرت کدہ

سے جو راز جانے ان میں سے چند ایک اس امید پر آپ سے شیر کیے ہیں تا کہ آپ کو بھی یہ کتاب نہ صرف خود پڑھنے بلکہ اپنے جوان بچوں کو بھی پڑھانے کی ترغیب و تحریک ہو۔

میرے ایک روایتی دوست نے جب مجھے بتایا کہ انہوں نے اپنی بڑی بیٹی کی شادی پر انہیں بہشتی زیور کا تحفہ دیا تو میں نے ان سے با ادب لیکن بے تکلف ہو کر کہا کہ چھوٹی بیٹی کی شادی کے وقت وہ اسے
بہشتی زیور کی بجائے سہیل زبیری کی کتاب
کائنات: ایک حیرت کدہ
تحفے کے طور پر دیں تا کہ ہم پاکستان میں ایک نئی سائنسی روایت قائم کر سکیں۔
میرا مشورہ سن کر وہ مسکرا دیے۔

نوٹ:یہ کتاب براہ راست سانجھ پبلی کیشنز سے بذریعہ ای میل (sanjhpk@yahoo.com) یا ٹیلی فون کے ذریعے 03334051741 پر منگوائی جا سکتی ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail