سندھ میں اب سردار بھی غیر محفوظ ہو گئے، تحریک انصاف رہنما پر قاتلانہ حملہ

سندھ میں امن و امان کی تازہ صورتحال انتہائی خراب ہے۔ جبکہ آئی جی سندھ کے مطابق سندھ میں امن امان کی صورتحال پہلے سے بہتر کا ڈائیلاگ اس وقت سننے کو ملتا ہے جب کوئی بڑا حادثہ پیش آتا ہے۔ سندھ بالخصوص سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں انسانی زندگی چیلنج بنی ہوئی ہے جہاں حکومتی رٹ بالکل ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ پولیس کی سینکڑوں شہادتیں بھی بے بسی کا ماتم ہی ہے جہاں پولیس کے پاس پرانا اسلحہ اور کرمنلز کے پاس جدید اسلحہ وہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک سینیئر صحافی جان محمد مہر، نصر اللہ گڈانی، پروفیسر اجمل ساوند دیگر کے قاتل قانون سے بالاتر ہو کر آزاد گھوم رہے ہیں۔ تازہ صورتحال حالیہ برسوں سے تشویشناک رہی ہے۔ اب تو کوئی بھی شہری عام لوگ، وکیل، صحافی، پروفیسر، جج، یہاں تک کہ خواتین اور بچے بھی محفوظ نہی ہیں۔
دو روز قبل سابق رکنِ سندھ اسمبلی سردار غالب حسین ڈومکی پر 20 جنوری 2025 کو سندھ کے ضلع شکارپور میں قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ یہ واقعہ رستم تھانے کی حدود فیضو لاڑو کے قریب پیش آیا، جب سردار غالب حسین ڈومکی اپنی فیملی کے ہمراہ سکھر سے بخشا پور جا رہے تھے۔ نامعلوم ڈاکوؤں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دو سیکیورٹی گارڈ جاں بحق ہو گئے، جبکہ سردار غالب حسین ڈومکی اور ان کی اہلیہ اور ایک معصوم بچہ زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو سکھر کے نجی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ فائرنگ کے دوران ڈاکوؤں کی جوابی فائرنگ میں ایک ڈاکو ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک بلوچ سردار جو کہ ایک رکن سندھ اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔ وہ اپنی فیملی کے ساتھ محفوظ نہیں تو عام لوگ کس طرح اپنے آپ کو گھروں میں محفوظ سمجھتے ہوں گے۔
اس سے پہلے اپر سندھ میں ججز ہوں یا نواب، وکیل ہوں یا جرنلسٹس یا پروفیسر یا خواتین سب بدامنی کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سے تفصیلات طلب کی ہیں اور ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔ سندھ بھر میں قتل کے 1,842 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں کاروکاری کے 133 کیسز شامل ہیں۔ مزید برآں، اغوا، اغوا برائے تاوان، زنا، گینگ ریپ اور بدفعلی کے مجموعی طور پر 668 کیسز رپورٹ ہوئے۔ سندھ پولیس کے سال 2024 میں ڈاکوؤں اور مجرموں کے ساتھ مقابلوں کے دوران 19 پولیس اہلکار شہید اور 31 زخمی ہوئے۔ عدالت میں جمع کردہ رپورٹ کے مطابق، سکھر ڈویژن میں تین سالوں کے دوران 22,870 جرائم کی وارداتیں ہوئیں، جن میں 9,250 ذاتی جرائم، 2,277 جائیداد کے جرائم، 39 اغوا برائے تاوان، اور 10,804 عام وارداتیں شامل ہیں۔ سکھر اور لاڑکانہ ڈویژنز میں حالیہ برسوں میں جرائم کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس میں قتل، اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین وارداتیں شامل ہیں۔ سندھ پولیس کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق، صوبے بھر میں 50,058 مفرور ملزمان میں سے تقریباً نصف، یعنی 23,000 سے زائد کا تعلق لاڑکانہ ڈویژن سے ہے۔ یہ اعداد و شمار اس علاقے میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، لاڑکانہ اور سکھر ڈویژنز میں تاوان کے لیے 400 سے زائد افراد کو اغوا کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کا باعث بنی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔ سکھر اور لاڑکانہ ڈویژنز میں قبائلی دہشت گردی، قتل و غارت اور اغوا برائے تاوان جیسے جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ تنازعات امن و امان کی صورتحال کو مزید خراب کر رہے ہیں اور مقامی آبادی کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔
صرف کراچی میں ڈکیتی مزاحمت کے دوران قتل کے 98 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 75 کیسز 77 فیصد حل کرتے ہوئے 112 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جبکہ 33 ملزمان پولیس مقابلوں میں ہلاک ہوئے۔ ڈکیتی مزاحمت کے دوران شہریوں کے زخمی ہونے کے 321 کیسز میں سے 226 کیسز 71 فیصد حل کرتے ہوئے 332 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جبکہ 36 ملزمان پولیس مقابلوں میں ہلاک ہوئے۔ کچہ ایریاز با الخصوص سکھر، گھوٹکی، کشمور اور شکارپور کے کچہ علاقوں میں جاری آپریشنز کے نتیجے میں ڈاکوؤں کے ساتھ 559 مقابلے ہوئے، جن میں 73 ڈاکو ہلاک، 120 زخمی اور 378 گرفتار کیے گئے۔ ان کارروائیوں میں ڈاکوؤں کے قبضے سے 436 مختلف اقسام کا اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ پولیس نے انٹیلی جنس بیسڈ اطلاعات کے تحت 618 شہریوں کو ہنی ٹریپ سے بچایا۔ صوبے بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف 3,864 پولیس مقابلوں میں 1,782 جرائم پیشہ گروہوں کا خاتمہ کیا گیا۔ ان مقابلوں میں 7,383 ملزمان کو موقع پر گرفتار کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر 342 ملزمان ہلاک اور 21,504 گرفتار ہوئے۔ منشیات فروشوں کے خلاف 10,692 چھاپوں کے دوران 12,200 مقدمات درج کیے گئے اور 14,506 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان کارروائیوں میں 117 کلوگرام آئس، 57 کلوگرام ہیروئن، 9,096 کلوگرام چرس، 104 کلوگرام افیون اور 361,544 لیٹر شراب برآمد کی گئی۔
اگرچہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جرائم کی روک تھام کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، لیکن کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم کی وارداتوں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مزید موثر حکمت عملی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سکھر اور لاڑکانہ ڈویژنز میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح ایک سنگین مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی کمیونٹی کو مل کر کام کرنا ہو گا تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کی سرگرمیوں کے باعث اغوا برائے تاوان کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ شکارپور، کشمور، گھوٹکی، سکھر اور جیکب آباد کے اضلاع میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں متعدد شہری یرغمال بنائے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر، شکارپور میں کم از کم 10 شہری، کشمور میں 10، اور گھوٹکی میں 10 شہری ڈاکوؤں کے قبضے میں ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکھر اور لاڑکانہ ڈویژنز میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو موثر حکمت عملی اور عملی اقدامات کے ذریعے ان جرائم کی روک تھام کے لیے کوششیں تیز کرنی چاہئیں تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ 2023 کے دوران کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کی 90,000 سے زائد وارداتیں رپورٹ ہوئیں، جو 2022 کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہیں۔ ان وارداتوں میں 134 شہری قتل اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ مزید برآں، 59,000 سے زائد موٹر سائیکلز اور 2,336 کاریں چوری یا چھینی گئیں۔ جمعیت علماء اسلام ضلع سکھر کے امیر مولانا محمد صالح انڈھڑ کے مطابق، سندھ میں قبائلی جھگڑوں کے باعث امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے، جس میں کئی بے گناہ قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے ان جھگڑوں کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کی کمی پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ سندھ حکومت نے امن و امان کی بہتری کے لیے مالی سال 2023۔ 24 کے بجٹ میں 160 ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کی ہے۔ اس میں پولیس کو جدید آلات اور ملٹری گریڈ ہتھیاروں کی فراہمی شامل ہے۔ تاہم، اس بڑے بجٹ کے باوجود جرائم کی شرح میں کمی نہ آنا تشویش کا باعث ہے۔ مذکورہ اعداد و شمار اور رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے۔ حکومت کی جانب سے بجٹ میں اضافے اور پولیس کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے کے باوجود جرائم کی شرح میں کمی نہیں آئی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت موثر حکمت عملی اپنائے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنائے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اور سندھ سرکار کو چاہیے کہ پروفیسر اجمل ساوند، شہید صحافی جان محمد مہر، شہید صحافی نصر اللہ گڈانی، دیگر شہید رہنماؤں کے قاتلوں کو گرفتار کر کے عبرتناک سزا دی جائے اور کچے کے ساتھ پکے کے علاقوں میں امن امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن کیا جائے تاکہ عوام کی جان مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے

