سوشل میڈیا، ”شَٹَٹّا کلچر“ اور صاحب لوگ
والد صاحب میرے ساتھ انتہا درجہ کا پیار کرتے تھے۔ والدہ صاحبہ کی وفات تو اُس وقت ہو گئی جب میری عمر تین سال یا اُس سے بھی کم تھی۔ والد نے ماں کی طرح پالا اور خیال رکھا اور آخری سانس تک پدرانہ محبت مجھ پہ نچھاور کرتے رہے۔ ایک بات پہ تھوڑا سا خفا ہوتے تھے کہ راقم صبح کی نماز گاؤں کی مسجد میں جا کر کیوں نہیں پڑھتا؟ سورج نکلنے تک لحاف میں کیوں پڑا رہتا ہے؟ موسمِ سرما میں چندی پور گاؤں میں میرا حال یہ ہوتا کہ کوئی میرے پاس ایک کروڑ روپے کی رقم رکھ دے اور کہے ”اکبر! یہ سارے پیسے تمہارے اگر تم سردیوں کی صبح دھند میں بستر چھوڑ کر باہر تھوڑا سا مٹر گشت کر لو“ ۔ تو میرا جواب یہ ہونا تھا ”بھیّا! اپنے ایک کروڑ روپے اپنے پاس رکھ لو۔ میرے پاس کبھی بہت سارے پیسے آ گئے تو مجھ سے بھی ایک کروڑ روپے لے لینا بس جاڑے اور پالے کی اِس ٹھٹھرتی سردی میں سویرے سویرے میکوں بستر چھوڑن تے مجبور نہ کر“ ۔
گاؤں اور شہر دونوں کی زندگی بڑی حد تک سادہ تھی۔ انٹرنیٹ کا تو کوئی تصور ہی نہ تھا۔ ڈائل فون بھی شہر میں کسی کسی گھر میں ہوتا۔ لے دے کے بس ایک سرکاری ریڈیو اور سرکاری ٹی وی شریف رہ جاتا۔ عوام کی اکثریت ٹی وی پہ رات نو بجے والا خبرنامہ دیکھ کر لحاف اوپر اوڑھ لیتی اور میرے جیسے مست ملنگ ریڈیو پہ بی بی سی لندن کی آخری سروس اور رضا علی عابدی کو سننے کے بعد آل انڈیا ریڈیو پہ رفیع، کشور، مکیش اور لتا منگیشکر کے گانے سنتے سنتے نہ جانے کب نیند کی بانہوں میں چلے جاتے اور والد صاحب جو رات کو اپنی نیند سے اس لیے بیدار ہوتے کہ اکبر نے لحاف بھی اپنے اوپر لیا ہے یا نہیں؟ آ کر ریڈیو کا سوئچ آف کرتے اور لحاف میرے اوپر اوڑھا دیتے۔
دیہاتی علاقے میں میرے بہنوئی زمیندارہ سیاست کرتے تھے۔ ان کے پاس روپے پیسے کی کوئی کمی نہ تھی۔ غالباً ایرِکسن پہلا موبائل فون آیا۔ کال کرنے کے ساتھ ساتھ کال سننے کے بھی پیسے لگتے۔ انھوں نے وزنی ایرِکسن سیٹ خریدا تو ایک ملازم اُسے اُٹھائے رکھتا۔ جس کے پاس بھی یہ سیٹ ہوتا ماہانہ بِل عموماً اًیک لاکھ روپے دو لاکھ روپے یا اس سے بھی زیادہ ہوتا لیکن یہ فون بھی انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا ایپس کی کوئی سروس مہیا نہ کرتا۔
رات کو ڈیرہ اوطاق پہ آگ کا الاؤ جلایا جاتا جس کے گرد موڑھے کرسیاں ہوتیں اور گاؤں کے لوگ گپ شپ کر رہے ہوتے۔ شہروں میں بھی مغرب کے ساتھ ساتھ دکانیں بند ہونا شروع ہو جاتیں۔ نمازِ عشاء کے بعد شہر کی سڑکوں سے گاڑیاں بھی غائب ہونے لگ جاتیں۔ گاڑیاں بھی کیا تھیں؟ کاروں اور موٹر سائیکلوں کی بڑی محدود تعداد یا پھر تانگے اور رکشے۔ لوگ اپنی گلی یا محلہ کے کسی ایک گھر کی بیٹھک میں جمع ہو کر تھوڑی دیر کے لیے گپ شپ کر لیتے۔ لُڈّو یا کیرم بورڈ کھیل لیتے۔ بس یہی اُس وقت کا سوشل میڈیا تھا جس میں آج کے انٹرنیٹ سوشل میڈیا کی طرح چھوٹی ٹِنڈ، بڑی ٹِنڈ، کوکینی، بِلّی، نانی، منیرا، ڈیزل اور اس طرح کے عجیب و غریب الفاظ و القابات کا استعمال نہ تھا۔
