الوداع سر فرخ سجاد۔ کلکٹر آف کسٹمز


 

منگل کی دوپہر کے 2 بجے تھے جب مجھے کسی ساتھی کا پیغام موصول ہوا کہ سر فرخ سجاد کو B+ve خون کی ضرورت ہے جو آپ کا بھی ہے۔ بچپن میں مجھے خون کا عطیہ دیتے ہوئے ایک عجیب سا خوف لاحق ہوتا تھا حالانکہ اس کے مثبت پہلو کو اچھی طرح جانتا تھا۔ لیکن پہلی بار، میں نے خود کو اس ہڈیوں کو کچلنے والے خوف سے بالاتر محسوس کیا۔ عجیب بات تھی۔ یہ صرف ایک کسٹم افسر یا کامنر ساتھی سے فطری تعلق کا جذبہ ہی نہی تھا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر فرخ صاحب کے کردار کی مضبوطی تھی جس نے مجھے مضبوط بنایا۔ میں نے فوراً ہی میڈم ناعمہ بتول کو فون کیا اور جلد ہی کراچی کی شدید ٹریفک میں میری گاڑی سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی آغا خان ہسپتال کی طرف جا رہی تھی۔ جب میں اے کے یو ایچ پہنچا تو انسپکٹر فرحان مہدی اور سر فرخ کے برادر فصیح حیدر نے میرا استقبال کیا۔ اس دوران خون کی رپورٹس تیار ہونی تھیں، ہم گپ شپ کرتے رہے۔ فصیح بہت پریشان تھا، ”جسم کے سوراخوں سے خون بہہ رہا ہے“ ، اس نے تکلیف دہ لیکن خفیہ طبی معلومات شیئر کی۔ اس کی سوچ کی گہرائی میں، اسے امید کے خلاف ایک امید تھی۔ فصیح نے مجھے فرخ صاحب کے بستر پر ان کو دیکھنے کے لیے بھیجنے کی پیشکش کی، لیکن میں انہیں دیکھنے کی ہمت نہ کر سکا۔

یہ ہمارے سماج کا ایک خوبصورت پہلو ہے کہ فوت شدہ روحوں کے صرف مثبت پہلو کو یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ فرخ سجاد کوئی خاص تھا۔ انسانیت کا بہترین نمونہ، جس کے بارے میں خدا اپنے فرشتوں کو انسان کی تخلیق کے خلاف ان کی عصبیت کے بارے میں شرمندہ کر سکتا ہے۔ فرخ صاحب کو دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح انسان خدا کے نائب اور اشرف المخلوقات کا کام کرتا ہے۔ ایک ذہین شخص، ہمت، حوصلہ اور لچک کے اوصاف سے لبریز۔ اس نے اپنی گرتی ہوئی صحت کے سفر کے دوران بہت دفعہ موت کے دروازے سے واپسی کی۔ یہ محض اس کی برداشت، دلیری، لچک اور دوبارہ ابھرنے کی قوت کی وجہ سے تھا۔

مجھے اپنے AC کے دن یاد ہیں، جب ایک لمبا تڑنگا افسر، غیر معمولی طور پر دبلا لیکن شاندار، قمیض کے گھسے ہوئے کالروں کے ساتھ نظر آ رہا تھا۔ اپریزمنٹ ایسٹ کی پارکنگ میں کھڑے فرخ سجاد کی یہ میری پہلی تصویر ہے۔ میں نے رشک سے اس ماڈل افسر کی طرف دیکھا اور بڑبڑاتے ہوئے کہا ”کیا ہم ایک دن اس جیسا بن سکتے ہیں؟“

