سمندری سلامتی کے لئے پاکستان نیوی کے زیر اہتمام عالمی امن ڈائیلاگ
یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ ہمارے دفاعی ادارے آنے والے وقت کے چیلنجز سے ہم آہنگ ہونے کے لئے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔ جس سے نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہو رہا ہے اور پاکستان کو آگے بڑھنے کے نئے مواقع میسر آ رہے ہیں۔ اس سے قبل پاکستان نیوی نے عالمی امن مشق کے ذریعے سمندری خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کے لئے دنیا کے بہت سے ممالک کی فورسز کو اپنے ساتھ ملایا اور مشترکہ ایکسرسائز کیں جن کا سلسلہ باقاعدگی سے اب تک جاری ہے۔ 2007 سے شروع ہونے والی امن مشقوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور اس کے مقاصد کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لئے پاکستان نیوی نے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے اس سال فروری میں ہونے والی امن مشق کے ساتھ پہلے امن ڈائیلاگ کو بھی منسلک کر دیا ہے جس کے یقینی طور پر دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ اس امن ڈائیلاگ کے مقاصد میں سمندری سلامتی کے مسائل اور خطے کو درپیش چیلنجز اور بلیو اکانومی کے ساتھ ان کے روابط کے بارے میں مشترکہ تفہیم کو فروغ دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ڈائیلاگ کے ذریعے بحری تعاون کے لیے موجودہ میکانزم کو وسیع کرتے ہوئے اس کی افادیت کو مزید موثر بنایا جائے گا اور سمندر میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اختراعی حل اپنانے کی طرف پیش رفت کی جائے گی۔ بحری سلامتی کو بڑھانے کے لیے مناسب حکمت عملی اپنانا وقت کا ایک اہم تقاضا ہے۔ ہمیں اپنے ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی میں بلیو اکانومی کو اہمیت دینا ہو گی کیونکہ پاکستان میں اس کا بہت پوٹینشل ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ یہ شعبہ اب پاکستان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور ہزاروں لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے علاوہ ملکی برآمدات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ فوڈ سیکیورٹی کے مسائل سے دوچار پاکستان کے لئے خوراک کے متبادل ذرائع کی پیداوار میں بلیو اکانومی کا کردار بہت اہم ہے۔ AMAN کی اہم سرگرمیاں اس مرتبہ نئی جدت کے ساتھ وقوع پذیر ہوں گی جس میں شرکاء کے سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہو گا۔ اس کے علاوہ، AMAN ڈائیلاگ 25 ایونٹس امن مشقوں کے متوازی طور پر منعقد کیے جائیں گے جس کے بہت سے پہلوں ہوں گے جس سے پاکستانی سمندری حدود اور بندرگاہوں کی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ امن 25 اور امن ڈائیلاگ کی سرگرمیوں میں مختلف ممالک کے وفود اور جہازوں کی آمد، پی این ڈاکیارڈ میں افتتاحی تقریب، شہدا کو خراج تحسین، دوستانہ کھیلوں کے میچ، پاک میرینز اور نیول کمانڈوز کی طرف سے میری ٹائم کاؤنٹر ٹیررازم کا عملی مظاہرہ، پیشہ ورانہ موضوعات پر ٹیبل ٹاپ ڈسکشنز (TTDs) ، دوطرفہ ملاقاتیں اور جہازوں کے دورے، بین الاقوامی بینڈ ڈسپلے اور بین الاقوامی ثقافتی ڈسپلے اور فوڈ گالا جیسی سرگرمیاں منعقد ہوں گی۔ امن ڈائیلاگ کے دوران ترتیب دی گئی ہائی پروفائل سرگرمیوں میں بحریہ/کوسٹ گارڈز کے سربراہوں کا اجلاس منعقد ہو گا جبکہ امن ڈائیلاگ کی علمی سرگرمیوں پر مشتمل سیمینار کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔
