واخان راہداری: پاکستان، چین اور افغانستان کے لیے یکساں اہمیت کی حامل


واخان راہداری ہمیشہ سے علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے اسٹریٹجک اہمیت کا مقام رہا ہے یہ اہم جیوسٹریٹجک راہداری جو جنوبی اور وسطی ایشیا کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے کی سرحد 3 ریاستوں سے ملتی ہے۔ یہ ضلع ناہموار، دور دراز مقامات، گہری وادی، اور اونچے پہاڑوں پر مشتمل ہے۔

یہ کوریڈور 350 کلومیٹر طویل اور 26 سے 64 کلومیٹر چوڑی ہے۔ کوریڈور کا کل رقبہ 10300 کلومیٹر ہے اس کے علاوہ اس کی آبادی 20 ہزار ہے جس میں مختلف نسلی گروہ جیسے واخی، پامیری، اور کرغیز شامل ہیں۔ قدیم شاہراہ ریشم کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے واخان کو قوموں کے درمیان پل کا نام بھی دیا گیا ہے۔ تاریخی لٹریچر کے مطابق واخی لوگ سکندر اعظم کی اولاد ہیں اور بعد میں 19 ویں صدی میں اسماعیلی شیعہ میں تبدیل ہو گئے۔

یہ راہداری شمالی افغانستان میں واقع ہے۔ اس کی سرحدیں پاکستان، افغانستان، تاجکستان اور چین سے ملتی ہیں۔ یہ پاکستان کو چترال سے ملاتا ہے، یہ راہداری مشرق میں چین کے صوبہ سنکیانگ اور وادی چالاچیگو سے ملحق ہے، جب کہ اس کے شمال میں یہ تاجکستان سے جڑتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ اس کی سرحد 300 کلومیٹر، تاجکستان کے ساتھ 260 کلومیٹر اور چین کے ساتھ 74 کلومیٹر ہے۔ مغربی واخان میں پنجریا کا علاقہ جو ایک وادی ہے، کم اونچائی پر واقع ہے، جبکہ بالائی واخان جو زیادہ اونچائی پر واقع ہے دریائے پامیر بھی یہاں سے گزرتا ہے۔ مشہور دریائے آمو بھی واخان سے گزرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، واخان کوریڈور قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش جیسے عظیم پہاڑی سلسلوں میں گھرا ہوا ہے جس کی وجہ سے اس علاقے کو دنیا کی چھت بھی کہا جاتا ہیں۔

واخان صوبہ بدخشاں کا ایک ضلع ہے۔ یہ کوریڈور 1893 میں ڈیورنڈ لائن کے معاہدے میں عمل میں لایا گیا تھا۔ واخان 19 ویں صدی میں دو طاقتور سامراجی طاقتوں روس اور برطانیہ کے درمیان گریٹ گیم کے دوران دشمنی، بفر زون اور جغرافیائی اہمیت کا اہم عنصر رہا ہے۔ جب 1860 میں روس نے سمرقند، خوجند، تاشقند اور ملحقہ علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور برطانیہ کے خلاف مزید کامیابیاں حاصل کر رہا تھا۔ برطانیہ نے واخان کو بفر زون بنانا شروع کیا اور اسی لیے 1873 میں برطانیہ اور سوویت یونین کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جسے گورباچوف ولیم گرین ویل معاہدہ کہا گیا جس میں واخان کو بفر زون قرار دیا گیا۔

واخان کی پرانی تاریخ ہے۔ بہت سی سلطنتوں جیسے ساسانی، ترکوں کے سلاطین، تینتین بادشاہ، چین کے تونگ بادشاہ، فارس کے سامانی اور ترک منگولوں نے یہاں حکومت اور لشکر کشی کی۔ کشن چینی کے دور میں یہ وسطی ایشیا اور یورپ تک شاہراہ ریشم کی تجارت کا ایک اہم راستہ تھا۔ یہ گریٹ گیم کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں جیسے افغانستان، روس اور امیر بخارا کے درمیان طاقت کے حصول کا ایک مقام رہا ہے۔

واخان کوریڈور سٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ تین ریاستوں سے متصل ہونے کی بدولت یہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت کا مختصر ترین راستہ ہے۔ یہ اہمیت اس کی اقتصادی صلاحیت کو مزید بڑھاتی ہے۔ یہ ایک اقتصادی مرکز اور تجارتی راستے کا گیٹ وے ہے۔ جیسا کہ اس کالم میں پہلے لکھا جا چکا ہے کہ یہ قدیم شاہراہ ریشم کا ایک حصہ تھا۔ اس لیے یہ BRI کے لیے ایک اہم تجارتی راستہ ہو سکتا ہے۔ روایتی سمندری راستوں کے مقابلے میں یہ سمندری راستہ چھوٹا بھی ہے۔

واخان چین کے منصوبے بی آر آئی کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے لیے ایک اور تجارتی راستہ ہو گا جو چترال کے راستے چین کو ایرانی بندرگاہ چابہار اور پاکستان سے ملا سکتا ہے۔ چین جو پہلے ہی افغانستان کے کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ لہذا واخان میں اس کی سرمایہ کاری اس کے تجارتی روٹ کے فاصلے کو کم کر سکتی ہے۔ مزید برآں، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ BRI کے ذریعے واخان میں چینی انفراسٹرکچر کی تعمیر چین کی اقتصادی ترقی اور خطے میں اس کی بالادستی کو مزید فروغ دے گی۔ اس کے علاوہ واخان میں چینی موجودگی عسکریت پسندی کو روکنے میں مدد دے سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے واخان کوریڈور انتہائی اہمیت حامل ہے بشرطیکہ اگر اسے CPEC سے منسلک کیا جائے۔

ڈاکٹر محمد منیر اور ڈاکٹر محمد شفیق اپنے تحقیقی مقالے ”افغانستان، پاکستان اور چین کے لیے واخان راہداری کی اہمیت“ میں لکھتے ہیں کہ اگر اسے CPEC سے جوڑ دیا جائے تو پاکستان سے وسطی ایشیا تک تجارتی راستے میں 22 فیصد کمی آئے گی۔ جس سے بالآخر، کرایہ کی مد میں رقم کم ہو جائے گی۔ یہ اس وقت ممکن ہے اگر چین واخان اور چترال کے راستے پاکستان میں دوسرا تجارتی راستہ بنائے۔ اس کے علاوہ، واخان میں چینی سرمایہ کاری پاکستان کے لیے سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ قارئین کی معلومات کے لیے بتاتا چلوں کہ بھارت نے 2007 میں تاجکستان میں واخان کے قریب ایک سیکیورٹی ائرپورٹ تعمیر کیا تھا۔ اس طرح چین کی واخان میں سرمایہ کاری اور چترال۔ واخان کے نئے تجارتی راستے کی بدولت پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے اس بھارتی مقاصد کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف کچھ ماہرین خدشات کا اظہار کر کے سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر واخان ایک اور تجارتی راستہ بن گیا تو کیا پاکستان پر چینی انحصار کم ہو گا؟ اس کا جواب نہیں میں ہے۔ کیونکہ چین تاجکستان سے ایران تک سڑکوں اور ریل کا نیٹ ورک پہلے ہی بچھا چکا ہے جس کا پاکستان اور سی پیک پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

افغانستان کے لیے یہ ایک قابل آمدن راہداری ہے۔ واخان راہداری کی اہمیت کے پیش نظر افغانستان بدخشاں سے چین تک 50 کلومیٹر سڑک تعمیر کر رہا ہے۔ جس کا تخمینہ لاگت 369 ملین افغانی ہے جس کا افتتاح 17 ستمبر 2023 کو کیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ ملازمتیں پیدا کر سکتا ہے، اس کے انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنا سکتا ہے، اور ٹرانزٹ فیس کے ذریعے افغانستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔

دوسری طرف، اس کی سٹریٹجک اہمیت اور اہم مقامات کے باوجود واخان کے لوگ اب بھی پتھر کے دور میں رہ رہے ہیں۔ ان کا کاروبار اب بھی بارٹر سسٹم پر منحصر ہے۔ واخان کے شہریوں کے پاس پیسے نہیں، وہاں پکی سڑکیں نہیں، گیس نہیں، بجلی نہیں، انٹرنیٹ نہیں، مواصلاتی نظام نہیں۔ موٹریں نایاب ہیں۔ ان کے پاس واحد ذریعہ کمیونٹی ٹرانسپورٹ ہے جیسے اونٹ، خچر اور پیدل سفر کرنا۔ یہ خطہ گریٹ گیم، اینگلو افغان جنگ، چین کے انقلاب 1949، افغانستان میں روسی مداخلت اور 9 / 11 کے واقعے کے بعد افغانستان پر امریکی قبضے کے دوران قیمت بھی بھگت چکا ہے لیکن لوگوں کی زندگیوں میں کوئی بہتری نہیں آئی۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اشکاشم کے لوگوں کا کہنا ہے کہ واخان میں چینی سرمایہ کاری کے بعد وہ چین سے اچھے اور معقول بکرے خریدنے کی امید کر رہے ہیں، ان کے بقول ان کو امید ہے سڑکیں بنیں گی، صحت کا نظام بہتر ہو گا۔ لیکن انہیں آلودگی، بہت زیادہ ٹریفک، دخانی ثقافت کے ختم ہونے کا خوف اور اس علاقے کا سکون اور خوبصورتی جس سے وہ پیار کرتے ہیں متاثر ہونے کا خوف ہے۔

Facebook Comments HS