ذہن کی چالاکیاں
موبائل فون آنے سے پہلے پی ٹی سی ایل کے دور میں عموماً ہر بٹوے میں ایک چھوٹی سی ٹیلیفون انڈیکس یا ایڈریس لکھنے والی کاپی لگی ہوتی تھی۔ اس پر حروف تہجی کے حساب سے نام پتہ اور فون نمبر لکھے جاتے تھے۔ لکھے تو محض احتیاط کے طور پر ہی جاتے تھے مگر حقیقتاً سب زبانی یاد ہوا کرتے تھے۔ ادھر نام لیا ادھر نمبر ذہن میں مچلتا ہوا آ گیا۔ محسوس نہیں ہوتا تھا کہ یاد رکھنا کوئی بڑی بات ہے۔
پھر کالج دور میں نام اور نمبرز بڑھنے لگے تو پھر ہمارے ہاتھ اپنا ایک ایسا روم میٹ اور دوست فاروق احمد لگ گیا جس کا حافظہ بلا کا تھا۔ اس کو ایک بار کسی کا نام نمبر بتا دیتے تو خواہ مہینوں بعد ضرورت پڑتی تو وہ پوچھنے پر اسی طرح دہرا دیتا۔ اسی طرح ہمارے گاؤں کا ایک لڑکا عامر بھی پورے گاؤں کا ٹیلیفون انڈیکس تھا۔ اس سے گاؤں کے جس بھی بندے کا نمبر پوچھو وہ اسی وقت بتا دیتا۔
پھر موبائل فون آئے تو نمبر سیو ہونا شروع ہو گئے اور بوقت ضرورت ایک کلک پر سامنے آ جاتے۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ کم ہوتی یاد کا بھی بیڑہ غرق ہو گیا۔ جو نمبر چاہیے اسی وقت بٹن دبا کر حاصل ہو جائے تو یاد کرنے کا کشٹ کون کرتا پھرے۔ یوں وہ فون نمبر جو پہلے اپنے حافظے میں یاد رکھتے تھے وہ فون کی میموری کے حوالے کر دیے۔ اب شاید ہی اپنے نمبر کے علاوہ فون میں موجود ہزاروں کنٹکٹ نمبرز میں سے کوئی یاد ہو۔ کئی ایسے لوگوں سے بھی واسطہ پڑا ہے جو اپنا ذاتی نمبر بھی فون سے دیکھ کر بتاتے ہیں۔
آج ہنری کسنجر کی کتاب ورلڈ آرڈر پڑھتے ہوئے انکشاف ہوا کہ یہ صورتحال تو ایک گلوبل مسئلہ بن چکا ہے۔ انسانی ذہن ایسی انفارمیشن کو جس کا بوقت ضرورت فوری حصول ممکن ہو جائے تو وہ اسے یادداشت تک نہیں لے جاتا۔ مثلاً جو نام اور نمبر فون میں سیو ہے تو وہ آپ کو یاد نہیں ہو گا کیونکہ ضرورت پڑنے پر وہ فون سے فوری مل جاتا ہے۔ یوں انفارمیشن کے دور میں ہم فنگر ٹپس پر معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ یوں انفارمیشن لوڈ کے دور میں ذہن ان معلومات کو غیر ضروری سمجھ کر یاد نہیں کرتا جس کی وجہ سے یہ انفارمیشن نالج کی شکل اختیار نہیں کر سکتی۔ اسی وجہ سے نالج نہ ہونے کے باعث یہ اگلے درجے یعنی حکمت اور دانائی کی شکل بھی اختیار نہیں کر پاتی ہیں۔ اس سے عالمی سطح پر لیڈرشپ کا فقدان ہو رہا ہے۔
کسنجر کی کتاب پڑھتے پڑھتے پھر مجھے احساس ہوا کہ اس کتاب میں بار بار رپیٹ ہونے والے لفظ کو ہر بار فون میں موجود ڈکشنری سے کیوں دیکھنا پڑ رہا ہے۔ اب مجھے اپنے دماغ کی چالاکی کا احساس ہوا کہ اس کو معلوم ہے کہ فون ڈکشنری پر لفظوں کا ایک کلک پر مطلب پتہ چل جاتا ہے تو اسے کیوں وہ یاد رکھنے کا بوجھ اٹھائے پھرے۔ اس صورتحال میں مجھے اچانک یاد آیا کہ کتابستان کی ایک خاندانی ڈکشنری بھی ہمارے پاس ہوا کرتی تھی۔ یہ ابا جی سے بڑے چاچو اور پھر چھوٹے چاچو سے ہوتی سسٹر سے چلتے ہوئے بعد ازاں ہمیں ورثے میں ملی تھی۔ تو جناب فون ڈکشنری کے آنے کے بعد ذہن نے اتنی چالاکی دکھائی ہے کہ وہ یہ بات بھی یاد نہیں کر پایا کہ ابا سے ملنے والی خاندانی ڈکشنری کب اور کہاں چلی گئی
ہے۔
اب سمجھ نہیں آ رہا کہ اسے ذہن کی کج روی کہوں یا چالاکی۔ یہ آہستہ آہستہ اپنا سارا بوجھ ڈیوائسز اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے حوالے کر کے خود صدیوں کی تھکاوٹ اتارنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔


