ایم اے ”مطالعہ پاکستان“ کے ایک اسٹوڈنٹ سے گفتگو۔


گزشتہ دنوں ایک اسٹوڈنٹ نے مجھے فون پر بتایا کہ وہ انگریزی گرائمر اور تھوڑی بہت بول چال سیکھنا چاہتا ہے، وجہ جاننے پر کہنے لگا کہ وہ بیرون ملک جانے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ تعلیمی تسلسل کو آگے بڑھا سکے اور سب سے بڑھ کر ایم اے کر لینے کے بعد اسے اپنی کم مائیگی کا بھی خاصا ادراک ہوا ہے۔

خیر دوبدو ملاقات کے بعد عقدہ کھلا کہ موصوف تو بالکل ہی کورے ہیں، ذہن و تخیل خالی سلیٹ کی طرح سپاٹ، نہ اپنے مضمون پر گرفت اور نا ہی مستقبل کا کوئی درست تعین یا سنجیدگی، بس اتنا پتا ہے کہ وہ ایم اے مطالعہ پاکستان ہو چکے ہیں۔

سوال پوچھنے پر کہ جناب کو اپنی کم مائیگی کا احساس کیسے ہوا، تو فرمانے لگے کہ بس سرراہ کسی نے کوئی سوال پوچھ لیا جس کا اسے پتا نہیں تھا، خاصی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور سوال پوچھنے والا جاتے ہوئے ایک طعنہ بھی کس گیا

”حیرت ہے کہ تم نے سولہ جماعتیں کیسے پاس کر لیں“

موصوف کا ایک بھائی ڈاکٹر بننے کے آخری مرحلے میں ہے، ان کا اصرار ہے کہ مزید تعلیم کے حصول کے لیے کسی اچھے سے ملک میں چلے جاؤ، یہاں کچھ نہیں رکھا میاں، خواہ مخواہ میں خجل خوار ہوتے پھرو گے ہاتھ بھی کچھ نہیں آئے گا۔

میں نے کہا کہ سب سے پہلے تو مجھے یہ بتاؤ کہ گریجویشن کرنے کے بعد تمہیں یہ کیا سوجھی کہ چلو مطالعہ پاکستان میں ماسٹرز کر لیتے ہیں؟

نا سمجھیوں کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ، جس کی بنیاد گھر سے شروع ہوئی اساتذہ و تعلیمی اداروں نے ان کوتاہیوں کو دور کرنے کی بجائے مزید مستحکم کیا اور ٹیڑھی نیو ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہی رہی سیدھی نہیں ہو پائی۔

ایک سرد سی آہ بھرتے ہوئے کہنے لگا کہ سر جی!
خاصی لمبی کہانی ہے کیا بتاؤں؟

میری تعلیمی کارکردگی خاصی ایوریج سی رہی ہے، سمجھ بوجھ تو آج بھی زیرو ہے، اور اس وقت تک کی تعلیمی کارکردگی کا ماحصل وہ کمپارٹس ہیں جنہوں نے ایم اے تک بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔

اب کمزور بنیادوں اور کمپارٹس کی تہہ میں سے شعور و آگہی تو نہیں نکل سکتی نا!

توقف کرنا، ذرا سا ٹھہر کر سوچنا اور انگشت بدنداں کی سی کیفیت میں سرشار ہو کر لفظوں کی گہرائی میں اترنے کے فن سے میں تو بالکل ہی نابلد ہوں، میں تو بس ایک وقتی سا رٹو طوطا ہی بن پایا ہوں۔

جب میں پیچھے مڑ کر اپنی تعلیمی کارکردگی کا جائزہ لینے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے اپنی بنیادوں میں خاصی خامیاں دکھائی دیتی ہیں، پرائمری، مڈل، میٹرک، انٹرمیڈیٹ، گریجویشن حتی کہ ماسٹرز تک وہ شعوری اپج نصیب نہیں ہوا جس کی خاطر ہم تعلیمی ریاضت کرتے ہیں اور والدین ہم پر خرچ کرتے ہیں۔

اس زبوں حالی کا ذمہ دار خود کو سمجھتے ہو یا اساتذہ و تعلیمی نظام کو؟

تعلیمی و امتحانی نظام کو تو بعد میں ہی مورد الزام ٹھہرائیں گے نا پہلے تو اساتذہ آتے ہیں یہ جو بنیادیں ہمیں فراہم کرتے ہیں وہ اتنی کمزور کیوں ہوتی ہیں کہ ماسٹرز کر لینے کے بعد بھی ایک بچہ درخواست لکھنا تو درکنار سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے تک کے فن یا فلسفے سے بھی ناواقف رہتا ہے۔

ہمیں تو فقط تعظیم و تکریم کرنا سکھایا جاتا ہے، سوچا کیسے جاتا ہے یا سوال کیسے کیا جاتا ہے کوئی نہیں سکھاتا، یہی وجہ ہے کہ مجھ ایسے کئی برائے نام قسم کے تعلیم یافتہ سماجی تمسخر کا نشانہ بنتے ہیں۔

ساری زندگی جسے تعلیم سمجھ کر حاصل کرتے رہے جب عملی میدان میں اس کا وزن ہوا تو اس میں سے ایک قطرہ بھی شعور کا برآمد نہ ہوا اور جو پڑھ پڑھا کر اچھے مارکس و گریڈ حاصل کر بھی لیتے ہیں اور خوش قسمتی سے اگر انہیں باہر کی کسی اچھی یونیورسٹی میں داخلہ مل بھی جائے تو چند روز میں ہی انہیں بڑے اچھے سے اپنی تعلیمی کارکردگی کا پتا چل جاتا ہے اور سارے پردے ہٹ جانے کے بعد ادراک ہوتا ہے کہ پیچھے جو کچھ پڑھا تھا وہ تو سارا سراب تھا یا علمی وہم۔

چلیں یہ سب تو اس اسٹوڈنٹ کا رونا دھونا ہوا لیکن عملی طور پر ہمارے تعلیمی حالات بہت برے ہیں، یہ جو ہم مارکس کے انبار دیکھتے ہیں یہ سارا رٹے کا کمال ہوتا ہے اساتذہ کا کنٹری بیوشن نا ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

پرائیویٹ اور سرکاری تعلیمی ادارے ان بچوں کی شروع میں ہی چھانٹی کر لیتے ہیں جن کی یادداشت اچھی ہوتی ہے اور تھوڑی بہت شدبد بھی رکھتے ہیں پھر سارا سال انہی پر توجہ مرکوز کیے رکھتے ہیں اور وہی ادارے کی سربلندی کا سبب بن جاتے ہیں۔

پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے لیے یہ سارا بندوبست کمائی کا ذریعہ ہوتا ہے جبکہ سرکاری اداروں میں گریجویٹی یا قابل استاد ہونے کا سرکاری اعزاز و اعتراف، بس اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔

یقین مانیں ایک ان پڑھ قسم کے دکاندار، مزدور، ریڑھی بان یا ایک پرائمری پاس آن لائن ارننگ کرنے والے کا شعور آج کل کے تعلیم یافتہ شخص سے کہیں بہتر اور اجلا ہوتا ہے۔

ہمارا تعلیمی معیار ایک سنجیدہ طالب علم کو زیادہ سے زیادہ ایک سست لرنر کی حد تک تو مدد کر سکتا ہے لیکن معاشرے میں اسے ایک اہم مقام تک پہنچانے میں کوئی خاص مدد نہیں کر سکتا۔

Facebook Comments HS