انمول رشتہ
کون کہتا ہے کہ یاری برباد کر دیتی ہے
کوئی نبھانے والا ہو تو دنیا یاد کرتی ہے
انسان ایک معاشرتی حیوان ہے۔ وہ اس دنیا میں تنہا زندگی بسر کرنے سے قاصر ہے۔ انسان اس دنیا میں مختلف فرائض انجام دے رہا ہے۔ وہ بیک وقت کئی رشتوں کی ڈور میں بندھا ہوا ہے۔ کہیں وہ باپ، بھائی، خاوند، ماں، بہن، بیوی کے روپ میں سب اپنے فرائض کو بطریق احسن انجام دے رہے ہیں۔ ان رشتوں میں انسان کو اپنی حدود کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ان رشتوں میں ذرا سی بے احتیاطی، بد گمانی، غلط فہمی، بد زبانی ان رشتوں کی خوبصورتی کو ختم کر دیتی ہے۔
اس لیے ان تمام رشتوں میں مروت اور لحاظ کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اللہ نے انسان کو ایک ایسے رشتے سے بھی نوازا ہے جو اس کو فرحت اور خوشی کے احساس سے بھر پور ہے۔ وہ رشتہ دوستی کا ہے۔ لفظ دوستی محض پانچ حروف پر مشتمل نہیں ہے بلکہ اپنے اندر ایک خوبصورت احساس کو لیے ہوئے ہے۔ دوستی کے معنی ”د“ سے ”دعا“ ، ”و“ سے ”وفا“ ، ”س“ ”سچائی“ ، ”ے“ سے ”یقین“ کے ہیں۔
میرے نزدیک اللہ کی کئی بڑی نعمتوں میں سے ایک انمول نعت مخلص دوست بھی ہے۔ یہ رشتہ دو طرفہ مخلصی کا حامل ہے۔ احساس، اخلاص، اعتبار، اعتماد اس کی اولین شرائط ہیں۔ ”دوستی ایک انمول تحفہ ہے جو قیمت سے نہیں بلکہ قسمت سے ملتا ہے۔“
مجھے اپنی اٹھارہ سالہ زندگی میں صرف چار مخلص دوست ملے۔ جنھوں نے ثابت کیا کہ میں دوست کے روپ میں ان کے لیے ہیرا ہوں مگر جنھوں نے مجھے اپنے مطلب کے لیے استعمال کیا اور پھر ناکارہ چیز سمجھ کر ٹھوکر مار دی۔ میں اذیت اور تکلیف سے تو گزری مگر صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ وہ بھیانک لمحات آج بھی میرے دل پر نقش ہیں۔ دل پر لگی باتیں اکثر دل کی آواز چھین لیتی ہیں۔ اللہ نے مجھے چار بہترین دوست عطا کیے۔ انھوں نے میری زندگی کو خوشیوں کا گہوارہ اور گلو گلزار بنایا۔
ان کے نام اس قابل ہیں کہ میری تحریر کے حسن میں اضافہ کریں۔ ڈاکٹر ریطہ زید، سیرہ مومنہ بخاری، سیدہ زینب علی، حسینہ واجد۔ میری زندگی کی بے رنگ تصویر میں انہوں نے رنگ بھرا۔ سب اپنی اپنی منزل کی طرف سفر طے کر رہے ہیں۔ آج وہ جہاں بھی ہیں۔ میرے لیے خاص رہیں گے کیونکہ انہوں نے مجھے عام سے خاص کر دیا۔ وقت تو بہتے پانی کی طرح گزر جاتا ہے۔ اگر کچھ باقی رہتا ہے تو محض یادیں۔ جو زندگی بھر میرے لیے خاص رہیں گئیں۔ آج وہ تو میرے ہمراہ نہیں مگر جب بھی ان کی یاد آتی ہے تو ان کے ساتھ گزارے ہوئے خوبصورت لمحات میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر جاتی ہے۔ وہ تاحیات میری دعاؤں کا حصہ رہیں گے کیونکہ دعا محبت کے اظہار کا بہترین انداز ہے۔ آج وہ جہاں بھی ہیں میری طرف سے ان کے نام پیغام:
”آپ کے ساتھ سفر مختصر رہا مگر یاد گار رہا“
دوستوں کے نام نظم
پھول کھلتے ہیں، لوگ ملتے ہیں مگر
پت جھڑ میں جو پھول مرجھا جاتے ہیں
وہ ہزاروں کے آنے سے ملتے نہیں۔
کچھ لوگ اک روز جو بچھڑ جاتے ہیں
وہ ہزاروں کے آنے سے ملتے نہیں
عمر بھر چاہے کوئی پکارا کروانے کا نام
وہ پھر نہیں آتے، وہ پھر نہیں آتے
زندگی کے سفر میں گزر جاتے ہیں جو مکاں
وہ پھر نہیں آتے، وہ پھر نہیں آتے
آنکھ دھوکا ہے، کیا بھروسا ہے سنو!
دوستوں! شک دوستی کا دشمن ہے
اپنے دل میں اسے گھر بنانے نہ دو
کل تڑپنا پڑے یاد میں جن کی
روک لو، روٹھ کر ان کو جانے نہ دو
بعد میں پیار کے بھیجو چاہے ہزاروں سلام
وہ پھر نہیں آتے، وہ پھر نہیں آتے
زندگی کے سفر میں گزر جاتے ہیں جو مکاں
وہ پھر نہیں آتے، وہ پھر نہیں آتے


