بنکاک: فرشتوں کی بستی (آخری قسط)


DR INAM UL HAQ GHAZI

مسائل حل کرنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے :

”سی لوم“ کے علاقے میں آزادانہ اور استاد یعنی ”پنوں“ کے بغیر تعلیم ِبالغاں کی مہم کے دوران ہم نے دیکھا کہ شام سات بجے سے تھوڑی دیر پہلے ہی بازار کے فٹ پاتھ پر یکایک دکانیں سجنا شروع ہو گئی ہیں۔ تھوڑی ہی دیر میں روشنیوں سے منور ایک بازار لگ گیا۔ ہمارا تجسس بڑھا تو سمجھنے بوجھنے کی کوشش میں لگ گئے تو معلوم ہوا کہ حکومت نے شام سات بجے سے رات گیارہ بجے تک سڑک کے اردگرد فٹ پاتھ ان لوگوں کو کرائے پر دے رکھے ہیں جو بالعموم دکانوں کا کرایہ ادا نہیں کر سکتے۔ اس کے کئی فوائد ہیں : حکومت کو ریونیو مل جاتا ہے، کم آمدنی والے لوگ عزت کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں اور گاہکوں کو نسبتاً سستی چیزیں مل جاتی ہیں اور پھر عین سڑک کے بیچ ریڑھیاں لگانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی بھی ہوتی ہے۔ یہاں واپس آ کر ہم نے اپنے کچھ جاننے والوں کو اس حل کا بتایا جو اس سلسلے میں فیصلہ سازی میں اپنا کردار ادا کر سکتے تھے مگر ان کے چہرے کی بے چارگی اور زیرِ لب مسکراہٹ اور کبھی کبھار یہ جملہ کہ ”آپ بہت سادہ ہیں“ جیسے ردعمل نے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ شاید ہم بہت ہی احمقانہ بات کر رہے ہیں۔

”فرشتوں کی بستی“ کو خدا حافظ:

اگلا دن یعنی 9 اکتوبر فرشتوں کی بستی میں ہمارا آخری دن تھا۔ ہم نے ”سی لوم“ کے S&P ریسٹورنٹ میں ناشتہ کیا۔ میں نے اور اظہر نے محسوس کی کہ منیر احمد کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ چلتے ہوئے اس کے قدموں میں کچھ ڈگمگاہٹ اور طبیعت میں گڑبڑاہٹ تھی۔ ہمارے وسوسے، خدشات اور تخیلات نے کئی کہانیاں گھڑنی شروع کر دیں۔ ہوئے جو خالص مشرقی اور وہ بھی برصغیر کے باسی! تقریباً گیارہ بجے ہوٹل سے چیک آؤٹ کیا اور بنکاک کے مضافات میں واقع ایک شاپنگ پلازہ کی طرف چل پڑے۔ پورا راستہ میں یہ سوچتا رہا کہ اس شاپنگ پلازہ میں آخر ایسی کون سی خاص بات ہو گی۔ دیکھا تو وہ عام طرز کا، الگ تھلگ بنا ہوا بڑا سا شاپنگ مال تھا۔ تاہم جب اس کی پانچویں منزل پر پہنچے تو بچوں کے لئے بنائے گئے ایک امیوزمنٹ پارک سے نظریں دو چار ہو گئیں اور یہاں دوبارہ سے ”پنوں“ کی رگِ کمنٹری پھڑک اٹھی۔ اس کی پوری کوشش تھی کہ ہم دیکھیں کم اور اس کی زیادہ سنیں۔ اسی کشمکش میں ہم نہ تو اسے نظر بھر کر دیکھ سکے اور نہ ہی ”پنوں“ کی عالمانہ کمنٹری توجہ سے سن سکے۔ بس یہ ذہن میں رہ گیا کہ اس پارک میں بچوں کی جسمانی، ذہنی نشو و نما اور تفریح کو مدنظر رکھتے ان کی دلچسپی کے کئی کھیل اور کرتب مہیا کیے گئے ہیں۔ چونکہ شاپنگ پلازہ کافی بڑا تھا اس لئے اس میں گھومتے رہنے کا بھی اپنا ایک مزہ تھا۔ دوپہر کا کھانا ہم نے ایک جاپانی ریسٹورنٹ ہون مون سوشی Honmono Sushi میں کھایا جہاں کی خاص ڈش جاپانی طرز پر تیار کردہ سوشی تھی۔

