افسانہ ”مجسمہ ساز“


وہ شہر کا مشہور مجسمہ ساز تھا۔ اس کے بنائے گئے مجسموں کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ ایک دن اس نے وہ شاہکار مجسمہ بنایا جو آج تک کسی نے نہیں بنایا تھا۔ اس نے یہ مجسمہ شہر کے مرکزی چوک میں ایستادہ کر دیا۔ وہ مجسمہ نہیں کوئی جیتا جاگتا انسان۔ کوئی رحم دل دیوتا معلوم ہوتا تھا۔ دیکھنے والے کو لگتا تھا کہ اس کی آنکھیں حرکت کر رہی ہیں اور وہ اس کی طرف دیکھ رہا ہے۔

لوگوں کو دیکھ کر اس کے ہونٹ ایسے ہلتے تھے جیسے وہ ان سے باتیں کر رہا ہو۔ وہ مسکراتا بھی تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بھی نکلتے تھے۔ یہ بڑا ہی حیران کر دینے والا مجسمہ تھا۔ وہ متحرک معلوم ہوتا تھا لیکن جب لوگ ہاتھ لگا کر دیکھتے تو ہر چیز ساکن محسوس ہونے لگتی تھی۔ ہر چیز پتھر کی معلوم ہوتی۔ اس مجسمے کی شہرت دور دراز تک پھیل گئی تھی۔ لوگ اسے دیکھنے کے لیے جوق در جوق آنے لگے۔ وہ لوگوں کے غم اور خوشیوں میں شریک ہونے لگا تھا۔ جب کوئی غم زدہ اس کے پاس آتا تو وہ اس کے غم میں شریک ہو جاتا تھا۔ اس کے چہرے پر اداسی اور آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے۔ جب لوگ خوشیاں مناتے، مسکراتے چہرے لے کر اس کے سامنے آتے تو وہ بھی مسکرانے لگتا تھا۔

پھر حیران کن واقعہ یہ رونما ہوا کہ اس کی برکت سے لوگوں کے مسئلے حل ہونے لگے۔

اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی، جو دیکھنے والے کے دل کے پار ہو جاتی تھی اور دل کی دنیا زیر و زبر ہو جاتی تھی۔ جب کوئی دشمنی کرنے والا شخص اس کے سامنے آتا تو مجسمے کی آنکھوں کی یہ چمک اس کے دل سے دشمنی کی غلاظت کو صاف کر دیتی تھی۔ وہ خود ہی چل کر اپنے دشمن کے پاس چلا جاتا اور معاملہ ختم کر کے اس کے ساتھ شیر و شکر ہو جاتا۔ اس کی آنکھوں کی تپش سے نفرتیں پگھل رہی تھیں اور نفرتیں محبتوں میں تبدیل ہو رہی تھیں۔

شہر میں حسد کا کہیں نام و نشان تک نہ رہا۔ لوگ اپنی ضرورت چھوڑ کر پہلے دوسروں کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتے۔

اس کی آنکھوں کی چمک پتھر دل لوگوں کو بھی پگھلا کر موم کر دیتی تھی۔ وہ دل کھول کر اپنی دولت غریبوں میں بانٹنے لگتے۔ کچھ امیروں نے تو اپنی ساری دولت غریبوں میں بانٹ دی تھی۔ غربت کم ہو رہی تھی۔ دشمنیاں دوستیوں میں بدل رہی تھیں۔

نفرتیں کم ہو گئی تھیں اور یہ سارا اس مجسمے کا کرشمہ تھا۔

نفرتوں کا کاروبار کرنے والے پریشان تھے۔ ان کا دھندا چوپٹ ہو کر رہ گیا تھا۔ بادشاہ کا دربار ویران ہو گیا تھا۔ دربار روز لگتا تھا لیکن کوئی سائل نہیں آتا تھا کیونکہ لوگوں کے مسئلے ختم ہو گئے تھے۔ ویسے بھی اگر کسی کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو وہ مجسمے کے پاس جاتا تھا۔ شاہی دربار کا رخ نہیں کرتا تھا۔ کوتوال شہر فارغ تھا۔ سپاہی جو سائلین سے رقم بٹورتے تھے، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تھے۔ لوگ کوتوال کو دیکھ کر نظر انداز کر دیتے یا طنزیہ سی مسکراہٹ ڈال کر رخ پھیر لیتے۔ عدالتیں ویران ہو گئی تھیں۔ عدالتی اہلکار روز کسی سائل کی راہ تکتے لیکن کوئی ادھر کا رخ نہ کرتا۔ جن عدالتی اہلکاروں کے گھر کا نظام سائلوں سے بٹورے گئے نظرانوں پر چلتا تھا، ان کے گھر کی حالت خراب ہو گئی تھی۔

شہر کا سب سے بڑا معبد سنسان ہو گیا تھا۔ اس کی گھنٹیاں خاموش ہو گئی تھیں۔ معبد کے سب سے بڑے بت کے مجاور نظرانوں سے خالی تھے۔ پجاریوں کے گھر فاقوں کی نوبت آ گئی تھی۔

ایک دن بادشاہ نے بڑے معبد کے پجاری کو اپنے پاس بلایا اور کہا ”لوگوں کے سارے مسئلے مجسمہ حل کر رہا ہے اور ہمارے پاس کوئی نہیں آتا۔ ہمارے سارے ادارے عدالتیں، کوتوالی اور معبد بیکار پڑے ہیں۔ نفرتیں ختم ہو گئی ہیں۔ لوگ اکٹھے ہو گئے ہیں۔ اگر یہ حالات کچھ دیر ایسے ہی رہے تو ہم سب کا تختہ دھڑن ہو جائے گا“ ۔

معبد کا پجاری بولا ”بادشاہ سلامت! ابھی لوگوں کو مجسمے سے عقیدت ہو گئی ہے، اگر ہم نے طاقت کا استعمال کر کے مجسمے کو ہٹایا تو ہمارے خلاف بغاوت کھڑی ہو جائے گی۔ مجھے کچھ وقت دیں۔ میں کوئی ایسا حل نکالتا ہوں کہ سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی“ ۔

چالاک پجاری کچھ دن سوچ بچار کرتا رہا۔ پھر اس کے ذہن میں ایک منصوبہ آ گیا۔

ایک دن وہ اپنے حواریوں کے ساتھ شہر کے اس بڑے چوک میں پہنچا، جہاں مجسمہ نصب تھا۔ اس وقت لوگوں کا بڑا ہجوم اکٹھا تھا۔ پجاری لوگوں سے مخاطب ہوا ”رات آسمانی دیوتا میرے خواب میں آئے اور کہا کہ لوگ دنیاوی فائدے کے لیے اپنی آخرت خراب کر رہے ہیں۔ وہ مجسمے سے مدد مانگ کر شرک جیسا قبیح گناہ کر رہے ہیں۔ اگر یہ مجسمہ اسی طرح یہاں ایستادہ رہا اور لوگوں نے اس سے مدد مانگنے کی مشرکانہ روش نہ چھوڑی تو شہر پر بہت بڑا عذاب آئے گا۔“

کچھ لوگ اس کی باتوں سے متاثر ہوئے، کچھ نے سن کر ان سنی کر دی اور کچھ نے پجاری کی باتوں کو مسترد کر دیا۔ پجاری شہر کے مختلف چوکوں پر جاتا، لوگوں کو اکٹھا کرتا اور آسمانی دیوتا کا پیغام بڑے دردناک انداز میں سناتا۔ آہستہ آہستہ مجسمے کے خلاف ماحول بننے لگا۔

ایک دن جذباتی لوگوں کا ایک بڑا جلوس آگے بڑھا اور مجسمے پر حملہ آور ہو گیا۔ انہوں نے مجسمے کو توڑنا پھوڑنا اور گرانا شروع کر دیا۔

اس ظلم پر بھی وہ محبتیں نچھاور کرنے والا مجسمہ مسکرا رہا تھا۔ لیکن اس کی آنکھوں میں ایک حسرت اور التجا ضرور پنہاں تھی، ”لوگو محبتیں بکھیرنے والوں کو مارو گے، توڑو گے تو کبھی بھی خوش نہیں رہ سکو گے۔“

مجسمہ کچھ ہی دیر میں زمین بوس ہو گیا۔ چالاک پجاری نہیں چاہتا تھا کہ مجسمہ ساز زندہ رہے کیونکہ وہ اس طرح کا پھر کوئی مجسمہ بنا کر چوک میں ایستادہ کر سکتا تھا۔ اس نے مشتعل ہجوم کا رخ مجسمہ ساز کے گھر کی طرف کر دیا۔ لوگوں نے اس سے بھی خون میں نہلا دیا۔

مجسمہ ٹوٹ گیا تھا۔ مجسمہ ساز مر گیا تھا۔ آہستہ آہستہ شہر سے محبتیں رخصت ہو گئیں۔ نفرتیں لوٹ آئیں۔ غربت نے ڈیرے جما لیے۔ ہرطرف پہلے والی چھینا جھپٹی شروع ہو گئی۔ کوتوال شہر سینہ پھلا کر شہر کا گشت کرتا تھا۔ بادشاہ کا دربار آباد ہو گیا تھا۔ معبد کی رونقیں لوٹ آئی تھیں اور گھنٹیاں تواتر سے بجنے لگی تھیں۔

لوگ بھی خوش تھے کیونکہ وہ آسمانی دیوتا کی ناراضی سے بچ گئے تھے۔

Facebook Comments HS