ہر چیز کے مثبت اور منفی دو پہلو ہوتے ہیں۔ مثلاً میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ موسمِ سرما میں اگر آپ کچھ دیر دھوپ میں بیٹھ کر اپنے جسم کو وٹامن ڈی سے چارج نہیں کرتے تو آپ کے پٹھے، اعصاب اور ہڈیوں میں نہ صرف ٹوٹ پھوٹ کے عمل کا آغاز ہو جائے گا بلکہ آپ کی قوتِ مدافعت کمزور ہو کر جسم کو وائرل بیماریوں کے حوالے کر دے گی۔ دوسری طرف وہی سائنس کہتی ہے کہ موسمِ گرما میں اگر آپ روزانہ کئی گھنٹے دھوپ میں بیٹھے رہتے ہیں تو آپ جِلد کے کینسر کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف سائنس کہتی ہے کہ اگر جسم میں نائٹرک آکسائیڈ نارمل لیول سے بہت زیادہ اوپر چلا جائے تو خون کی وریدیوں یا شریانوں کے زیادہ پھیلنے سے باریک نالیوں سے خون کا اخراج شروع ہو سکتا ہے وہاں وہی سائنس کہتی ہے کہ ذیابیطس کے مریض میں نائٹرک آکسائیڈ کی کمی گینگرین کی طرف لے جا سکتی ہے۔
ایسے ہی سوشل میڈیا کا استعمال ہے۔ چاہیں تو مثبت سمت لے جائیں اور چاہیں تو جس کی چاہیں پگڑی اچھالیں۔ کوئی سوشل میڈیا کو دجّال کا ظہور کہہ رہا ہے تو کوئی اسے جدید دور کا سب سے بڑا انقلاب کہہ رہا ہے۔ اکبر شیخ اکبر کے خیال میں اپنی تمام تر خامیوں اور عیبوں کے باوجود انٹرنیٹ سوشل میڈیا کا سب سے بڑا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس نے شخصیت پرستی کا بُت توڑ دیا ہے۔ پہلے لوگ خوف کی وجہ سے جن ”ہستیوں“ کے گھٹنوں پہ ہاتھ رکھ کر ملتے تھے اب ان کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہیں۔ یہ ذہنوں میں تبدیلی لانے والا انقلاب نہیں تو اور کیا ہے؟
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش میں سوشل میڈیا کے مثبت اور تعمیری استعمال سے زیادہ اس کا منفی استعمال ہو رہا ہے جس کا سب سے بڑا روپ ٹک ٹاک جیسی سوشل میڈیا ایپس پہ آیا ”شَٹَٹّا کلچر“ کا سیلاب ہے۔ دراصل میرا یار مولوی جو بہاول پور چھوڑ کر حیدر آباد اپنے سسرال کو پیارا ہو گیا ہے وہ اُن لوگوں کے لیے ”شَٹَٹّے“ کی اصطلاح استعمال کرتا تھا جو مشہور ہونے کے لیے اپنی عزتِ نفس کی پرواہ کیے بغیر مسلسل چھچھور پنے کا سہارا لیتے ہیں اور ٹک ٹاک پر چھائے ہوئے ہوتے ہیں۔
اور اب جنوبی ایشیائی اور امریکی میڈیا میں سوشل میڈیا ایپس کو جمہوریت دشمن اور اخلاقیات کا دشمن کہہ کر اس پر پابندی لگانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ امریکی مقتدرہ تو ٹک ٹاک ایپ پہ پابندی دیکھنا چاہ رہی ہے تو جنوبی ایشیا میں بھی ایلیٹ کلاس سوشل میڈیا پہ آنے والی کئی پوسٹوں اور ویڈیوز کو سخت ناپسند کر رہی ہے۔ ایلیٹ کلاس امریکہ کی ہو، عرب ممالک کی ہو یا جنوبی ایشیا کی دراصل وہ یہ سمجھ رہی ہے کہ سوشل میڈیا ان کی توہین اور ہتک کا سبب بن رہا ہے۔ ان کو لاشعوری طور پر یہ خوف بھی لاحق ہو گیا ہے کہ سوشل میڈیا ان کی طاقت کو کمزور کر رہا ہے۔ وہ اس اندیشے میں بھی مبتلا ہیں کہ کہیں سوشل میڈیا کوئی ایسا بڑا انقلاب نہ لے آئے کہ عام لوگ ان کی محفوظ کمین گاہوں تک نہ پہنچ جائیں تو کیا صاحب لوگوں کو مزید ”بے عزتی“ سے بچانے کے لیے سوشل میڈیا پہ پابندی لگا دی جائے گی؟
راقم سوشل میڈیا پہ پابندی لگانے کے حق میں نہیں۔ ایک ہی تو پلیٹ فارم ملا ہے جہاں کم ازکم ظلم و زیادتی اور نا انصافی کے ماروں کو اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع تو ملتا ہے۔
ان معاشروں میں جہاں عدالتوں سے مقدمات کا حتمی فیصلہ ہونے میں کئی کئی سال لگ جاتے ہیں جہاں وسائل پہ اصل دسترس اور کنٹرول صرف ایلیٹ کلاس کا ہو وہاں سوشل میڈیا ایک نعمت سے کم نہیں۔ ایلیٹ کلاس کو بھی سوشل میڈیا پہ پڑنے والی تھوڑی بہت گالیوں کو برداشت کرنا چاہیے ورنہ بھوک، غربت اور محرومیوں کے مارے عوام کو اپنی بھڑاس نکالنے کا کوئی پلیٹ فارم نہ ملا تو غصّہ بے قابو ہونے کی وجہ سے وہ ایلیٹ کلاس کے محل نما گھروں پہ حملے بھی کر سکتے ہیں۔
یہ سوشل میڈیا کی برکت ہی تو ہے کہ راقم نے گزشتہ رات 18 جنوری 2025 کو انٹرنیٹ پہ ایک ویڈیو دیکھی جس میں دکھایا گیا کہ کینیڈا میں گھر کے باہر لگے کیمرہ نے آسمان سے آنے والے شہابِ ثاقب کے مکان سے ٹکرانے کی آواز ریکارڈ کی۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی آ گئی۔ عالمی میڈیا کے مطابق تاریخ میں پہلی بار ڈیوائس پہ شہابِ ثاقب کے گرنے کی آواز ریکارڈ ہوئی۔ گرنے والے مواد کے سائنسی تجزیہ کے بعد سائنسدانوں نے بھی تصدیق کی کہ یہ شہابِ ثاقب تھا۔
بہاول پور کے ایک فوڈ و لاگر سوشل میڈیا پہ شہر کے مختلف ریسٹورنٹس اور ڈھابوں پہ ملنے والے کھانوں کی ویڈیوز اپلوڈ کرتے رہتے ہیں۔ اب تو انھیں ملتان، گوجرانوالہ اور لاہور کے اچھے ریسٹورنٹس نے بھی مدعو کرنا شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے اپنے سوشل میڈیا ولاگز میں غریب خواتین کے سٹریٹ فوڈ بزنس کو بھی پروجیکشن دے کر خواتین کو حوصلہ افزائی دی کہ وہ روزگار کمانے کے لیے اس فیلڈ میں بھی آئیں۔
سوشل میڈیا پہ پابندی لگانے کی باتیں کرنے کی بجائے اس سے تعلیم، تعمیر اور معاشرے کے منفی روّیوں کو مثبت روّیوں میں بدلنے کا کام لیں۔ دنیا بھر میں سوشل میڈیا پہ اربوں ڈالر کا کاروبار ہو رہا ہے اور جنوبی ایشیا کے بزرجمہروں سے یہ ”بدعت“ برداشت نہیں ہو پا رہی۔


