ابلیس کے انسٹال کردہ روبوٹ


 

اللہ نے قرآن میں انسان کو کائنات کے اسرار پر تدبر اور غور و فکر کرنے کا حکم فرمایا ہے اور سورج چاند ستاروں کو انسان کے لئے مسخر فرما دیا ہے۔ گویا اللّٰہ نے اس بات کو اپنے بندوں کے لئے پسند فرمایا ہے کہ وہ دنیا میں با عمل زندگیاں گزاریں اور دینی عبادات کے ساتھ ساتھ دنیا کی پیدائش پر غور و فکر کریں اور کائنات کے اسرار کو جاننے کی کوشش کریں۔ انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف بھی حاصل ہے اللّٰہ نے اپنی تمام مخلوقات میں سب سے افضل درجہ انسان کو عطا فرمایا ہے۔ یہاں تک کہ فرشتوں اور جنات سے بھی زیادہ عزت والا مقام دیا، مگر انسان پیدا ہو جانے کے بعد انسان بننا، اور ”انسان بن کے رہنا“ شاید زیادہ مشکل امر ہے اس لئے تو کسی شاعر نے کہا ہے کہ

فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

آج کے دور میں شاید حضرت انسان کو انسان سے زیادہ فرشتہ بننے میں زیادہ دلچسپی ہے اس لئے وہ انسان بننے کی بجائے فرشتہ یعنی روبوٹ بننے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔ فرشتے خدا کی نورانی مخلوق ہیں اور وہ اس کے حکم کے مطابق اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہیں جن کو خدا نے ان کے لئے مخصوص فرمایا ہے جیسا کہ جبرائیل علیہ السلام کے ذمہ پیغمبروں تک وحی یعنی خدا کا پیغام لے کر آنا تھا۔ عزرائیل علیہ السلام کے ذمہ روح قبض کرنا، میکائیل علیہ السلام خدا کے حکم پر بارش برساتے ہیں جبکہ اسرافیل علیہ السلام قیامت کے روز صور پھونکنے کا کام سر انجام دیں گے۔ منکر نکیر اعمال نامے درج کرنے کی ڈیوٹی پر معمور ہیں اس طرح عبادات کے فرشتے دن رات عبادت میں مشغول ہیں اور خدا کی تسبیح بیان کرتے رہتے ہیں۔

اگر اللّٰہ نے کسی مخلوق کو ورسٹائل بنایا ہے تو وہ محترم انسان ہی ہے جس کو خدا نے زمین پر بھیجا اور کائنات کی چابیاں اس کے حوالے کر دیں تاکہ وہ اپنے دماغ کا استعمال کرتے ہوئے خدائے واحد کے احکامات کی بجا آوری کرے اور زندگی جیسی آزمائش کو اپنے فہم و فراست کی روشنی میں احسن طریقے سے گزارنے کی سعی کرے اور لوگوں کی زندگیوں میں وہ آسانیاں پیدا کرے جن کا وہ خود متمنی ہے۔ مگر حضرت انسان اس بات سے بالکل لا تعلق نظر آتا ہے کہ خدا نے زمین پر اس کو اپنا نائب بنایا ہے زمین و آسمان کا سارے جھگڑے کا موجب یہی انسان ہی ہے جس میں روح ڈالنے سے پہلے موجودہ ابلیس جو پہلے فرشتے کے درجے پر فائز تھا اس کو اللّٰہ نے اس مٹی کے بنے انسان یعنی حضرت آدم علیہ السلام کے آگے سجدہ ریز ہونے کا حکم دیا تو اس نے سر کشی دکھائی اور خدا کے حکم سے سرتابی کرتے ہوئے سجدے سے انکار کیا اور راندہ درگاہ ٹھہرا۔

خیر بات ہو رہی تھی انسان کی جس کو اپنے اشرف المخلوق ہونے کے اعزاز پر شاید شک محسوس ہوا تو اس نے خود کو فرشتہ سمجھنا شروع کیا اور اپنے مقابل انسان کو نہایت حقارت سے محض مٹی کا بنا ”آدمی“ سمجھ کر اس سے فرشتوں جیسے سلوک کا تقاضا کرنے لگا۔ اگلے کو گناہ گار جبکہ خود کو نورانی مخلوق یعنی فرشتہ سمجھنے لگا جبھی تو ہر انسان خود ساختہ فرشتے کا روپ دھارے دوسرے انسان کو انسان ہونے کا مارجن دے کر اس کی کوتاہیوں سے صرف نظر کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔

بھلے وقتوں میں سب انسان مل جل کر رہتے تھے کوئی بھی ایک دوسرے سے فرشتہ بننے کا متمنی و متقاضی نہیں تھا پھر برا ہو ایک خلائی مخلوق کا (جو یقینی طور پر شیطان کا ہی کوئی چیلا ہو گا) نے تفرقہ بازی کی چنگاری کو زمین پر اچھالا اور جب آگ پھیلنے لگی تو فتنہ و فساد پھیلانے والی ماچس کو دنیا میں اس شخص کے حوالے کیا جو نیکیوں کے تکبر میں مبتلا تھا اور اپنا پیار کا نام ”مولوی عالم دین“ رکھ چھوڑا تھا۔ ادھر ایسے لوگوں سے مراد وہ علمائے کرام بالکل نہیں جو حقیقتاً اسلام کے اصل مبلغ اور عمل پسند مسلمان ہیں اور دین کے اصولوں پر درست طریقے سے نہ صرف خود چلتے ہیں بلکہ جہاں تک ہو سکے باقی لوگوں کو بھی اسلام کی صحیح تعلیمات سے روشناس کراتے ہیں اور امن و محبت کا درس دیتے ہیں۔ یہاں پر ”نیم ملاؤں“ کا وہ گروہ مرقوم ہے جو اپنی فتنہ پر دازیوں پر مشتمل تقریروں کے پرچے ہاتھوں میں تھامے دن رات نفرتوں کا درس دیتے ہیں تیری مسجد میری مسجد، تیرا فرقہ میرا فرقہ کی گردان کرتے نظر آتے ہیں اور اپنا سکھایا ”سبق“ یاد کرنے سے انکار کرنے والوں کو بڑے آرام سے ”کافر“ قرار دے دیتے ہیں اس طرح اپنے ”گرو“ یعنی ابلیس کے افکار کی نہ صرف پیروی کرتے ہیں بلکہ اس کی نیکیوں کے تکبر میں مبتلا ہونے والے گناہ بد کا ہار بنا کر اپنی گردنوں میں لٹکائے پھرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اپنی ظاہری عبادات پر بڑا غرور ہوتا ہے۔ بقول شاعر

واعظوں میں وہ تکبر کہ الہٰی توبہ
اپنی ہر بات کو آواز خدا کہتے ہیں

یہ بہروپیے اگلے کو بے سوچے سمجھے لا دین اور دنیا دار ہونے کا طعنہ دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ دوسرے انسان کی خطاؤں کو اپنی نیکیوں کے ترازو میں ڈال کر خود ہی منصف بننے پر تلے ہوتے ہیں۔ آپ نے ایسے فرشتہ صفت ”روبوٹس“ کو دوسروں کی جیب سے پیسے نکلواتے تو اکثر دیکھا ہو گا مگر دوسروں کی جیب میں پیسے ڈالتے شاید ہی کبھی دیکھا ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جو انسان بننے کی کوشش نہیں کرتے کیونکہ انسان بننے کے لئے اللّٰہ نے محنت اور آزمائش کی مشقت پسند کی ہے، حقوقِ الہٰی سے زیادہ اپنے بندوں کے حقوق پر عمل داری کو فوقیت دی ہے اللّٰہ نے اپنے حقوق میں معافی کی بہت گنجائش رکھی ہے مگر انسانوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں فرمائے گا جب تک وہ انسان جس کی حق تلفی کی گئی ہو وہ معاف نہ کر دے۔ آج کے ان ”روبوٹ معلمین“ پر نگاہ کی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ کچھ ”خاص فیکٹریوں“ میں آرڈر پر تیار کیے جاتے ہیں یا ”ری جنریٹ“ ہو کر انسان سے ”روبوٹس“ میں ڈھالے جاتے ہیں اور انسان سے لے کر روبوٹ بننے تک کے اس سفر میں یہ اپنی تمام تر انسانیت کو عہدوں اور پیسوں کے عوض ایک ”خلائی مخلوق“ کو دان کر دیتے ہیں۔ ان تمام ری جنریٹڈ روبوٹس کے دماغوں میں کچھ ”خاص انجینئرز“ اپنی پسند کا پیغام ”فیڈ“ کر دیتے ہیں اور ان کا کنٹرول ایک ریموٹ کے ذریعے اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ اور بوقت ضرورت ان روبوٹس سے پریس کانفرنسز اور فتوے لینے کا اور کبھی کبھار دھرنے اور جلسوں کے انعقاد کا اہتمام بھی کروا لیتے ہیں۔

ویسے تو یہ روبوٹس ہر طرح سے اپنی انسانی خصوصیات سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں مگر خود کو فرشتہ سمجھنے کی خاصیت ان کے اندر ”بائے ڈیفالٹ“ ہوتی ہے جبکہ ان کا عمل صفر ہوتا ہے نہ یہ مقصد حیات پر غور کر سکتے ہیں نہ کائنات کے اسرار و رموز پر غور کرنا ان کی فطرت کا خاصہ رہ جاتا ہے۔ ان کی زندگیوں کا واحد مقصد اپنے فیڈ کیے گے پروگرام کے تحت معاشرے اور افراد کے مابین فرقہ واریت کا زہر گھولنا ہوتا ہے۔ ان کے بقول یہ معاشرے کی اصلاح کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں در حقیقت یہ اپنی اصلاح کرنے کے بھی قابل نہیں رہ پاتے۔ یہ سرکش ابلیس کی طرح خدا کا نائب بننے میں عار محسوس کرتے ہیں اور اپنی آزادی، دماغ اور علم کو زمانے کے خداؤں کے ہاتھوں سستے داموں بیچ کر ان کی روبوٹک فیکٹریوں میں ان ہی کی پسند کا روبوٹ بننے کو ترجیح دیتے ہیں یہ لوگ دوسروں کو مٹی کی مورتیاں اور خود اپنے آپ کو فرشتہ سمجھنے کے زعم میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور دنیا کے عارضی خداؤں کے ساتھ عارضی دوستیوں پر اتراتے رہتے ہیں۔ مشہور شاعر عبدلاحد ساز کا کہنا ہے کہ

پس منظر میں ”فیڈ“ ہوئے جاتے ہیں انسانی کردار
فوکس میں رفتہ رفتہ شیطان ابھرتا آتا ہے

Facebook Comments HS