جلد ہی ہماری دوستی ہو گئی۔ وہ بظاہر بہت نازک لیکن فیصلہ سازی میں اتنا ہی مضبوط نظر آتا تھا۔ وہ صاف گو تھا۔ جب وہ کسی بھی معاملے کے میرٹ کا قائل ہو جاتا تھا تو وہ اپنے قلم کی ضرب سے پہاڑوں کو ہلا سکتا تھا۔ مجھے یاد ہے جب کلکٹر ایڈجوڈیکیشن کے طور پر، انہوں نے ایک ایف آئی آر کیس میں کنٹراوینشن رپورٹ کو خارج کر دیا تھا۔ کسی بھی کسٹم افسر کے لیے ایف آئی آر کیس کے پہلے مرحلے پر شوکاز نوٹس کو فائل کرنا/واپس لینا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ اتنے دلیرانہ فیصلے کے لیے کردار، علم، بصیرت اور انسانیت کا جو امتزاج چاہیے تھا وہ صرف سر فرخ سجاد ہی ظاہر کر سکتے تھے اور یہ سب کچھ انہوں نے اتنی ہی عاجزی کے ساتھ کیا تھا۔

جیسا کہ شاہ فیصل نے اپنی ذاتی کہانی کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ذریعہ جمع کیے گئے اپنے طبی اخراجات کے لیے کچھ حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ یہ اس وقت بھی ہوا جب ہم برآمدات کے کچھ افسروں نے احسان شاہ کو کچھ پیسے جمع کر کے ان کے حوالے کرنے کے لیے بھیجا۔ احسان شاہ بتاتے ہیں کہ ان کے ساتھ کام کے دوران انہوں نے پہلی بار سر فرخ سجاد کو اس قدر مشتعل ہوتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے باوجود وسائل نہ ہونے کے صاف انکار کر دیا۔ بصورت دیگر، وہ مہلک بیماری کے دباؤ اور جان لیوا چیلنج کے باوجود غیر متزلزل، ٹھنڈا، پرسکون، مجتمع، باترتیب اور ملنسار رہتے تھے۔

وہ سماجی، فکری، مالی اور آداب غرض تمام پہلوؤں میں ایک زبردست دیانت کا مالک تھا۔ اس غیر معمولی دیانت کو وہ ڈیموکلس کی تلوار بنانے کے بجائے اپنے آپ کی انسانیت اور کردار کی سالمیت کو برقرار رکھنے میں استعمال کرتے تھے۔ اس نے کبھی اس پہلو پر فخر نہیں کیا۔ وہ اپنے کام میں ماہر تھا، سفارش قبول نہیں کرتے تھے لیکن اگر اسے لگتا تھا کہ اس کی کال کسی کے دکھوں کو کم کر سکتی ہے، تو فوراً سفارشی فون کرتے تھے۔ ٹیکس چوروں کے لیے سخت، کسٹم کے قوانین کا علمبردار، اور بات چیت میں نرم۔ انہیں ایک سچے شریف آدمی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ نیومین نے اپنی مشہور کتاب ”دی آئیڈیا آف اے یونیورسٹی“ میں ”شریف آدمی“ کی جو تعریف کی ہے، فرخ سجاد اس کے ہر فقرے پر پورا اترتے ہیں۔

میں اپنے عزیز ترین ساتھی کی اس یاد کو اس فقرے پر ختم کرتا ہوں کہ ”فرخ صاحب ہم میں سے بہت سے لوگوں کی طرح ٹکڑوں میں نہیں جیے بلکہ امن سے جیے“ ۔

Facebook Comments HS

محمد قاسم کھوکھر

محمد قاسم کھوکھر نے انجینئرنگ میں ایم فل کیا ہے اور تاریخ خصوصاً قدیم تاریخ، عمرانیات، بشریات، فلسفہ، معاشیات اور انتظامی سائنس میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ توانائی، تجارت اور تاریخ پر مختلف روزناموں میں کالم لکھ چکے ہیں۔ امجد نواز وڑائچ کی کتاب ”پنجاب کٹہرے میں“ کے ان کے جائزے کو کافی پذیرائی ملی ہے۔ روزنامہ سماء میں بھی یہ قسط وارشائع ہوا ہے۔ انہوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر مختلف مسائل خصوصاً جذباتی ذہانت، انٹیگریٹی مینجمنٹ اور ڈپریشن پر بات کرتے رہتے ہیں۔ غلام مرتضیٰ کے ساتھ مل کر ان کی کتاب ”دی ڈیوائن پرنٹس“ فی الحال زیرِ اشاعت ہے۔

muhammad-qasim-khokhar has 7 posts and counting.See all posts by muhammad-qasim-khokhar