لفظ بلوچ کا تاریخی جائزہ
مختلف مؤرخین اور محققین نے لفظ ”بلوچ“ کی تعریف مختلف انداز میں بیان کی ہے، ان مؤرخین میں سے کچھ تو بلوچ ہیں جنہوں نے اُن روایات کو مدّنظر رکھا ہے جو سینہ در سینہ بلوچوں میں چلی آ رہی ہیں اور کچھ مورخین وہ ہیں جنہوں نے کافی عرصہ اس خطہ میں گزارا اور اُن کے طور طریقے، رسم و رواج، تہذیب و تمدن اور ثقافت کا بغور مطالعہ کیا ہے اور لفظ بلوچ کی تعریف بیان کی ہے، لہذا ہم سب سے پہلے ان مختلف مورخین اور محققین کی آراء کو بیان کریں گے۔
لفظ بلوچ کا تلفظ و املا مختلف کیا جاتا رہا ہے، جیسے ”بلوش، بیلوش، بلوص“ وغیرہ، صحیح تلفظ و املا ”بلوچ“ بہ وزن قوج، نوچ ہے لیکن بلوچوں میں اس کا ایک ہی تلفظ مستعمل ہے یعنی بلوچ ”ب مفتوح، ل مضمہ، و مجہولہ اور چ موقوف۔
لفظ بلوچ کے پہلے حرف زیر کے ساتھ بولنے کا رواج ہندوستان میں عام ہے لیکن خود بلوچ قبائل اس تلفظ سے آشنا نہیں چنانچہ اوضاع بلوچ اور بُلوچ اُن مُنتشر بلوچ گروہوں کے لئے جائز قرار دیے جا سکتے ہیں جو اپنے آبائی علاقے سے کٹ کر ہندوستان کے مختلف خطوں میں جاکر آباد ہو گئے، مثلاً شمال مغربی سرحدی صوبے، مشرقی پنجاب، لاہور کے شُتر بان اور ڈیرہ اسمٰعیل خان کے علاقہ پنیالہ کے رہنے والے بلوچ∙
قریش کے معنی تاجر کے ہیں اور یہ قوم بنی اسرائیل کی ایک شاخ ہیں جن کا سلسلہ نسب قحطان اور عدنان کے شجرے سے ملتا ہے، اسی بناء پر مختلف محققین نے تاریخی وثوق سے کہا ہے کہ ایرانی، پٹھان (پتان) اور بلوچ بنی اسرائیل کی چودہ شاخوں میں سے ایک ہیں۔
اردو کے مایہ ناز شاعر مرز اسد اللہ خاں غالب ”بلوچ“ کو اپنی کتاب میں ”برلچ“ کہتا ہے، برلچ اور برلاس بہت قریبی لفظ ہیں جیسے بلوچ کو آج بھی بہت سے پٹھان ”بلوس“ کہتے ہیں۔
محمود عطاء رقم طراز ہیں کہ لفظ ”بلوچ“ بہت قدیم لفظ ہے جس میں تلفظ کی تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں، قدیم کوش رسم الخط میں ”بعلوث“ یا ”بیلوث“ تھا، اسیریا، بابلی اور کُلدانی مؤرخین نے اپنی تحریروں میں ”بیلوس یا بعلوس“ لکھا ہے، قرون وسطیٰ کے عربوں نے بلوص اور بلوچ اور اہل ِ فارس نے اُسے بلوچ سے موسوم کیا ہے۔
ایک روایت کے مطابق بلوچ کوش خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا مؤرث اعلیٰ ”بلوص“ تھا جسے نمرود بھی کہتے ہیں، ایک تحقیق یہ بھی ہے کہ بلوچ قوم ”بلوص بن لکاؤس“ شاہ کابل کی اولاد ہیں، یہ 458 قبل مسیح میں موجود تھے ∙
ملک محمد رمضان بلوچ لکھتے ہیں کہ بلوچوں کے متعلق اب تک علم الانساب کے جن ماہر انگریز مؤرخین نے تحقیق کی ہے ان میں سے سٹرٹن اور لاسن کی تحقیق سے بلوچ ایرانی النسل قرار دیے گئے ہیں، سٹرٹن اور لاسن کی اس تحقیق سے ڈیمز ایم رابل بھی متفق الرائے نظر آتے ہیں، بعض انگریز مؤرخین مثلاً پوٹنگر اور خانیکاف نے اپنی تحقیق میں بلوچ کو ترکمان نسل سے قرار دیا ہے لیکن اس کے برعکس سر ٹامس ہالڈک اور دوسرے مؤرخین نے بلوچوں کو عربی النسل قرار دیا ہے، ان محققین کا خیال ہے کہ بلوچ عرب سے ہجرت کر کے پہلے پہل ایرانی سرحدوں پر آباد ہو گئے اور بعد ازاں کرمان، سیستان اور مکران سے ہوتے ہوئے سندھ اور پنجاب تک پھیل گئے۔
تاریخ ابن آدم کا دقیق جائزہ لینے والے اس بات کے دعویدار ہیں کہ دنیا میں انسانی نسلوں کی بناء یا اصل دو ہی نسلوں سے متعلق ہے، اولاً سامی الاصل جو حضرت سام بن نوح ؑ کی اولاد ہے اور دوسری اسرائیل الاصل اور افغان اسرائیل الاصل ہیں اور مولانا نجم الغنی نے ”آثار رضا وید عجم“ میں روہیلہ پٹھانوں کو بھی بلوچی نسل لکھا ہے۔
عبدالغفار خان صاحب اپنی تصریحات میں رقم طراز ہیں کہ ”جب عربوں نے ایران فتح کیا تو“ بلوچ ”لفظ کو عربی زبان میں“ بلوص ”لکھا گیا،“ لص ”چور یا ڈاکو کو کہتے ہیں، ایک دفعہ جو یہ قوم بلوص کہلائی تو یکلخت ساری قوم ڈاکو کے مترادف ہو گئی، باوجود یکہ عربوں نے غیر شعوری طور پر فقط بلوچ لفظ کو عربی صورت دی تھی لیکن لفظ بلوص نے بلوچ اور دیگر اقوام پر نسبتاً خراب اثر کیا یعنی بلوص لفظ بولا جاتا ہے تو عالم خیال میں بلوچ ڈاکوؤں کی شکل میں نظر آنے لگتے تھے ∙ چوتھی صدی ہجری کا مؤرخ لکھتا ہے کہ بلوچ مسلمانوں کے جانی دشمن، شقی القلب اور وحشی ہیں، اگر کوئی مسافر اکیلا مل جاتا ہے تو اس کو پتھروں سے مار دیتے ہیں، یہ ہے بلوص لفظ کی بدولت بلوچ قوم کی تعریف ∙
بعد میں عربوں نے اس غلطی کی تلافی کرنے کے لئے ”بلوش، بالش، بالاش اور بلج“ وغیرہ لکھا مگر ایک دفعہ جو غلطی ہوئی تو پھر اس کا مداوا نہیں ہوسکا، بلوچ نہ چور تھے نہ ڈاکو، وہ پہاڑوں کے باسی تھے، انفرادی قبائلی زندگی گزارتے تھے، قرب و جوار کے لوگوں سے اسی لئے میل جول کم رہا۔
مزید تحریر کرتے ہیں کہ جب فرنگی عالموں نے بلوچوں کی تاریخیں لکھیں تو انہوں نے سمجھ لیا کہ بلوص عربی لفظ ہے اور چونکہ بلوچ بھی عرب سے ہیں تو انہوں نے سمجھ لیا کہ بلوص لفظ اصلی وطن سے لائے ہیں بلوص کو بلوچ پر مُقدم سمجھا اور اسی ”بلوص“ لفظ کے محور پر تاریخیں لکھ ڈالیں ∙ 2 بنا بریں بلوچوں کا الحاق بیلوس وغیرہ سے کر دیا حالانکہ بلوچوں کو نہ بیلوس سے کچھ تعلق ہے اور نہ نمرود سے۔
بلوچ کا مصدر۔ بلوچ لفظ بوچی سے مُشتق ہے، فردوسی نے بھی کوچ و بلوچ یکجا استعمال کیے ہیں، بوچی قوم کو ایران میں سکنری یا سگنری کہا گیا ہے، سندھ میں تھاکا، شام میں ستھ، ہندوستان میں ساکا، یورپ میں سیتھین غرض کہ الگ الگ ممالک میں ایک ہی قوم کے جدا جدا نام ہیں، ایسا ہی مقامی لوگوں نے حمصوی قوم کا نام بلوچ رکھ دیا۔
بعض ادیبوں نے بلوچ لفظ کا مصدر ”بل اوچ“ لکھا یعنی ان کے نزدیک یہ ایک سنسکرت کا لفظ ہے اور یہ نام آریہ قوموں نے رکھا ہے، بلوچ لفظ سنسکرت یا پراکرت ہونے کے لئے دو حقیقتوں کا ہونا لازمی ہے،
(الف) آریہ قوم کا ایران پر تسلط ( ب ) آریہ قوم کا ایران سے بالواسطہ رابطہ
تاریخ میں یہ دونوں حقیقتیں معدوم ہیں۔ چونکہ سنسکرت بڑی وسیع زبان ہے جو لفظ اس زبان کے احاطے میں آتا ہے، سنسکرت کا رنگ پکڑ کر ظاہر ہوتا ہے، اس زبان سے غیر واقف اس کی وسعت کا اندازہ نہیں کر سکتا، اس میں ہزاروں مصادر ہیں اس لئے ایک اجنبی لفظ کو آسانی سے سنسکرت کا جامہ پہنایا جاسکتا تھا ∙ ”بل اوچ“ اسی زبان کی جادوگری ہے، ہندوستان میں کسی نے بلوچ نام سُن کر کہہ دیا ہو گا کہ یہاں یہ قوم بل اوچ ہے یعنی ”بہادر“ بس اسی محاورہ پر گرہ باندھی گئی اور ”بل اوچ“ اشتقاق ہو گیا، ”بل اوچ“ محاورہ بالکل اتفاقی ہے، مُستند نہیں ہو سکتا۔
لفظ بلوچ کا وجہ تسمیہ : سردار واحد بخش صاحب رقم طراز ہیں کہ ”میرے نظریہ کے مطابق لفظ“ بلوچ ”کا اطلاق کسی ذاتی حسب نسب پر نہیں، یہ لفظ خالص سنسکرت زبان کا ہے اور ایک قوم کا خطاب ہے جس کے معنی اونچے بل والا، زیادہ طاقت والا، اس کی ماہیت یا اطلاق غور طلب ہے۔
مولوی غلام احمد صاحب اختر مصنف تاریخ ”اوچ“ نے لفظ بلوچ کی توضیح اس طرح لکھی ہے ”یہ یونانی زبان کا لفظ“ بلوشی ”ہے جو بگڑ کر بلوچی بن گیا جس کے لفظی معنی ہیں چھاؤنی۔
جناب ممتاز احمد گورمانی تحریر کرتے ہیں کہ ”قیاس اغلب ہے کہ موجودہ بلوچ کسی ایک منفرد خاندان کا سرمایہ نہیں بلکہ یہ چار مختلف قبائل کی وقتاً فوقتاً آمیزش کا نتیجہ ہے، اس عربی اقوام، آریائی اقوام، جت یا زط اقوام اور سرزمین بلوچستان کے قدیم باشندے شامل ہیں ∙ تاریخ کے منتشر ابواب سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب کی سرزمین سے“ بلوص ”قبیلہ ہجرت کر کے حلب کے راستے سے ایران سے ہوتا ہوا مکران و کرمان ( موجودہ بلوچستان ) میں وارد ہوا، اس قبیلے کے ورود اور استقامت سے علاقہ“ بلوص ”کی پناہ گاہ ثابت ہوا اور اس کا نام بلوچستان پڑ گیا۔ بعد ازاں وسط ایشیا کے کچھ آریائی قبائل بھی آئے، ان کی مار دھاڑ اور نت نئی ہجرت کے باعث یہاں آ کر اقامت گزیں ہوئے، بلوص اور آریائی قبائل کے اختلاط سے سرزمین مکران و کرمان مستقل منزل گاہ بن گئی اور یہ نسل“ بلوچ ”کہلائی، اس طرح ہندوستان سے“ زط ”اقوام جو بہرام شاہ ساسانی کے عہد میں ہندوستان سے دس ہزار کی تعداد میں ہجرت کر کے ایران میں وارد ہوئیں، اُن میں کچھ یہاں راستہ میں ٹھہر گئے اور بلوچستان میں دوسری اقوام کے ساتھ مل کر زندگی بسر کرنے لگے ∙
بلوچستان کے مقامی اور اصلی باشندوں پر مُشتمل تھی اور ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ ہی ماہی گیری کے ذریعہ اپنا معاش پیدا کرتی تھی، ان میں شامل ہو گئیں اب ان چار اقوام کا اختلاط ”بلوچ“ اقوام کا منبع بن گیا۔
رئیس رسول بخش لاشاری تحریر کرتے ہیں کہ عرب میں ایک پہاڑ تھا ”لوج“ نام، اس کے گرد و پیش میں جو قوم آباد تھی وہ ”بلوچ“ کہلاتی تھی، ظہور اسلام سے پیشتر یہ قوم ہجرت کر کے ملک شام میں آ کر آباد ہو گئی، ہجرت کے وقت ان کا ان کا سردار حمزہ نامی ایک شخص تھا، اس کے بیٹے کا نام ”عمارہ“ تھا، شام میں ”الحمزۃ“ اور ”العمارۃ“ نام کے دو گاؤں اب تک موجود ہیں۔
ایک اور بلوچ رئیس نور محمد خاں صاحب جمالی کا دعویٰ ہے کہ بلوچ اپنے آپ کو جس میر حمزہ کی اولاد سے ظاہر کرتے ہیں، یہ حمزہ بن عبدالمطلب نہیں بلکہ وہ روبیل بن یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے، جو شیرازی بلوچی میں میر حمزہ سے میر عمازہ اور پھر عمارہ بن کر رہ گئی۔
اکثر بلوچوں سے سُنا اور بلوچوں میں اپنی اصلیت کی نسبت قدیم سے جو سینہ بہ سینہ روایات چلی آ رہی ہیں، وہ بظاہر متضاد سہی مگر دراصل ایک ہی نظریہ پر مبنی ہیں، ایک گروہ بلوچوں کو حضرت سیدنا امیر حمزہ کی اولاد تصور کرتا ہے اور اس کے ثبوت میں بلوچوں کے قدیم دفتر کے ان اشعار سے استدلال کرتا ہے جو اس سلسلے میں ان کے درمیان سند کے طور پر مُستند ہیں، ایک مشہور بلوچی شعر ہے ”ہم حضرت علی کے مرید ہیں، ہمارا دین و ایمان محفوظ اور مضبوط ہے، ہم پاک نبی کی اُمت ہیں۔
ایک اور بلوچ گروہ اگرچہ بلوچوں کو حضرت سیدنا امیر حمزہ کی اولاد تصور نہیں کرتا لیکن اس پر بھی مُتفق ہیں کہ بلوچ عرب النسل قوم ہے جو پہلے صحرائے عرب سے نکل کر شام کے چولستانوں حلب میں وارد ہوئے بطور احتجاج ایران کی سرحدوں پر آباد ہوئے بعد ازاں وہاں سے اُٹھ کر مکران اور سندھ و پنجاب میں پھیل گئے ∙
چند بوڑھے بلوچوں کا نظریہ یہ ہے کہ ہم مانتے ہیں کہ حضرت امیر حمزہ کو اولاد نرینہ نہیں تھی نہ ہم اپنے آپ کو ان کی اولاد نرینہ سے کہلاتے ہیں بلکہ ان کی خاندانی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ بلوچ حضرت امیر حمزہ کی دختر نیک اختر کے بطن سے ہیں اور اسی بنیاد پر بلوچوں میں نسل در نسل یہ اعتقاد چلا آ رہا ہے کہ بلوچ امیر حمزہ کی اولاد ہیں۔
تاریخ بلوچستان کے ہندو مؤرخ لالہ ہتو رام لکھتے ہیں ”بلوچ حلبی لفظ ہے جس کے معنی بادیہ نشین، صحرا نورد اور خانہ بدوش کے ہیں، یہ لفظ کسی قوم سے متعلق نہیں تھا، مختلف قوموں پر یہ لفظ استعمال ہوتا ہے، بلوچستان میں اب بھی کچھ قومیں جو مختلف حسب و نسب کی ہیں لیکن پھر بھی بلوچ کہلاتی ہیں۔
اردو دائرۃ المعارف اسلامیہ میں بحوالہ آشوریہ یہ تحریر ہے کہ نمرود کلدانیوں کا سب سے بڑا بادشاہ تھا اور بلوچی شاہی خاندان سے تعلق رکھتا تھا، اس وقت پر بلوچی قبیلہ لعل بت کی پوجا کرتا تھا اور ہر قبیلے نے اپنا نام جدا جدا رکھ لیا تھا تاکہ دوسرے سے مُمیز ہو سکے ∙
ایک جرمن رائٹر نے اپنی تصنیف میں لکھا ہے کہ بلوچوں کی اصل شامی الاصل ہے کیونکہ کلدانی بلوچ قبائل شام میں بھی ہیں۔ مزید براں دائرۃ معارف الاسلامیہ لاہور نے لفظ بلوچ کے بارے میں بہت سے اقوال نقل کیے ہیں، بلوچ اصل میں ”بلوص“ ہیں جنہیں کلدانیوں نے ”بلوچ“ لکھا ہے اور عربوں نے اسے ”بلوش“ بولا ہے، مختلف اقوام نے ”مائبعل، بلوچ، بلوص، بلوش، بعلوث، بیلوس اور بیلوث لکھا ہے۔ لیکن ایک جدید تحقیق کے مطابق بلوچ کا مخرج بلوص ہے، یہ وادی بلوص کے رہنے والے ہیں جو شام میں حلب کے قریب ایرانی سرحد پر واقع ہے، اس وادی میں کئی قبائل آباد تھے جو روسی حکمرانوں کے ظلم و ستم سے نقل مکانی کرتے رہے۔ میر گل خاں نصیر اپنی کتاب“ تاریخ بلوچستان ”میں بلوچ کے سلسلے میں تحریر کرتے ہیں کہ بلوچ قدیم زمانے میں دجلہ و فرات اور حلب میں ایران کی سرحد کے ساتھ کوہ البرز اور مشہد میں آباد تھے۔
ہمارے بزرگ مؤرخ مولانا نور احمد خاں فریدی کی تحقیق یہ ہے کہ بلوچ سامی النسل ہیں، ان کا اصلی وطن بحیرہ اسود کا درمیانی علاقہ ہے جہاں یہ رہتے تھے، یہ وادی ”بلوص“ کہلاتی تھی جہاں سے وہ ہجرت کر کے دشت لوط و مکران کی طرف قافلوں کی شکل میں کیچ مکران کی طرف ہجرت کرتے گئے جہاں انہوں نے دیگر مقامی قبائل کو اپنے میں جذب کر لیا پھر یہی لوگ بلوچ کہلانے لگے۔
وادی بلوص کے متعلق لارنس لکھتا ہے کہ جب اسلامی حکومت کا غلبہ حضرت عمر فاروق اعظم کے زمانے میں ہوا تو عبیدہ بن الجراح نے اپنے ایک سردار حبیب بن مُسلمہ کو وادی بلوص کو فتح کرنے کے لئے بھیجا، ان کے ہمراہ عربوں کی ایک جماعت یہاں آباد ہو گئی، دریں اثنا قبیلہ قیس نے صحرا نوردی چھوڑ دی اور اس وادی میں آباد ہو گیا، یہ لوگ بلوص تھے جو بعد میں بلوچ کہلائے۔
ایک اور مؤرخ رقم طراز ہے کہ ”بیلوس“ اس لفظ سے مؤرخین نے قیاس کیا کہ بلوچ لفظ کا ماخذ ”بیلوس“ ہے، اُلجھاؤ اور پیچیدگی میں اضافہ کر دیا ہے، عربوں نے لفظ بلوچ عربی رسم الخط میں ”بیلوص“ کر کے لکھا ہے چونکہ بلوچ عرب سے آئے تھے اس لئے گماں رہا کہ ”بیلوص“ لفظ اصلی وطن سے ساتھ لائے ہیں یعنی ”بلوص“ لفظ بلوچ سے متقدم ہے حالانکہ یہ درست نہیں، بلوص اور بیلوس ہم آواز ہونے کے سبب ایک ہی لفظ سمجھا گیا یعنی ایک ہی لفظ دو صورتوں میں آیا۔
عبدالرحمٰن غور مصنف لوک کہانی لکھتے ہیں کہ بلوچ لفظ کی وجہ تسمیہ بھی یہی بتاتی ہے کہ حلب میں ایک ندی اور ایک پہاڑی ”بہروچ“ کے نام سے مشہور ہے اور حلبی زبان میں اس لفظ کا اطلاق بادیہ نشینوں پر ہوتا ہے۔
بلوچ قوم کی عجیب و غریب تشریح ہندو مؤرخ ہتو رام نے دلچسپ انداز میں کی ہے، وہ لکھتے ہیں کہ بلوچ چار حروف کا مجموعہ ہے، ب سے مراد بہادر، ل سے مراد لالچی، و سے مراد ویری یعنی کینہ پرور اور چ سے مراد چور ہے، اس میں ہندو مؤرخ نے اپنی مخصوص ذہنیت کا خوب مظاہرہ کیا ہے۔
نامور بلوچ مؤرخ اور ادیب گل خان نصیر بلوچوں کے حسب نسب پر گفتگو کرنے کے بعد لکھتے ہیں ”بلوچ زمانہ قدیم سے آج تک ایشیا میں ایک خانہ بدوش قوم چلی آتی ہے اور شاید جیسا کہ بعض مؤرخین کا خیال ہے بلوچ کی وجہ تسمیہ بھی خانہ بدوش اور بادیہ نشین ہی ہے، یہ قوم زمانہ قدیم میں عربستان میں دجلہ و فرات کی گودیوں اور حلب کے مرغزاروں البرز کے دامن میں مشہد تک پھیلی ہوئی ہوتیں تھیں، مال مویشی پالنا اور گردونواح کے زرخیز و شاداب علاقوں، آبادیوں اور شہروں کو لوٹنا ان کا مرغوب پیشہ تھا۔
میر گل خان نصیر صاحب اپنی تالیف ”تاریخ بلوچستان“ میں تاریخی شواہد اور حقائق کی عدم موجودگی کے بارے میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ”بلوچستان اور بالخصوص بلوچ قوم کی صحیح تاریخ پیش کرنے کے لئے جن تاریخی شواہد اور داخلی مواد کی ضرورت ہے، ان کا بلوچستان میں سرے سے وجود ہی نہیں، ہمارے قومی اور ملی آثار جن سے اس سلسلے میں خاطرخواہ مدد مل سکتی ہے، نہ ہونے کے برابر ہیں اور یہ ایک نہایت ہی افسوس ناک اور حوصلہ شکن حقیقت ہے کہ ایک طویل کد و کاوش و تجسس و جستجو کے باوجود مجھے اب تک کوئی ایسی تاریخ نہیں ملی جو کسی بلوچستانی یا بلوچ کی لکھی ہوئی ہو، کوئی ایسا تاریخی مواد دستیاب نہیں جس کی صحت پر شک نہ کیا جا سکے۔
میر خدا بخش بجارانی مری بلوچ اپنی تصنیف ”ازمنہ بلوچ تاریخ و روایات“ میں تحریر کرتے ہیں کہ مشہور فارسی لغت برہان قاطع میں لفظ بلوچ کے معنی اسی طرح درج ہیں ”بلوچ اس قوم کا نام ہے جو کرمان کے نواح میں آباد ہیں، یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ حجاز سے آئے ہیں اور ان کا پیشہ جنگ و جدل اور خون بہانا ہے، فرہنگ سروری میں تحریر ہے کہ بلوچ وہ لوگ ہیں جو ریگستانوں میں رہتے ہیں اور قافلوں کی لوٹ مار کرتے ہیں، ان میں بیشتر اچھے جنگجو اور لڑاکے ہیں، یہ لوگ کوچ اور بلوچ کے نام سے بھی موسوم ہیں۔
ملک صالح محمد خان لہڑی اپنی تصنیف ”بلوچستان ( ون یونٹ سے پہلے )“ میں تحریر کرتے ہیں ”بلوچ لفظ کی وجہ تسمیہ مختلف مؤرخین نے مختلف انداز میں بیان کی ہے، بعض نے اس لفظ کو کوچ سے تعبیر کیا ہے، اس لئے یہ قوم ہر وقت ایک جگہ سے دوسری جگہ کوچ کر کے خانہ بدوش بنی رہی، مگر یہ خیال درست معلوم نہیں ہوتا کیونکہ بلوچ اور کوچ ایسے دو الفاظ ہیں جن کے مصادر کو ایک دوسرے سے کچھ لگاؤ نہیں، خصوصاً زبان حلب میں بلوچ بادیہ نشین لوگوں کو کہتے ہیں اور لفظ کوچ فارسی میں روانگی اور رحلت کے معنوں میں آتا ہے، مؤخر الذکر استدلال بادیہ نشینی کی صورت میں اس لئے بھی کسی حد تک صحیح معلوم ہوتا ہے کہ بادیہ نشینی بلوچوں کی جبلت میں شامل ہے۔


