سوشل میڈیا کے ذہنی صحت پر اثرات
سوشل میڈیا ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے فیس بک انسٹاگرام یوٹیوب ٹویٹر جیسے پلیٹ فارم پر گھنٹوں گزارتے ہیں لیکن کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ سوشل میڈیا کا ہماری ذہنی صحت پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟ سب سے پہلے تو سوشل میڈیا کے کچھ اہم پہلو دیکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا ہمیں دنیا سے جوڑے رکھتا ہے سوشل میڈیا سے ہم فیملی اور دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہ سکتے ہیں سوشل میڈیا سے ہمیں مختلف انفارمیشن بھی ملتی ہے سوشل میڈیا سے بہت سی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ سوشل میڈیا ہمیں اپنے خیالات اور تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ لیکن دوسری ہی جانب سوشل میڈیا کے کچھ منفی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ جو کے ہمارے ذہن پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ سب سے بڑا جو اثر ہے وہ ہے موازنہ۔ ہم اکثر دوسروں کی زندگیوں کو دیکھ کر اپنی زندگی کے ساتھ موازنہ شروع کر دیتے ہیں اور یہ ہمیں اداسی اور احساسِ کم تری میں مبتلا کر دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنی بہترین تصویر دکھاتا ہے اور ان کی روزمرہ کی مشکلات کو ہم حقیقت میں نہیں دیکھتے۔
آپ اپنی زندگی کے تو مثبت منفی ہر پہلو کو دیکھ رہے ہیں یعنی کے آپ اپنی زندگی میں کچھ اچھے لمحات کو بھی دیکھ رہے ہیں برے حالات کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ لیکن دوسروں کی زندگیوں میں آپ اچھے حالات کو دیکھتے ہوئے ان کا آپ اپنی زندگی کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں۔ جب کے آپ کو نہیں پتہ کے جو سوشل میڈیا پر آپ کو خوش جوڑے یا خوشحال زندگی جن کی نظر آ رہی ہے، اصل میں اُن کو اصل میں اُن کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہو گا۔
تو اس طرح موازنہ کرنے سے ہماری ذہنی صحت بھی خراب ہو رہی ہے اور دوسرا ہم جب تک ہم کسی کی زندگی کے ہر پہلو کو نہیں دیکھ لیتے، تب تک ہم اپنی زندگی کے ساتھ موازنہ کیسے کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہم زیادہ وقت گزارنے سے دباؤ یعنی کہ اسٹریس اور اس طرح یعنی کہ اینگزائٹی بھی بڑھ سکتی ہے اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انسان کو لگتا ہے کہ میں بہت پیچھے رہ گیا ہوں۔ سب سے بڑا مسئلہ جو ہمیں سوشل میڈیا سے ہوتا ہے وہ ہے نیند کی کمی۔
دیر تک اسکرین کے سامنے رہنا اور سوشل میڈیا دیکھتے رہنا ہماری نیند کے معیار پر بہت گہرا اثر ڈالتا ہے۔ ہم اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے ہر وقت اسکرین میں مگن رہتے ہیں۔ دیر تک اسکرین کے سامنے رہنا اور سوشل میڈیا دیکھتے رہنا ہماری نیند کے معیار پر بہت گہرا اثر ڈالتا ہے اور نیند کی کمی ذہنی مسائل جیسے کہ ڈپریشن یعنی کہ اُداسی، اینزائٹی یعنی کہ بے چینی جیسی مشکلات کو جنم دیتی ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کی زیادتی سے ہمارے حقیقی دنیا کے تعلقات پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے۔
بہت سے لوگ حقیقی دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے ہر وقت اسکرین میں مگن رہتے ہیں اور یہ چیز دوسروں سے خاص طور پر اپنے پیاروں سے دور کر دیتی ہے۔ اور احساس تنہائی پیدا کر دیتی ہے۔ تو اب سوال یہ ہے کہ اپنی ذہنی صحت کو بہتر کیسے بنا سکتے ہیں؟ سب سے پہلا مشورہ تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کر دیں اور دن کا کچھ وقت سوشل میڈیا ڈی ٹاکس کریں یعنی کہ بغیر سوشل میڈیا کے گزاریں۔ دوسرا، حقیقی دنیا میں اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزاریں، اس سے ایک تو آپ بہتر محسوس کریں گے اور آپ کے سماجی تعلقات بھی مضبوط ہوں گے۔
تیسرا یہ کہ سوشل میڈیا پر دیکھے جانے والے مواد کو حقیقت کے توازن میں دیکھیں اور ان کے ساتھ اپنا موازنہ نہ کریں۔ کیونکہ یہ میں آپ کو پہلے بھی بتا چکی ہوں کہ جب تک آپ کسی کی زندگی کے ہر پہلو کو نہیں دیکھ لیتے، تب تک آپ اپنی زندگی کو دوسروں کی زندگی کے ساتھ موازنہ نہیں کر سکتے۔ اس سے آپ کو ذہنی صحت بھی کافی حد تک متاثر ہوتی ہے، یاد رکھیں کہ سوشل میڈیا کو سمجھداری سے استعمال کرنا بہت زیادہ ضروری ہے۔ اگر آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا آپ کی ذہنی صحت پر اثر ڈال رہا ہے تو اس سے دوری اختیار کریں اور اپنی صحت کو اولین ترجیح دیں۔


