پاکستان میں غربت
غربت کی اصلاح کا تذکرہ عام طور پر کسی انسان یا معاشرے کی بنیادی ضروریاتِ زندگی کے پس منظر میں کیا جاتا ہے جبکہ اس کے علاوہ بھی غربت کا لفظ مختلف اوقات میں مختلف معانی میں آتا ہے۔ ماہرین غربت کی مختلف وجوہات بتاتے ہیں، جنگ، قحط اور دیگر آفات کی غیر موجودگی میں اکثریت کی غربت کی اصل وجہ نچلی طبقے کی دولت کا امیروں تک منتقل ہونا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے 2 ارب بچوں میں سے 1 ارب بچہ غربت کی سطح کے نیچے زندگی گزار رہا ہے، 44 کروڑ بچوں کے پاس سر چھپانے کی چھت نہیں ہے، 40 کروڑ بچے پینے کے لیے صاف پانی کو ترس رہے ہیں، 21 کروڑ طبی سہولیات سے محروم ہیں۔
جبکہ ہمارے حکمران گزشتہ کتنی صدیوں سے اسی بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ انہوں نے ایک دوسرے سے بڑھ کر پاکستان میں غربت میں کمی لانے کے لیے بے شمار کام کیا ہے۔ بہرحال یہ تو آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ غربت کہاں ختم ہوئی ہے۔ خودکشیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، پرانے کپڑے اور بدحال پاکستانی غربت میں اضافے کا منہ بولتا ثبوت ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ لوگ مہنگائی کی وجہ سے بہت پریشان ہیں اور مہنگائی کی ہی بدولت غربت کی شرح بڑھ رہی ہے۔
پاکستان میں غربت کے حوالے سے ایک تلخ حقیقت سامنے آئی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر تیسرا پاکستانی غربت کی گرفت میں ہے۔ اس بات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ موجودہ دور میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ غربت ہی ہے، جس کی وجہ سے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ ملک اس لیے غریب ہے کہ ریاست غریب ہے، ملک اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کر دیتا ہے اور یہی حال عوام کا بھی ہے۔ پاکستان کو ترقیاتی منصوبوں کی زیادہ ضرورت ہے، جس کے لیے ہم سب کو مل کر ایک ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہو گا تاکہ ہم غربت سے نجات پا سکیں۔


