لکسمبرگ میں آخری دن


صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے آمنہ نے آ کر جگایا کہ ابو اُٹھ کر تیار ہو جائیں ہم آج ناشتہ باہر کرنے جا رہے ہیں۔ آج لکسمبرگ میں آپ کا آخری دن ہے اس لیے عمیر نے بھی آج چھٹی کر لی ہے۔ آج کا دن ہم باہر گھوم پھر کر ہی گزاریں گے۔ ویسے بھی آپ کے لیے ایک سر پرائز ہے۔ میں آمنہ اور عمیر آدھ پون گھنٹے میں تیار ہو کر باہر نکلے تو باہر سفیدی ہی سفیدی نظر آ رہی تھی۔ سڑک پر، فٹ پاتھ پر، گاڑیوں کی چھتوں پر یوں لگتا تھا راتوں رات کوئی چونا کر گیا ہے۔ میں بغور صورت ِ حال کا جائزہ لے رہا تھا کہ آمنہ بولی ابو یہ برف باری صرف آپ کو ہی مشاہدہ کرانے کے لیے ہوئی ہے۔ ورنہ عموماً یہاں نومبر میں برف باری نہیں ہوتی۔ رات برف باری ہوئی تھی خوب ہوئی تھی۔ زمین پر تقریباً چھ چھ انچ برف کی تہہ چڑھی ہوئی تھی اور یہ برف روئی کے گالوں کی طرح زمین پر بچھی ہوئی تھی۔ گاڑیوں کی چھتوں پر بھی برف کی پوری تہہ جمی ہوئی تھی۔

ہم لوگ گاڑی میں بیٹھ کر آگے چل دیے۔ میں ناشتے کے لیے سری پائے، نان چنے اور ایسی ہی دوسری دیسی چیزیں کھانے کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ آمنہ نے وضاحت کی کہ یہاں پر روایتی ناشتہ کرنے کے لیے لوگ بیکریوں کا رُخ کرتے ہیں۔ وہاں بیکری والوں نے بیٹھنے کے لیے بھی انتظامات کیے ہوتے ہیں۔ وہاں بیٹھ کر وہ لوگ بیکری میں تیار کردہ کسی چیز سے ناشتہ کرتے ہیں۔ کافی بنوا کر پیتے ہیں اور گپ شپ لگاتے ہیں۔ ہم لوگ بھی ایک بیکری میں جا بیٹھے۔ وہاں بیٹھ کر کافی کے ساتھ کروسو کھائے پاکستانی سموسے اور باقر خانی کی درمیانی سی شکل ہے لیکن یہ اندر سے خالی ہی ہوتا ہے۔

یہاں سے اُٹھ کر باہر نکلے تو عمیر نے کہا کہ آؤ میں آج آپ کو اپنا آفس دکھاتا ہوں۔ اس کا آفس یہاں سے دس پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک قصبے بالوال میں ہے۔ یہاں پر لکسمبرگ سٹی کے چاروں طرف پندرہ بیس کلومیٹر کے ریڈیس میں کئی چھوٹے چھوٹے گاؤں یا قصبے موجود ہیں لیکن ان لوگوں نے ان قصبات کو لکسمبرگ کے ساتھ ملنے نہیں دیا۔ ہر قصبے اور گاؤں کی اپنی اپنی انفرادیت موجود ہے۔ میں حیران تھا کہ ان لوگوں نے ہم سے ہماری ہی تعلیمات لے کر اُن پر عمل کر کے اپنی زندگیوں کو کس قدر آرام دہ اور پر سکون بنا لیا ہے۔

حدیث مبارکہ ہے کہ ”بڑے شہر مت بساؤ بلکہ پہلے سے موجود شہروں کو بڑا ہونے سے بچانے کے لیے نئے شہروں کو بساؤ۔“

لیکن ہم نے اس سنہری اُصول پر عمل کرنے کی بجائے دو دو اڑھائی اڑھائی کروڑ آبادی والے والے اتنے بڑے بڑے شہر بسا لیے ہیں کہ ان کے مسائل روز افزوں بڑھتے ہی جاتے ہیں۔ ہم یہاں بالوال آ گئے۔ یہاں بھی برف کی صورت حال ویسی ہی تھی لیکن یخ ٹھنڈی ہوا کے چلنے کی وجہ سے سردی کافی بڑھ چکی تھی۔ یہاں پر ہم ایک بہت بڑے سٹور میں جا گھسے۔ سٹور میں موسم کافی آرام دہ تھا۔ ان لوگوں کو اپنی زندگیاں بچانے کے لیے موسم کے خلاف بہت بڑی جنگ لڑنا پڑتی تھی۔ وہ لوگ نہ صرف یہ جنگ جیت رہے تھے بلکہ انہوں نے اس سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر اپنی زندگیوں کو بہت آسان اور مطمئن بنایا ہوا تھا۔ اس سٹور سے آمنہ اپنے گھر والوں کے لیے کچھ تحفے تحائف وغیرہ خرید رہی تھی۔ کافی دیر تک ہم یہاں پر مطلوبہ اشیاء ڈھونڈتے رہے۔ اس کے بعد باہر نکلے تو عمیر نے اپنا دفتر ہمیں دور سے ہی دکھایا۔

