ہم خالی دل، خالی ہاتھ کہاں بھاگے چلے جا رہے ہیں؟

کبھی شام ڈھلے سوچا کہ آج کا دن کیسا گزرا؟ کبھی رات کی تاریکی میں اپنے اندر جھانکا؟ اپنے وجود میں پھیلی تنہائی کو دیکھا؟ کبھی سوچا کہ آج میں کسی کے دل کی خوشی، کسی کے ہونٹوں کی مسکان بنا کہ نہیں؟ کبھی سوچا کہ جو آج ملے ہیں، وہ کل مجھ سے ملنا چاہیں گے یا نہیں، مجھ سے مل کے خوش ہوں گے یا نہیں؟
کوئی ڈھلتی شام میں میری یاد کے دیپ جلاتا ہے کہ نہیں؟ کوئی زندگی کے کڑے سفر میں مجھے یاد کر کے حوصلہ پاتا ہے کہ نہیں؟ کبھی سوچا کہ میری ذات میرے ساتھ رہنے والوں کے لیے کانٹا بن رہی ہے یا پھول، میں دوسروں کو تکلیف دے رہا ہوں کہ سکون؟ سب کے اپنے اپنے دکھ ہیں، اپنی اپنی جنگ ہے۔ ان دکھوں میں، اس جنگ میں میرا ہونا ان کے لیے راحت کا باعث ہے کہ نہیں؟
کبھی سوچا کہ یہ جو دن گزرتے چلے جا رہے ہیں، ان میں میری شخصیت کیسے پروان چڑھ رہی ہے؟ یہ مجھ پہ کیسا رنگ سجا رہے ہیں۔ کبھی اپنے دن کا حساب کیا؟ اپنی گراں جاتی راتوں کا احساس کیا؟ کبھی سوچا کہ یہ گزرا دن میرے وجود کے لیے کیسا رہا۔ میں خوش ہوا کہ نہیں، میں ہنسا کہ نہیں اور اگر ہنسا تو کیا وہ ہنسی خوشی کا سبب بھی بنی؟
کبھی سوچا کہ میرے بولے لفظ کل کو میرے لیے فخر کا باعث ہوں گے یا شرمندگی کا۔ میرے ساتھ رہنے والے، میرے ساتھ بسنے والے، مجھ سے، میرے لفظوں سے، میرے اعمال سے کیا سیکھ رہے ہیں؟ کیا مجھے دیکھ کے ان کے لبوں پہ گالی آتی ہے یا لبوں پہ آئی گالی تھم جاتی ہے۔ مجھے دیکھ کے لوگوں کا چہرہ کھل اٹھتا ہے یا مجھے دیکھ کے لوگ گلی بدل لیتے ہیں۔
کبھی سوچا کہ میرے ہونے سے کسی کا ہونا آسان ہوا کہ نہیں؟ میرے مرنے پہ بہتے آنسو خالص ہوں گے یا دکھاوے کے؟ کبھی سوچا کہ کیا کوئی دعا کرتا ہو گا کہ اس کا بچہ میرے جیسا بنے؟ کیا میں اتنا اچھا ہوں کہ کوئی میرے جیسا ہونا چاہے؟ کیا آج میں جس مقام پہ ہوں، وہ پچھلے مہینے پچھلے سال سے بہتر ہے؟ کیا آج میں پچھلے برس سے زیادہ خوش اور مطمئن ہوں؟ اگر نہیں تو کیا شے ہے جو مجھے خوشی دے سکتی ہے، مطمئن کر سکتی ہے؟ اور کیا وہ چیز واقعی مجھے خوشی دے سکے گی یا اس کے ملنے سے مزید کی طلب جاگ جائے گی۔
زندگی کٹتی چلی جا رہی ہے، ہم بھاگے چلے جا رہے ہیں۔ اندھوں بہروں کی طرح، مشینوں کی طرح۔ جنھیں اپنی دوڑ کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے رہا، کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ جن کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ لمحہ بھر کو رک کر خود کو دیکھ لیں، اپنی زندگی کو دیکھ لیں۔ وہ بس دائروں میں بھاگے چلے جا رہے ہیں۔
اس امید پہ کہ جلد اس دوڑ کا کوئی آخری سرا آئے گا، انھیں خبر ہی نہیں کہ دائروں میں بھاگتے لوگوں کے لیے دوڑ کا کوئی اختتام نہیں ہوتا۔ اس دوڑ میں بس موت آتی ہے انسان کو اچکنے کے لیے اور اٹھا کر اس دوڑ سے باہر پھینک دیتی ہے۔ لیکن یہ دوڑ ختم نہیں ہوتی، کسی کے جانے سے کوئی رکتا نہیں، باقی سب بھاگے جا رہے ہوتے ہیں، بھاگے جا رہے ہوتے ہیں۔
خالی دل، خالی ہاتھ، بے سکون وجود کے ساتھ پھٹے ہوئے دامن کو سنبھالتے، کاندھوں پہ کتنی خودساختہ امیدوں کا بوجھ لادے بس بھاگے چلے جا رہے ہیں۔ دکھ وجود میں اگتے ہیں، ہمیں ہمارے ہونے کا پتا دیتے ہیں، ہمیں ہماری رائیگانی کا احساس دلاتے ہیں اور ہم ان سے نظریں چراتے بس بھاگے چلے جا رہے ہیں۔