الوداع کا انداز اپنا اپنا:

تقریباً 3 بجے سہ پہر وہاں سے ائر پورٹ کے لئے روانہ ہوئے۔ ائر پورٹ پر ”پنوں“ نے ہمیں اپنے تھائی انداز میں خدا حافظ کہا اور ہم نے اُسے خالص پاکستانی انداز میں جپھیاں مار مار کر خدا حافظ بولا۔ مجھے یقین ہے کہ منیر احمد کی جپھی سے اس کی ایک آدھ پسلی نے ضرور احتجاج کیا ہو گا مگر اُس نے چوں نہ کی، آخر تھا نا ایک ڈپلومیٹ۔

دل زندہ تو قہقہے بے شمار:

امیگریشن اور سیکورٹی وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد ڈیوٹی فری مارکیٹ کی طرف رخ کیا کہ وہاں سے کچھ خریداری کا ارادہ تھا، ہمیں بتایا گیا تھا کہ ڈیوٹی فری مارکیٹ باہر والی مارکیٹوں کے مقابلے میں سستی ہوگی۔ جب ہم تینوں نے بھاؤ معلوم کرنے شروع کیے تو پہلے زور دار جھٹکے لگے جنہیں ہم ایک دوسرے سے چھپاتے رہے، پھر حیرتیں وارد ہوئیں، یہاں آ کر چھپانے کی کوششیں الٹا پڑنا شروع ہو گئیں اور پھر ہم خود ہی ایک دوسرے پر قہقہے لگا کر ہنسنے لگے بلکہ ہم پر ہنسی کے دورے پڑنے لگے۔ بہرحال اسی پرلطف ماحول میں ویٹنگ لاؤنج کی طرف رخ کیا۔ راستہ کافی طویل تھا مگر ڈیوٹی فری والی ناکام پلاننگ کے خوشگوار نتیجے نے محسوس نہیں ہونے دیا۔ ویٹنگ لاؤنج پہنچ کر گزشتہ پانچ دنوں کی کھٹی میٹھی یادوں کو دہراتے اور ایک دوسرے کا مذاق اڑاتے رہے۔ ہمارے اس خوشگوار ماحول کو بورڈنگ کے اعلان نے اختتام پذیر کر دیا۔

نمک کی کان میں نمک:

بورڈنگ کے آغاز سے ہی پتہ چل گیا کہ ہم اپنے ملک، اپنی ثقافت اور اپنے لوگوں میں واپس جا رہے ہیں۔ وہی ایک سے زیادہ لائنیں، وہی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے تخلیقی طریقے، وہی میں پہلے، نہیں میں پہلے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ کہ ہم ابھی سے ذہنی طور پر ان باتوں کے لئے تیار ہو گئے بلکہ جہاز پر براجمان ہوتے ہی خود کو پاکستان کے اندر سمجھنا شروع کر دیا اور ہماری پرفارمنس یہیں سے شروع ہو گئی جس کو چند ایک شرفاء کے علاوہ کسی نے ناپسند نہیں کیا۔ اسلام آباد ائر پورٹ اترتے ہی بے ہنگم، بے ترتیب اور بدنظمی کا ماحول ملا، ہم تو پہلے ہی تیار تھے۔ حیرت اور غصے کو اپنے پاؤں تلے روندا اور اُس ماحول کا شاندار بلکہ جاندار حصہ بن گئے یعنی نمک کی کان میں نمک، بلکہ کھیوڑہ کے اعلیٰ معیار کا نمک۔

(ختم شد)

Facebook Comments HS