کیا دیکھا، اپنے دل کی چیر پھاڑ کے دوران؟


چھوٹا بیٹا خاموش کھڑا جیسے الوداع کہتا ہو۔ اُسے یوں دیکھ کر بھی میرے اندر کچھ اُتھل پتھل نہ ہوئی۔ اگلے چند لمحے مجھے کسی اور دنیا میں لے جانے کے لیے تیار کھڑے تھے۔ کون سی دنیا؟ جو زندگی سے جڑا ہر ناتا ختم کر سکتی ہے۔ اُسے از سر نو جوڑنے پر بھی قادر ہے۔

پھر معلوم ہی نہیں ہوا کہ کب میں کسی انوکھے جہاں میں گم ہو چکی تھی۔ ایک عجیب سی طلسمی دنیا جو رنگوں سے بھری ہوئی تھی۔ جہاں مجھے احساس ہو رہا تھا کہ میں پاتال میں گری پڑی ہوں۔ جیسے میری موت ہو گئی ہے۔ میرے اوپر کہیں انسانوں کی وہ دنیا ہے جہاں میرے بچے رو رہے ہیں۔ میں ان کی آہ و بکا کی آوازیں سن رہی ہوں۔ کچھ دیر بعد مجھے احساس ہوتا ہے جیسے میں قبر میں لیٹی ہوئی ہوں۔ مگر پھر میں خود سے پوچھتی ہوں؟ اگر یہ قبر ہے تو مٹی کہاں ہے؟

میرے ارد گرد یہ رنگ کیسے ہیں؟ یہ خوبصورت منقش گھڑے اور گھڑونچیاں کیسی ہیں؟ یہ کون سی دنیا ہے؟ پھر جیسے شور سا اٹھتا ہے حساب کتاب ہونے والا ہے۔ مجھے اپنے اندر ایک خوف اور اضطراب سا واضح طور پر محسوس ہوتا ہے۔ پھر جیسے کاغذوں کی پھڑپھڑاہٹ بڑی واضح سنائی دیتی ہے۔ اف میزان کا مرحلہ ہے۔

بلال رشید کا کالم یاد آتا ہے۔ جس میں نیکی اور بدی کے پلڑوں کے اوپر نیچے ہونے کی کہانی تھی۔ تو میرے پاس بھی کوئی ایسی نیکی ہے جو میرے ہلکے پلڑے کو بھاری کر دے۔ پھر جیسے میں والہانہ انداز میں اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے خود سے پو چھتی ہوں۔ خدا کہاں ہے؟ کیا وہ مجھے نظر آئے گا۔ ہاں مجھے تو یہاں اس کا دربار بھی دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

پھر کچھ شور سا سنائی دیتا ہے۔ ٹک ٹک کی آواز لگاتار آ رہی ہے۔ ”گولی گولی“ جیسے لفظ کی تکرار شروع ہے اور مسلسل ہوئے جا رہی ہے۔ کوئی کہتا ہے اتنی دیر ہو گئی ہے ابھی تک نہیں آئی۔ لاہور سے لینے گیا ہے۔

پھر جیسے ایک اور آواز سنائی دیتی ہے۔ فرشتے حساب کتاب کرنے آئے ہیں۔ سوال جواب ہوں گے۔ مجھے محسوس ہوا جیسے دو آنکھیں میرے اوپر چپکی ہوئی ہیں۔ میرے پاؤں کی جانب سے سفید پتلیوں والی عجیب سی آنکھیں۔ مسلسل تکرار ہو رہی ہے۔ آنکھیں کھولیں، آنکھیں کھولیں۔ بمشکل میں نے انہیں کھولا کسی نے ہاتھ لہرایا۔ مجھے دیکھ رہی ہیں؟ پوچھا گیا۔

یہ ذرا ذرا سی غنودگی نما ہوش میں آنے والے مرحلے کتنے تھے؟ کچھ اندازہ نہ تھا۔ یہ رات ہے تو کون سا پہر ہے۔ اگر صبح ہے تو وقت کیا ہے؟ بار بار کی تکرار میں تیزی جیسے جنجھوڑ سی رہی تھی۔ ہوش اور بے ہوشی کے مرحلوں میں پھر ان آوازوں کی تکرار تھی۔ ”ڈاکٹر کا راؤنڈ ہونا ہے۔“ کانپتے ہاتھوں اور مندی آنکھوں کے ساتھ برش کروانے، منہ دھلانے اور کنگھی پٹی کے سب مرحلے طے کروا دیے گئے۔ آنکھوں کے سامنے ابھی بھی غبار کے بادل سے تھے۔

چائے پلانے اور بسکٹ بھی کھلانے کے لیے نرسیں مستعد تھیں۔ پوری ٹیم کے ساتھ یہ راؤنڈ مریض کے حال احوال کی پُرشس کے ساتھ جب آگے بڑھ گیا تو مجھے ہوش آیا کہ جن کیفیات میں سے گزر کر میں اس صبح کا سامنا کر رہی تھیں۔ وہ دماغ میں کھلبلی مچائے ہوئے ہیں۔ کیا یہ کوئی ماورائی منظر تھا جس کا سامنا میں نے کیا یا یہ محض دواؤں اور میرے الٹے پلٹے احساسات کا عکس تھے۔

ڈاکٹر سامنے والے مریض کو دیکھنے کے بعد جب مڑا، میرے بازو نے زور و شور سے لہرا کر ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کی۔ فوراً نوٹس لیا گیا اور پوری ٹیم میرے بیڈ کے ارد گرد اکٹھی ہو گئی۔ اب جو سوال ذہن میں شور مچا رہا تھا اُسے دہرایا۔ بہت تحمل، بہت بردباری سے ڈاکٹر نے پوری توجہ سے سن کر کہا ”نہیں یہ ملے جلے سے آپ کے خیالات، آپ کے احساسات اور آپ کی سوچیں ہو سکتی ہیں۔ کچھ ان میں دواؤں کے اثرات بھی ممکن ہیں۔ پھر ڈاکٹر نے ہنستے ہوئے کہا۔ بہرحال آپ زندہ ہیں اور آپ کا آپریشن ٹھیک ہوا ہے۔“

یہ دوسرا دن تھا جو کہیں ہوش اور کہیں بے ہوشی کے درمیان ایک عجیب سے انداز میں گزرا جہاں آنٹی آنٹی میں فریحہ بول رہی ہوں، میں عنبر ہوں، میں سعدیہ ہوں۔ میں نبیہ ہوں جیسی آوازیں سنتی اپنے پیارے بھتیجوں اسامہ، اویس، عرفان اور زبیر کو دیکھتی۔ سگے رشتوں سے بڑھ کر ممیرے، پھوپھیرے بھائیوں کی جھلکیاں دیکھتی۔ لڑکیوں نے وقفے وقفے سے مجھے کھلانے پلانے کی کوششیں کیں اور اس میں کامیاب بھی ہوئیں۔ ساگودانہ، یخنی اور چائے تھوڑی بہت میرے اندر ضرور گئی۔

دفعتاً کسی نے میرے پاؤں کو چھوا۔ ”کمال ہے پاؤں کتنے ٹھنڈے ہیں؟ میرے کمرے سے کمبل لاکر اوپر ڈالو۔ یہ ڈاکٹر سارہ تھیں۔ ہنستی مسکراتی آپ پر جھکتی حال پوچھتیں۔“

اگلی صبح وہی کنگھی پٹی، منہ دھلائی اور ناشتہ۔ ان تینوں کاموں سے فارغ ہو کر ایک نئی ایکٹیویٹی کا آغاز ہوا۔ میرے ہاتھوں میں پلاسٹک کی تین گیندوں والی Spirometer پکڑا دی گئی تھی۔ یہ میڈیکل ڈیوائس ہے جو پھیپھڑوں کو کھولنے کے عمل میں مدد کرتی ہے۔ طریقہ کار سمجھایا گیا۔

پہلے مرحلے میں سانس کو اندر کھینچ کر ان گیندوں کو اوپر لے جانا ہے۔ بار بار اس عمل کی دہرائی۔ سانس پھر باہر پھینکنا ہے۔ میرے ہاتھوں میں وہ Spirometer پکڑا کر وہ مانیٹرنگ مشین کے سامنے چلی گئیں۔ اب تین گیندوں میں سے دو کو تو میں نے پورے جوش و خروش سے بار بار اوپر لے جاکر نیچے گرانے کا عمل ایک ہی ہلّے میں کر دکھایا۔ دوسرا مرحلہ بھی حسن و خوبی سے سر انجام دے دیا۔ اسی 80 سالہ بوڑھی عورت نے میدان مار لیا تھا۔ دونوں نرسوں نے انگوٹھے لہرا لہرا کر خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ والے چند نوجوانوں بارے بھی بتایا کہ بیچاروں سے سانس نہ اندر کھینچ رہا ہے نہ باہر۔

” ارے میری بچی یہ تو ہم غریبڑے لوگوں کے بچپن کے تحفے ہیں۔ ہمارے چولہوں میں جلنے والی لکڑی اور اپلوں کی آگ جسے پھونکیں مار مار کر دہکاتے دہکاتے چولہے کے آگے پڑی نیم گرم راکھ سے ہم اپنا منہ سر بھی لتیھڑ لیا کرتے تھے۔ دھویں سے آنکھیں لالوں لال ہو جاتیں۔ یہی پھکنی کبھی کبھی اماں کے غیظ و غضب کا نشانہ بن کر ہڈیوں کی سینکائی بھی کر دیا کرتی تھی۔ تو آج اُس مشقت نے اپنا حق ادا کر دیا۔ ہاں میری بچی بیچارے ان گیسوں کے پروردہ لوگوں کو کیا دوش دیتی ہو اور ہمیں کیا سراہتی ہو۔“ ؟

جاری ہے۔ ۔

Facebook Comments HS

One thought on “کیا دیکھا، اپنے دل کی چیر پھاڑ کے دوران؟

  • 22/01/2025 at 1:51 شام
    Permalink

    خوبصورت اور بھیگی ہوئی تحریر محبتوں کے رچاؤ سے سجی محترمہ سلمیٰ اعوان کی پر عزم شخصیت کی آئینہ تحریر۔

Comments are closed.