وجہ حصولِ علم فقط ذریعہ حصولِ دولت


ہم ایک ایسے معاشرہ میں رہتے ہیں جہاں اقتصادی اقدار کو اخلاقی اقدار پر ترجیح دی جاتی ہے۔ آج کا انسان ہر کام جو وہ زندگی میں کرتا ہے بلا واسطہ نہیں تو بالواسطہ دولت کے حصول کے لئے کرتا ہے۔

اور کیوں نہ کرے کہ معاشی توازن اچھی زندگی گزارنے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جن کو خالصتاً اگر صرف ان کے حصول کے لئے نہ کیا جائے بلکہ ان کے حصول کا مقصد کسی اور شے کو بنایا جائے تو یہ ان کے ساتھ نا انصافی اور کرپشن کہلائی جانی چاہیے۔

تعلیم کا حصول بھی ایک ایسا عمل ہے جو پورے اخلاص کے ساتھ صرف اور صرف علم کے حصول کے لئے نہ کیا جائے تو تعلیم حاصل کرنے والا علم حاصل کرنے میں ناکام رہ جاتا ہے۔

آج کا طالبِ علم اپنی ڈگری یا علمی میدان کا انتخاب علمی بنیادوں پر کرنے کی بجائے اس بنیاد پر کرتا ہے کہ فلاں ڈگری کرنے سے اُس کو زیادہ تنخواہ ملے گی یا فلاں ڈگری کرنے سے۔

اس طریقِ انتخاب سے جو صورت سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ایسی تعلیم سے تنخواہ دار غلام اور نوکر پیدا ہو رہے ہیں فکری ذہن والے طالبِ علم نہیں۔

پاکستانی طالب علموں میں تعلیم کو لے کر جو عام رجحان پایا جاتا ہے اس کو ہم اس طرح بیان کر سکتے ہیں :
”وجہ حصولِ علم فقط ذریعہ حصولِ دولت“

تعلیم جب علم کے حصول کے لئے نہیں بلکہ فقط دولت کے حصول کے لئے کی جائے تو وہ تعلیم شعوری نشو و نما کا ذریعہ نہیں بنتی۔ تعلیم کا بنیادی اور اہم ترین مقصد تو شعوری بیداری اور نشو نما ہونی چاہیے۔

لیکن پاکستان میں ہمیں کہانی اس کے بر عکس نظر آتی ہے۔

وجہ حصولِ علم فقط ذریعہ حصولِ دولت، گویا علم کے ساتھ شرک ہے۔ اور یہ ایسا شرک ہے جس سے آخرت تو خراب نہیں ہوتی لیکن معاشرہ تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔

طلباء اپنی تعلیم کا مظہر ہوتے ہیں۔ چنانچہ جیسا معیارِ تعلیم ہو گا ویسے ہی طلباء ہوں گے۔ جس سماج میں وجہ حصولِ علم فقط ذریعہ حصولِ دولت بن کر رہ جائے وہاں عالم نہیں پیدا ہو سکتے مگر صرف تنخواہ دار غلام۔ تو گویا علم حاصل کرنے کا درست مقصد فکری عمل کو پختگی بخشنا ہونا چاہیے تاکہ انسان اپنی سماجی اور ثقافتی عینک اتار کر دنیا کا وسعتِ قلبی سے مطالعہ و مشاہدہ کر سکے۔ کائنات کو جاننے کی سعی کرے، تاریخ کا غیر جانب داری سے، فلسفہ و منطق و سائنس سے بیزاری کے بجائے ان کا تحقیقی و تنقیدی نظر سے مطالعہ کرے۔

Facebook Comments HS