اداس نسلیں
عبداللہ حسین نے کئی برس پہلے برطانوی دور کے پنجاب میں مسلمانوں کی زندگیوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ پر ایک ناول ”اداس نسلیں“ کے نام سے لکھا تھا، جسے اردو ناول کے کلاسک کا درجہ حاصل ہے، کبھی کبھی مجھے یہ خدشہ لاحق ہو جاتا ہے کہ مجھ جیسے تارکین وطن شاید عبداللہ حسین کی اداس نسلوں کا تسلسل ہیں۔
زمانہ طالب علمی کی بات ہے، سڈنی میں رہائش پذیر معروف ادیب اشرف شاد جب جامعہ کراچی تشریف لائے تو میں نے ان کا ناول ”بے وطن“ پڑھ رکھا تھا جو آسٹریلیا میں پاکستانیوں کی جدوجہد اور ان کی زندگیوں کے اتار چڑھاؤ کا احاطہ کرتا ہے، ناول پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت بھی آسڑیلیا میں پاکستانی تارکین وطن کے لیے امیگریشن اور دیگر معاشرتی مسائل تقریباً وہی تھے جو آج ہیں، جامعہ کراچی میں اشرف شاد صاحب سے ناول پر گفتگو کرتے ہوئے مجھے اندازہ نہ تھا کہ کبھی میں بھی اس ناول کہ کسی کردار جیسا ہو جاؤں گا، اداس نسلیں ہوں یا بے وطن، ناول کے کردار آپ کو اداس کر جاتے ہیں۔
تحریر کا مقصد آسٹریلیا میں میں اپنی جدوجہد کی روداد سنا کر صفحات کالے کرنا نہیں ہے، یہ بپتا کبھی اور کے لیے اٹھا رکھتے ہیں، ویسے بھی یہ کہانی سب کی کم و پیش ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ آسٹریلیا میں رہتے ہوئے مجھے ایک بات کا قلق ہے، ہو سکتا ہے اس کسک کو کچھ لوگ بھانپ نہ سکیں یا ہو سکتا ہے پڑھنے والے زندگی کے اس مرحلے میں ابھی داخل نہ ہوئے ہوں جہاں سے وہ اس معاملے کی نزاکت کو محسوس کر سکیں یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میرے یہ خدشات محض اندیشہ ہائے دور دراز ہی ہوں، لیکن مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم تارکین وطن اپنی زبان اور ثقافت کو نئی نسل میں منتقل نہیں کر پا رہے۔
میرے بچے اردو بول تو رہے ہیں مگر سمجھ نہیں پا رہے، مستنصر حسین تارڑ نے کہیں لکھا تھا کہ آپ کو اس زبان میں لکھنا چاہیے جس زبان میں آپ خواب دیکھتے ہیں اور شاید یہاں کی نسل کو خواب بھی انگریزی میں آتے ہیں، میرے نزدیک آپ کی ماں بولی جو بھی ہو مگر وہ زبان جو آپ انتہائی غم یا غصے کی حالت میں یا بے ساختہ بولتے ہیں وہی آپ کی مادری زبان بن جاتی ہے، ایسی بات نہیں کہ میں نے بچوں کو ماں بولی نہیں سکھائی لیکن جب وہ آپس میں جھگڑتے ہیں یا ہنسی مذاق کرتے ہیں تو وہ انگریزی میں کرتے ہیں، بچوں کو ہیری پوٹر کے سارے ناول تو ازبر ہیں لیکن وہ طلسم ہوش ربا یا عمرو عیار کے ناولوں کے چسکے سے ناواقف ہیں، وہ شیکسپئر تو پڑھنا شروع ہو جائیں گے لیکن فسانہ عجائب کیسے سمجھیں گے؟ جیسے شیکسپئر کے ”میکبتھ“ ”رومیو جولیٹ“ نے مجھے بھی متاثر کیا مگر میر امن کی ”باغ و بہار“ کے اثر سے میں اب تک نہ نکل سکا، تو کیا بچے بھی زبان فرنگ کے ہو رہیں گے؟
اسی طرح بچے، ٹیلر سوئفٹ، بائے اونسی، جسٹن بیبر سے تو محظوظ ہو رہے ہیں مگر وہ مہدی حسن، نصرت فتح علی خان یا نور جہاں کے پنجابی گانوں کی چاشنی سے نابلد ہیں، ریپ میوزک بھی ان کو سمجھ آتا ہے، مگر عزیز میاں کی قوالیوں میں جو مستی ہے اس سے محروم ہیں، فیض، اقبال، غالب و میر تو دور کی بات وہ تو فراز اور افتخار عارف سے بھی واقف نہیں، اقبال کے علم الکلام یا فلسفہ خودی سے اختلاف یا اتفاق ایک الگ بحث وہ اقبال کو پڑھیں گے بھی یا نہیں؟ جب سوچتا ہوں کہ زمانہ طالب علمی میں، ہم تو امجد اسلام امجد کی رومانوی شاعری پڑھتے اور سناتے تھے اور یہاں کی نسل شاید ووڈس ورتھ یا شیلے کو ہی پڑھے گی تو نا تو میں اپنا گریبان چاک کر سکتا ہوں نا دامن یزدان۔
انگریزی میں کہتے ہیں ”لائف از آل اباؤٹ چوائسز“ ترک وطن کا فیصلہ میرا اپنا تھا، آج کا نوجوان جو آسٹریلیا یا دیگر مغربی ممالک کی شہریت حاصل کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کر رہا ہے اس کو میں خاص یہ دکھ روؤں تو ہو سکتا ہے وہ مجھے ناشکرا کہے گا، یا میری سوچ کو ذہنی عیاشی سے تعبیر کرے، ممکن ہے میری سوچ خود غرضانہ ہو میں نئی نسل میں زبان کی بے اعتنائی سے محض اس لیے خوف زدہ ہوں کہ نسلوں میں اجنبیت پیدا ہو جائے گی، زمانے میں تغیر کو ہی ثبات حاصل ہے، میں بھی اپنی ماں بولی نہیں سیکھ سکا تھا، لیکن وارث شاہ کی ہیر، محمد بخش اور شاہ حسین کے کلام نے مجھے کھینچ لیا، ہو سکتا ہے ان کے ساتھ بھی ایسا ہو، لیکن ہر نسل کا ایک دکھ ہوتا ہے جو اسے اداس کر دیتا ہے، چاہے وہ نسل عبداللہ حسین کے دور کی ہو یا میرے دور کی۔


