کیا یہ محض اتفاق ہے؟


چین کی الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت تیزی سے ایک عالمی پاور ہاؤس کے طور پر ابھری ہے، جس نے چین کو گرین نقل و حمل کے انقلاب میں ایک رہنما کے طور پر اجاگر کیا ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران، چین کی ای وی مارکیٹ میں جو توسیع ہوئی ہے وہ حکومتی پالیسیوں، جدت طرازی میں اہم سرمایہ کاری، اور مضبوط مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کی بدولت سمجھی جاتی ہے۔ عوام کو سبز نقل و حمل کی جانب راغب کرنے، انہیں اس ضمن میں سہولیات دینے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے امتزاج کے ساتھ، چین نے نہ صرف مقامی بلکہ عالمی مارکیٹ پر غلبہ حاصل کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب محض اتفاق ہے؟

چین کی اس شعبے میں آمد پر کئی عالمی کمپنیوں اور تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ پہلے سے موجود بڑی کمپنیوں کی موجودگی، ان کے استحکام اور لوگوں کے ان پر اعتماد کی وجہ سے اسے چیلنجز کا سامنا ہو گا اور ایسا ہوا بھی۔ آغاز میں چینی گاڑیوں کی ساخت اور ڈھانچے اور پھر معیار کو لے کر کئی آراء قائم کی گئیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ صارفین کے اعتماد اور ان کی خوشی نے چینی برانڈز کو مسابقت کی مارکیٹ میں ایک اہم ملک بنا دیا۔ بڑی سکرین ڈسپلے اور کراوکے جیسے فیچرز کا مذاق اڑانے والے اب اس بات پر قائم ہیں کہ ٹیکنالوجی اور معیار میں ان گاڑیوں کی روز بروز دیکھی جانے والی جدت نے ان کے لئے اس میدان میں اپنی برتری کو مشکل بنا دیا ہے۔ اس کا ثبوت وہ شماریات ہیں جو حیران کردینے والے ہیں۔ چائنہ ایسوسی ایشن آف آٹوموبائل مینوفیکچررز کے مطابق چین کی آٹوموبائل کی فروخت 2024 میں تقریباً 31 ملین کا کامیاب ہدف حاصل کر لے گی جس میں سے 13 ملین نئی توانائی کی گاڑیاں ہوں گی۔ پہلے 11 مہینوں میں چین کی نئی توانائی کی گاڑیاں عالمی مارکیٹ کے تقریباً 70 فیصد کے قریب تھیں۔

اس شعبے میں چین کی کامیابی کی بنیاد ای وی سیکٹر کے لیے ریاست کی غیر متزلزل حمایت ہے۔ حکومت نے متعدد ترغیبات متعارف کروائی ہیں، جن میں صارفین کے لیے سبسڈی اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری شامل ہیں۔ مزید یہ کہ ”میڈ ان چائنہ 2025“ جیسی پالیسیوں کا مقصد برقی نقل و حرکت سمیت ابھرتی ہوئی صنعتوں میں ملک کی پوزیشن کو مضبوط کرنا ہے۔ ان اقدامات نے چین کو دنیا کی سب سے بڑی ای وی مارکیٹ بننے میں مدد کی ہے، جس میں بی وائی ڈی، این آئی او، اور ایکسپینگ موٹرز جیسی مقامی کمپنیاں جدت اور پیداوار کی قیادت کر رہی ہیں۔

ٹیکنالوجی کی بات کی جائے تو چین کی نئی انرجی کی گاڑیاں نہ صرف دکھنے میں پرکشش ہیں بلکہ ان کی بہترین ٹیکنالوجی نے آٹو انڈسٹری کو حیران کر دیا ہے۔ بیٹریوں، چپس اور انٹیلیجنٹ ڈرائیونگ سسٹم جیسی کلیدی بنیادی ٹیکنالوجیز کے علاوہ فیچرز کی بات کی جائے تو تنگ پارکنگ کی جگہوں اور سڑک کی صورتحال کی صورت میں، چینی ای ویز ”سموتھ پارکنگ“ اور خطرناک جگہوں سے آرام دہ انداز میں باہر نکلنے کے لئے 360 ڈگری گھوم سکتی ہیں۔ گاڑی کا پانی میں گرنا کتنا خطرناک ہے لیکن چینی ای وی ہنگامی صورتحال میں تیرنے کی صلاحیت رکھنے جیسے آپشنز پر مزید کام کر رہی ہیں۔ سڑک کے دشوار گزار حصوں میں چین کی الیکٹرک گاڑیوں کو ہموار زمین حاصل کرنے کے لئے چار پہیوں پر خود بخود ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے۔ یہ فنکشنز تفریح کے لیے نہیں ہیں بلکہ کار کے ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ کے تصور کو مکمل طور پر بدل رہے ہیں۔

عالمی ای وی مارکیٹ میں چین کا اختیار پیداوار کے علاوہ بھی ہے کیوں کہ چین ای وی بیٹری کی پیداوار میں ایک غالب قوت بن چکا ہے خاص طور پر لیتھیم آئن بیٹریاں، جو الیکٹرک کاروں کے لیے اہم ہیں۔ چین اس ضمن میں عالمی سپلائی چین کے ایک اہم حصے کو کنٹرول کرتا ہے۔ خام مال جیسے لیتھیم اور کوبالٹ سے لے کر حتمی مصنوعات تک، چینی کمپنیاں اب بیٹری کی پیداوار میں عالمی رہنما ہیں، جو ملکی اور بین الاقوامی کار سازوں دونوں کو بنیادی سہولت فراہم کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ، عالمی ای وی برآمدات میں چین کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ جیسا کہ مقامی ای وی بنانے والے بین الاقوامی سطح پر توسیع کرنا چاہتے ہیں، وہ مسابقتی قیمتوں اور جدید ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور یہاں تک کہ شمالی امریکہ میں نئی مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ تبدیلی عالمی آٹوموٹو سپلائی چین کو نئی شکل دے رہی ہے جس میں چینی ساختہ ای وی مغرب میں روایتی کار سازوں کے غلبے کو تیزی سے چیلنج کر رہے ہیں۔ جیسے جیسے دنیا سبز توانائی کے حل کی طرف بڑھ رہی ہے، ای وی کے شعبے میں چین کی قیادت ممکنہ طور پر عالمی نقل و حمل اور ماحولیاتی پائیداری کے مستقبل کی تشکیل کرتی رہے گی۔

Facebook Comments HS