امن ڈائیلاگ کے ذریعے دنیا بھر کی بحریہ کے مسائل پر ایک فکری بحث کا آغاز ہو گا۔ میرین اہلکاروں کا سمندری دہشت گردی اور دیگر جرائم کے خطرے کے خلاف صف اول کا کردار ہے۔ لہٰذا، غیر متناسب خطرات کے خلاف کثیر القومی قوتوں کی مشترکہ کارروائی کے لیے حکمت عملی، تکنیک اور طریقہ کار (TTPs) تیار کرنے کے لیے متعدد مشقوں کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے۔ سیشنز میں بحری قزاقی اور غیر قانونی اسمگلنگ جیسے غیر روایتی خطرات، انسانی امداد اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی اہمیت اور پائیدار ترقی کے لئے بلیو اکانومی کے وسیع امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔ بحر ہند کے خطے کو متعدد روایتی اور غیر روایتی سیکورٹی خطرات کا سامنا ہے۔ علاقائی تنازعات کے ساتھ سٹریٹجک مقابلہ خطے کے ہنگامہ خیز منظرنامے کی نشاندہی کرتا ہے۔ غیر ریاستی عناصر کی جانب سے سمندر میں طاقت کا استعمال، منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اور بحری قزاقی موجودہ پیچیدگی کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ حالیہ عرصے میں سمندری وسائل کا بڑھتا ہوا استعمال سمندری ماحولیاتی نظام کی تنزلی کا باعث بنا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سمندری حیاتیاتی تنوع اور پائیداری کے لیے خطرات کو بڑھا دیتی ہے۔ سمندری مفادات کے خلاف سائبر حملوں کے ساتھ بغیر پائلٹ کے (مستقبل کے ساتھ فعال) نظاموں کا استعمال خطرات کے تصورات کو تیزی سے تبدیل کر رہا ہے، جو میری ٹائم سیکیورٹی کی بھرپور موجودگی کو ایک ناگزیر ضرورت بنا دیتا ہے۔ اقتصادی ترقی اور عالمی تجارت کے لیے سمندری چیلنجز سے نبرد آزما ہونا نہایت ضروری ہے۔ اس وقت بحر ہند میں میری ٹائم سیکورٹی کو متعدد خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے جن میں نیا ابھرتا ہوا جیو پولیٹیکل آرڈر، غیر روایتی خطرات اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شامل ہیں۔ میری ٹائم سیکورٹی اور تعاون کے حوالے سے ساحلی ریاستوں کے درمیان دوستانہ تعلقات اور تعاون بہت ضروری ہے۔ اس عمل سے چھوٹی بحری افواج کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے اور سمندر میں جرائم کا مقابلہ کرنے کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔ سب سے بڑھ کر ان مشقوں اور امن ڈائیلاگ کی بدولت بلیو اکانومی کے لئے نئے آئیڈیاز سامنے آئیں گے جس کے لئے پاک بحریہ روایتی اور غیر روایتی طریقہ کار بروئے کار لا کر پہلے ہی بہت سے اقدامات کر رہی ہے۔ اکیسویں صدی میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، چیلنجز اور مواقع سے نمٹ کر ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ باقی شعبہ جات کی طرح میری ٹائم سیکورٹی میں ٹیکنالوجی کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ بحری سلامتی کو یقینی بنانے اور مستحکم اور خوشحال بحری مستقبل کے لیے پائیدار طریقوں کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے اور پاکستان نیوی نے اس ضرورت کا بروقت ادراک کرتے ہوئے امن مشقوں اور امن ڈائیلاگ کو فروغ دیا ہے۔ ان مشقوں اور امن ڈائیلاگ کو مشرق اور مغرب کے درمیان پل کا نام دیا گیا ہے۔ اس طرح کے فورمز پر ہمیں سمندری امور کے انتظام میں مشترکہ ذمہ داری کے احساس کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے جہاں جسم اور دماغ کے بیک وقت استعمال سے بہت سی گتھیاں سلجھانے میں مدد ملتی ہے۔ بحر ہند ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے جو دنیا کی بڑی طاقتوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ مثبت سرگرمیاں پاکستان بحریہ کی حربی صلاحیتوں میں بھر پور اضافہ کرنے کا باعث بنیں گی جس کے لئے نیوی کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف اور دیگر افسران بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔


