صدر ٹرمپ کی تلخ نوائی قابل فہم ہے


دنیا کے ملکوں میں عام انتخابات کا انعقاد ایک معمول کا عمل ہے لیکن چند ملک ایسے ہیں جن کے انتخابات پر دنیا کی نظر ہوتی ہے۔ ان ملکوں میں امریکا سرفہرست ہے جس کی وجوہ ہیں۔ اس کی معیشت دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے جس کی جی ڈی پی کا حجم 27.36 ٹریلین ڈالر ہے، تحقیق، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اس کی سبقت اب تک برقرار ہے۔ وہ دنیا کی سب سے بڑی ایٹمی اور فوجی طاقت ہے، امریکی ڈالر دنیا کی اہم ترین ریزرو کرنسی ہے جسے وہ اکثر اپنے حریفوں خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے، بڑھتی ہوئی سخت مسابقت کے باوجود، اس کی ملٹی نیشنل کارپوریشنز عالمی مارکیٹ پر غلبہ رکھتی ہیں اور ’بہ وقت ضرورت‘ اپنا حکم منوانے کے لیے وہ طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرتا۔ یہ عوامل امریکی انتخابات کو دنیا کے لیے اہم بنا دیتے ہیں۔

تاہم، امریکا کے حالیہ صدارتی انتخاب کی اہمیت اس اعتبار سے مختلف ہے کہ اس کا انعقاد ایک ایسے دور میں ہوا ہے جب عالمی سطح پر امریکا کی سیاسی اور معاشی سبقت کو مشکل مسائل درپیش ہیں، اس کی معیشت کئی برسوں سے سخت دباؤ میں ہے اور عام امریکی کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ حالیہ صدارتی انتخابات میں اس صورت حال کی بھرپور عکاسی ہوئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے کا عہد کیا اور غیر معمولی عوامی مقبولیت کے ذریعے شان دار انتخابی کامیابی حاصل کر لی۔

انہوں نے جارحانہ انتخابی مہم کے دوران کئی حیران کن اعلانات کیے جن پر اب عمل درآمد کا مرحلہ آ گیا ہے۔ ذہنوں میں سوال ابھرتا ہے کہ نو منتخب صدر نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اور اس کے بعد اتنے جارحانہ اور دھمکی آمیز اعلانات کیوں کیے؟ یہ جاننے کے لیے ان اعلانات کے پس پشت کارفرما عوامل کا تجزیہ ضروری ہے۔

صدر ٹرمپ نے اچانک یہ اعلان کر کے دنیا کو چونکا دیا کہ کینیڈا کو امریکا میں شامل ہو کر اس کی 51 ویں ریاست بن جانا چاہیے جس سے دونوں کا فائدہ ہو گا، اس غیر متوقع بیان نے کینیڈا میں سیاسی بحران برپا کر دیا اور وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کو مستعفی ہونے کا اعلان کرنا پڑا۔ رقبے کے لحاظ سے کینیڈا روس کے بعد دنیا کا دوسرا سب بڑا ملک ہے جس میں دس ٹائم زون ہیں۔ ذرا غور کریں کہ یہ اس ملک کو ضم کرنے کی بات کی گئی ہے جس کا رقبہ امریکا سے دس لاکھ مربع میل زیادہ ہے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی، کینیڈا، امریکا کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ 2023 میں دونوں ملکوں کا اشیاء اور خدمات کا کل تجارتی حجم 923 ارب ڈالر تھا۔ امریکا اور کینیڈا، شمالی امریکا کی علاقائی تجارتی تنظیم نافٹا کے رکن بھی ہیں۔ 2023 میں امریکا نے کینیڈا سے 431 ارب ڈالر کی اشیاء درآمد کیں جن میں تیل، گیس، اہم معدنیات، گاڑیاں سمیت سیکڑوں اہم اشیاء شامل تھیں۔ اسی مالی سال میں کینیڈا کے لیے امریکی اشیاء کی برآمدات 352.84 ارب ڈالر تھیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر کینیڈا کو امریکا کی 51 ویں ریاست بنانے کا معجزہ کر دکھانا ممکن نہیں تو پھر ایسا بلند بانگ بیان دیا ہی کیوں گیا؟ اس حوالے سے جسٹن ٹروڈو کا یہ تبصرہ قابل فہم ہے کہ ٹرمپ ایک اعلیٰ پائے کے مذاکرات کار ہیں جنہیں سخت موقف اختیار کر کے اپنی شرائط منوانے میں مہارت حاصل ہے۔ امریکا دراصل، کینیڈا کو یہ پیغام دے رہا ہے کی اس کی شرائط پر تجارتی خسارہ ختم کیا جائے ورنہ صورت حال انضمام کی انتہا تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ تاہم، مارچ میں میں ہونے والے کینیڈا کے عام انتخابات کے بعد معلوم ہو سکے گا کہ نئی حکومت امریکا کا کتنا دباؤ برداشت کر پائے گی۔

کینیڈا کے بعد امریکا کا دوسرا سب بڑا پڑوسی ملک میکسیکو بھی زیر عتاب ہے۔ 2023 میں میکسیکو اور امریکا کی دو طرفہ تجارت کا حجم 804 ارب ڈالر تھا۔ میکسیکو کی اہم برآمدات میں پیٹرولیم مصنوعات، خام تیل اور قدرتی گیس شامل ہیں۔ امریکا کو میکسیکو سے تجارت میں 152 ارب ڈالر کا خسارہ ہے۔ جتنا خوف ناک خسارہ ہے، اتنا ہی میکسیکو پر بھیانک عذاب ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خلیج امریکا رکھنا چاہیں گے۔

انہوں نے دونوں پڑوسی ملکوں، کینیڈا اور میکسیکو کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے غیر قانونی تارکین وطن اور منشیات کی تجارت کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے تو ان کی درآمدات پر 25 فیصد ڈیوٹی عائد کر دی جائے گی۔ میکسیکو کی پہلی خاتون صدر کلاڈیا شین بام بھی چند ماہ قبل بھاری اکثریت سے اقتدار میں آئی ہیں۔ امریکی صدر کی طرح ان کی عوامی مقبولیت بھی عروج پر ہے۔ وہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتی ہیں اور جرات مندانہ فیصلوں سے امریکا کے تیزی سے بڑھتے دباوٴ کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان کی حکومت اب تک چار لاکھ پچھتر ہزار سے زیادہ تارکین وطن کو حراست میں لے چکی ہے، منشیات کی بھاری مقدار کے علاوہ بازاروں میں موجود چین کی غیر قانونی اشیاء بھی بڑے پیمانے پر ضبط کی جا رہی ہیں۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ ان کے مثبت اقدامات کتنے نتیجہ خیز ہوں گے۔

امریکا کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار چین ہے۔ دونوں کے درمیان 575 ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے جس میں امریکا کو 279 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا ہے۔ چین بھی صدر ٹرمپ کی سخت تنقید کے زد پر ہے۔ وہ چین کی درآمدات پر 60 فیصد ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ جب تک چین، کم قدر والی سستی اشیاء امریکا کو برآمد کر کے اس کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر تھا اور امریکا میں کم لاگت کی مصنوعات تیار کرنے والی صنعتوں کو دیوالیہ اور اس کے کارکنوں کو بے روزگار کر رہا تھا اس وقت تک سب ٹھیک تھا۔

لیکن جب سے چین نے جدید ترین ٹیکنالوجی سے تیار کردہ اعلیٰ قدر کی حامل مصنوعات، کم قیمت پر امریکی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت کرنی شروع کی ہیں وہ امریکا کے لیے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔ اس ضمن میں کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ ٹیسلا کار سے کہیں بہتر اور کافی کم قیمت، چین کی، بی وائی ڈی ( BYD) الیکٹرک کار اس امر کی محض ایک مثال ہے۔ یہ چین کی اسی معاشی حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ اس کا تجارتی سر پلس ایک ہزار ارب ( ایک ٹریلین ) ڈالر کی تاریخ ساز سطح تک جا پہنچا ہے جب کہ امریکا کو 773 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے جو اسی طرح بڑھتا رہا تو جلد ایک ٹریلین ڈالر کی خطرناک سطح چھو لے گا۔ یہ عنصر بھی چین پر امریکا کے قہر و غضب کی ایک بڑی وجہ ہے۔

یورپی یونین سے بھی امریکی صدر خوش نہیں ہیں۔ ان کے معتمد خاص ایلون مسک یورپی ملکوں کے معاملات میں کھل کر مداخلت کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے جرمنی، برطانیہ اور فرانس ان پر بار بار مداخلت کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ امریکا کی ناراضی کا بنیادی سبب یہاں بھی معاشی ہے۔ یورپ، امریکا کی نہایت اہم مارکیٹ ہے کیوں کہ یورپی صارفین مہنگی امریکی مصنوعات خریدنے کی مالی قوت رکھتے ہیں۔ امریکا اتنی بڑی مارکیٹ سے محروم ہونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔

اسے چین سے سخت خوف لاحق ہے جو امریکا کو پیچھے چھوڑ کر یورپی مارکیٹ پر تیزی سے قدم جما رہا ہے۔ یورپ، کساد بازاری کا شکار ہے جس سے نکلنے کے لیے اسے تجارتی خسارے میں کمی، بیرونی سرمایہ کاری اور مہنگائی کے شکار شہریوں کو سستی اشیائے صرف کی شدید ضرورت ہے۔ اس ضمن میں امریکا، یورپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ امریکا طاقت ور ملک ہے، یورپ کا اس پر سیاسی و دفاعی انحصار بھی زیادہ ہے لہٰذا صدر ٹرمپ اس کے خلاف تجارتی سفارت کاری کی بجائے غیر روایتی طریقے استعمال کر رہے ہیں۔

اب آتے ہیں ڈنمارک کئی طرف جو نیٹو میں امریکا کا اتحادی ہے۔ گرین لینڈ اس کا ایک خودمختار علاقہ ہے۔ صدر ٹرمپ اسے امریکا میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ 2019 میں بھی انہوں نے اسے خریدنا چاہا تھا۔ دنیا کے سب سے بڑے اور بے پناہ قیمتی معدنیات سے مالامال اس 80 فیصد برف پوش جزیرے میں صرف 56 ہزار لوگ آباد ہیں۔ گرین لینڈ کو 1946 میں اس وقت کے امریکی صدر ہینری ٹرومین نے بھی دس کروڑ ڈالر میں خریدنے کی کوشش کی تھی۔ امریکا کو ڈر ہے کہ چین اور روس کی کمپنیاں ان نادر معدنیات میں سرمایہ کاری نہ شروع کر دیں جنہیں جدید ٹیکنالوجی اور اس سے تیار کردہ مصنوعات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ہینری ٹرومین 76 سال پہلے اشتراکی روس (سویت یونین ) کو یہاں آنے سے روکنا چاہتے تھے آج صدر ٹرمپ، نیم اشتراکی چین کو روکنے کے درپے ہیں۔

مندرجہ بالا تجزیے سے چند منفرد حقائق سامنے آتے ہیں۔ عام طور پر دنیا کا کوئی ملک اپنے تمام بڑے تجارتی شراکت داروں کے خلاف بہ یک وقت محاذ آرائی نہیں کرتا اور نہ انہیں دھمکاتا ہے۔ ان حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے نو منتخب صدر نے اِرَادَتاً اپنے تمام بڑے تجارتی پارٹنرز کے خلاف غیرمعمولی جارحانہ حکمت عملی اختیار کی ہے جو ان کی اس مایوسی کی غمازی کرتی ہے کہ امریکا مروجہ کاروباری اصولوں کے ذریعے اپنے تجارتی حریفوں کو زیر نہیں کر سکتا۔ امریکا، علم و دانش کا مرکز ہے، اس سے زیادہ کون اس تاریخی حقیقت کو جان سکتا ہے کہ معیشت اور تجارت کا اپنا فطری حرکیاتی نظام ہوتا ہے جسے نہ کوئی اپنی خواہش کے مطابق ڈھال اور نہ طاقت کے ذریعے ختم کر سکتا ہے۔

یہ اکیسویں صدی کی نئی دنیا ہے جس میں درجنوں معیشتیں تیزی سے ابھر چکی ہیں، دنیا میں قوت خرید رکھنے والے متوسط طبقے کے کئی ارب نئے صارفین پیدا ہو چکے ہیں، ان کی تعداد میں برق رفتار اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی مارکیٹ کی نئی طاقتیں ماضی کی طاقتوں کی پسپا کر رہی ہیں۔ یہ سب ارتقائی عمل کا کمال ہے اس میں کسی ملک کی کوئی خطا نہیں۔

1990 کی دہائی تک تمام امریکی صدور خوش نصیب تھے، دنیا پر ان کا راج تھا۔ دو عالمی جنگیں اور سوویت بلاک بھی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ ان سب کے برعکس صدر ٹرمپ کو ورثے میں وہ امریکا ملا ہے جو تیزی سے ترقی کرتی دنیا میں سنگین معاشی مسائل سے دوچار ہے۔ انہیں اجتماعی قیادت تشکیل دینے والی ایک مختلف دنیا ملی ہے جسے امریکی صدر کی شکل میں کسی عالمی قائد کی ضرورت نہیں۔ اب کوئی ملک ’عظیم‘ نہیں ہو گا بلکہ سب ملک مل کر ایک عظیم دنیا تخلیق کریں گے۔

مذکورہ بالا عوامل جن پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کوئی اختیار نہیں، ان کی پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ان کی نظر میں امریکا کی مشکلات، پرانی طرز سیاست کا نتیجہ ہیں لہٰذا انہوں نے غیر روایتی سیاست کا انداز اپنا لیا ہے۔ ان مشکل حالات میں ان کی تلخ نوائی قابل فہم ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ بات کلام کے مقام سے آگے نہیں بڑھے گی۔

Facebook Comments HS

ندیم اختر، سندھ

ندیم اختر ہے کی دلچسپی کے شعبے تصنیف و تالیف، صحافت اور ترجمہ نگاری نیز قومی اور عالمی امور ہیں۔ ندیم اختر سندھ نیشنل سٹو ڈنٹس فیدریشن کے بانی سینئر نائب صدر رہے ہیں جس کے بانی صدر جام ساقی تھے۔ ملک کی جمہوری اور قومی حقوق کی جدوجہد میں شریک رہے، کئی جریدوں کی ادارت کر چکے ہیں، ڈاکٹر کامران اصدر علی، ڈاکٹر احمد یونس صمد، ڈاکٹر ناظر محمود، ڈاکٹر جعفر احمد کی کتابوں کے علاوہ ڈاکٹر مبارک علی اور دیگر دانشوروں کی تصانیف اور مضامین کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔

nadeem-akhtar-sindh has 19 posts and counting.See all posts by nadeem-akhtar-sindh