یورپین بہت روایت پسند ہیں۔ اپنی پرانی چیزوں کو ضائع نہیں کرتے بلکہ اس کو رنگ روغن اور دوسرے کیمیائی مرکبات سے نہ صرف یہ کہ محفوظ کر لیتے ہیں بلکہ دیدہ زیب اور دل کش بنا کر اپنی آئندہ نسلوں کو ان کا مشاہدہ کروانے کے لیے محفوظ کر لیتے ہیں۔ یہاں پر بھی پرانی ٹیکنالوجی سے منسلک ایک سٹیل مل موجود تھی جس کی ناکارہ مشینری کو ان لوگوں نے کیمیکلز اور خوب صورت رنگ و روغن کر کے نہ صرف یہ کہ محفوظ کر لیا تھا بلکہ اس کی بلڈنگ میں ایک بہت بڑی لائبریری بھی قائم کر دی تھی۔ درمیان میں سٹیل مل کی مشینری کا رنگ و روغن سے آراستہ بہت بڑا ڈھانچہ موجود تھا۔ جب کہ اس کے چاروں طرف بقیہ بلڈنگ میں تین منزلوں پر مشتمل ایک جدید لائبریری موجود تھی۔ جس میں جگہ جگہ الماریوں میں نہ صرف کتابیں بھری پڑی تھیں بلکہ اسی طرح جگہ جگہ میزوں پر پڑے ہوئے کمپیوٹرز اور اُن سے متعلقہ ضروری اشیاء اس لائبریری کی افادیت اور زیب و زینت میں بھی اضافہ کر رہے تھے۔ میں لائبریری میں موجود مختلف الماریوں کے اندر جھانکتا رہا لیکن مقامی زبان سے ناآشنائی کی وجہ سے کچھ پلے نہ پڑا۔ کمپیوٹر والا کام تو اپنی علمی اور عقلی سطح سے ہی بلند و بالا تھا۔ اس کو تو میں ہاتھ لگانے سے بھی ڈرتا تھا۔ مبادا کچھ گڑبڑ ہو جائے۔

ہم دیہاتی لوگ جدید اور نئی اشیاء سے ڈرتے ہیں اور بعد میں مختلف تجربات نے ثابت کر دیا کہ صحیح ڈرتے ہیں۔ یہ ستر کی دہائی کی بات ہے کہ لاہور میں مال روڈ پر پینوراما سنٹر نیا نیا کھلا تھا میں اُن دنوں لاہور میں منڈھیالی پیپر ملز میں بطور شفٹ کیمسٹ کے کام کر رہا تھا۔ جو لاہور اور شیخوپورہ کے تقریباً درمیان میں ہی واقع تھی۔ ایک دن تین چار دوستوں نے پینوراما دیکھنے کا پروگرام بنا لیا۔ اُن دنوں سوفینی کی پتلونیں کافی اِن (In) ہوا کرتی تھیں۔ میں نے ڈارک براؤن رنگ کی سوفینی کی پتلون ہاف سلیوز آف وائٹ ٹیرالین کی بوشرٹ اور انار کلی لاہور کے ڈلہوزی شوز سے خریدے ہوئے ہیل والے کیمل کلر کے شوز پہن کر اپنے پینڈو پن کو مکمل طور پر چھپا لیا تھا۔ اُن دنوں ڈلہوزی شوز پرانی انار کلی لاہور میں جوتوں کی ایک معروف دکان تھی۔ جہاں سے جدید طرز کے ہمہ قسم کے خوب صورت جوتے نسبتاً کم قیمت میں دستیاب ہوا کرتے تھے۔

اس وقت تک شاید دس روپوں والی چیز کو صرف ایڈورٹائزنگ کے زور پر ایک ہزار روپے میں بیچنے کا رواج عام نہیں ہوا تھا۔ اس لیے یہ لوگ اپنا معمولی سا منافع رکھ کر ہی اپنی پراڈکٹ کو بیچ کر اپنی روزی روٹی کا انتظام کر نے کے ساتھ ساتھ گاہکوں کے لیے بھی سہولت اور آسانی فراہم کیا کرتے تھے۔ بہرحال ایسے بھلے لوگ وقت کی دھول میں گم ہو کر کہیں بہت پیچھے رہ گئے اور برینڈ کی صورت میں ہتھیلی پر سرسوں جمانے والا ایسا تاجر طبقہ وجود میں آتا چلا گیا جو کئی سو فیصد منافع لے کر بھی غیر مطمئن ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہی کیے چلے جا رہا ہے اور گاہک محض برینڈ کے نام پر جھوٹی شان و شوکت بنانے کے لیے مسلسل لٹ رہا ہے اور متوسط طبقہ اس دوڑ میں بس پس کر رہ گیا ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ ہم سوٹڈ بوٹڈ پتلون کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے پینوراما سنٹر میں گھوم رہے تھے۔ ہمارے سامنے بہت سے لوگ ہمیں اپنی طرف آتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے کیوں کہ ہم پینوراما کے انڈر گراؤنڈ حصے میں موجود تھے اور سامنے بہت لمبی لائن لوگوں کی تھی۔ جو مجھے اپنی طرف آتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ ان لوگوں نے زیر زمین ہی مال روڈ کو کس طرح کراس کرتے ہوئے اتنا لمبا سٹور بنالیا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی روز بہت زیادہ ہیوی ٹریفک کی وجہ سے مال روڈ اپنے نیچے موجود پینوراما سنٹر کے اندر آ گرے۔ میں ایسے ہی گمبھیر ٹیکنیکل مسائل پر غور و خوض کرتا ہوا خراماں خراماں پینوراما میں ٹہل ہی رہا تھا کہ اچانک میرا سر سامنے لگے ہوئے آئینے سے ٹکرایا تو مجھے علم ہوا کہ اپنے سامنے نظر آنے والے لوگ اصل میں ہمارا ہی عکس ہیں کوئی دوسرے لوگ نہیں ہیں۔ اِدھر اُدھر دیکھنے کے بعد اطمینان کا سانس لیا کہ ہمارے ساتھ ہونے والی واردات کا علم ہمارے علاوہ کسی اور کو نہیں ہوسکا۔ جب شیشوں کے دروازوں والی دکانیں اور سٹور معرضِ وجود میں آنا شروع ہوئے تو ہم دیہاتی لوگ بڑے لمبے عرصے تک ان میں داخل ہونے سے اجتناب برتتے رہے کہ کہیں ہماری کسی غلطی سے یہ شیشہ ٹوٹ ہی نہ جائے۔

ایک بار ہمارے گاؤں سے حنیف ڈورا اپنے سسرال بہاولپور جا رہا تھا۔ اُن دنوں میرا چھوٹا بھائی ارشد بہاولپور میڈیکل کالج میں پڑھ رہا تھا۔ جو ڈورے کا یار بھی تھا۔ میں نے اُسے کہا کہ آتے ہوئے بھائی کا بھی پتہ لیتے آنا۔ اس نے حامی بھر لی اور چلا گیا۔ چند دنوں کے بعد جب وہ واپس لوٹا تو میں نے اُس سے پوچھا کہ تم ارشد کے کالج گئے تھے تو وہ کہنے لگا کہ میں کالج تو گیا تھا لیکن وہاں پہنچ کر جو میں نے دیکھا کہ چاروں طرف شیشے ہی شیشے لگے ہوئے ہیں۔ دروازوں میں شیشے، کھڑکیوں میں شیشے، الماریوں میں شیشے، میزوں پر شیشے، سچی بات تو یہ ہے کہ اپنے چاروں طرف اتنے زیادہ شیشے دیکھ کر میں تو ڈر گیا۔ میں نے کہا کہ بھاگ محمد حنیف یہاں سے اگر کوئی شیشہ ٹوٹ گیا تو ان لوگوں نے تجھے ہی پکڑ لینا ہے۔ اس لیے میں بھی بھائی سے ملے بغیر ہی وہاں سے بھاگ لیا۔

بالوال کی جدید لائبریری میں رکھے گئے کمپیوٹر کی موجودہ حیثیت ہمارے لیے بھی ایسی ہی تھی۔ جیسی آج سے پچاس سال پہلے حنیف ڈورے کے لیے بہاولپور میڈیکل کالج کی عمارات میں لگے ہوئے شیشوں کی تھی۔ اس لیے ہم نے بھی ان سے چھیڑ خانی کرنے کی کوشش نہیں کی۔

Facebook Comments HS