سیاست شطرنج کی چال کی مانند ہے


سیاست شطرنج کی چال کی مانند ہے، جسے چلانے والا اس کھیل کے تمام پہلوؤں سے باخبر رہتا ہے۔ اس ملک کے ستر فیصد نوکری پیشہ افراد جن کو یہ پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں، کیونکہ انہیں بخوبی علم ہے کہ یہ پیادے ہی ہیں جو بادشاہ اور بیگم کو بچانے کے لیے اپنی جان تک کی بازی لگا دیتے ہیں۔ سب سے پہلے، اس طبقے نے ”حقِ تعلیم“ کے بنیادی حق سے محروم کیا، اور تعلیم کو اتنا مہنگا کر دیا کہ مڈل کلاس اپنے پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو پڑھا تو دیتی ہے، مگر وہ خود اس کا بوجھ اٹھاتے ہوئے ان کے سہارے چھوڑ دیتی ہے۔ یہی طبقہ سرکاری نوکریوں پر یا تو عمر بھر ایکسٹینشن لیے بیٹھا رہتا ہے، یا پھر بیٹے، بیٹی، بھانجے، بھتیجے اور دیگر رشتہ داروں کے بڑے ہونے کا انتظار کرتا ہے تاکہ کرسی پر گوند لگائے رکھا جا سکے۔

ایک بار میری ملاقات ایک کلاس فیلو سے ہوئی، جو سیاسی وابستگی کی بنا پر ایک سرکاری بینک میں فارن ایکسچینج کی ہیڈ ہے (خدا کی پناہ! ) ۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ خیر، سیاستدان کی چال کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ یہ کس طرح اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ جیسے ایک حکمران سرکاری خزانے سے لیپ ٹاپ کی سکیم نکالتا ہے، ”منی بل“ کو اسمبلی میں ”طالب علموں کے لیے“ کے چورن کے طور پر پاس کراتا ہے، اور پھر فنانس منسٹری سے پیسے نکال کر آئی ٹی منسٹری میں منتقل کر دیتا ہے۔ وہاں ٹینڈر نکلتا ہے اور یوں پیسہ منسٹری سے نکل کر سپلائر کے پاس جا پہنچتا ہے۔ لوگ خوش ہو جاتے ہیں اور SSD کی جگہ ہارڈ ڈسک، سکرین کا سائز چھوٹا، 16 جی بی کے بجائے 8 جی بی ریم، گرافک کارڈ کی جگہ انٹل کا ڈیفالٹ چپ لگا کر اپنا لوگو چمکا کر 50 ارب کا پروجیکٹ 20 ارب میں کر کے 30 ارب کا فرق اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں۔ مڈل کلاس خوش ہو جاتی ہے کہ اس کا بچہ 16 سال پڑھ کر، دن رات محنت کر کے، اپنے والد کی 40 سالہ کمائی لگا کر 25 ہزار کا لیپ ٹاپ خرید آیا ہے، تاکہ وہ گھر بیٹھے نوکریوں کے لیے سی وی بنا سکے۔

یہ لیپ ٹاپ کی مثال صرف بات کی وضاحت کے لیے دی گئی تھی تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ یہ روز بروز نئے منصوبوں کے ذریعے کس طرح ہماری آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں اور ایک جھٹکے میں اربوں روپے سائیڈ والی جیب میں ڈال لیتے ہیں۔

یہ نو سر باز اب ہاتھ نہیں آنے والے، کیونکہ وہ بیوروکریسی جو انہیں جواب دہ بنا سکتی تھی، اب خود ان کے ہاتھوں کی میل بن چکی ہے۔ اب تو بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بیوروکریسی کی فائلیں ایجنسیوں میں پروموشن کی منظوری کے لیے بھجوائی جانے لگی ہیں تاکہ جو سر اٹھائے، اس کا بال منڈوا دیا جائے۔ اس لا علاج مرض کی کوئی دوا نہیں ہے سوائے اس کے کہ جو خرچہ آپ اپنے بچوں کی یونیورسٹیوں پر کر رہے ہیں، اور وہ چار سال بعد 1857 کی جنگ آزادی اور کارگل کے قصے کے علاوہ کچھ نہیں سکھا رہے، اور دھڑا دھڑ بے روزگاری سے تنگ آ کر دو کش سے چار کش پر پروموٹ ہو رہے ہیں، ان کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ دس پندرہ لاکھ جو BBA، MBA، MCS کی ڈگری پر خرچ کر رہے ہیں، وہ پیسہ بچا کر اپنے بچوں کو چھوٹے کاروبار یا اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک کے ایسے کالجز اور یونیورسٹیوں میں داخلہ دلائیں جو اسکالرشپ کے ساتھ آن لائن تعلیم فراہم کرتے ہیں اور ماڈرن ایجوکیشن دے رہے ہیں۔ ان یونیورسٹیوں میں داخلہ ہر کسی کے لیے کھلا ہے، بس انسٹاگرام پر تمنا بھاٹیا کو unfollow کرنا ہے، پھر وقت ہی وقت ہے۔

Facebook Comments HS