ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس لَوٹنے کے بعد


گزشتہ کئی مہینوں سے امریکہ میں پاکستان چھوڑ کر مقیم ہوئے ہم سے کہیں زیادہ ذہین و فطین افراد ہمیں بتائے چلے جا رہے تھے کہ بالآخر اس ملک کے عوام مسلم اْمہ کے ایک خیر خواہ کو اپنا صدر منتخب کرنے جا رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ سے مسلم دوستی کی امید باندھتے ہوئے امریکہ میں مقیم عاشقان عمران اس امر پر بھی مصر رہے کہ اپنے عہدے کا حلف اٹھانے یا اس دن سے کئی ہفتے قبل ہی نو منتخب امریکی صدر کوئی ایسا ٹویٹ لکھ دیں گے جو حکومت پاکستان پر ”مسلم اْمہ کے یک و تنہا لیڈر“ کی جیل سے رہائی کے لئے دباؤ بڑھائے گا۔ مذکورہ تناظر میں اس تاثر کو بھی فروغ دیا گیا کہ غالباً ٹرمپ کی جانب سے متوقع دباؤ سے گھبرا کر ریاستِ پاکستان کے دائمی اداروں نے شہباز حکومت کو تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھا دیا ہے۔ بانی تحریک انصاف اگرچہ بقول ان کے ”اردلی“ سے نہیں بلکہ وطن عزیز میں طاقت کا اصل سرچشمہ تصور ہوتے ادارے سے براہ راست گفتگو کے خواہاں تھے۔ ان کی یہ خواہش بھی ایک حوالے سے پوری کردی گئی۔ تحریک انصاف کے بانی کی ایک عدالتی فیصلے کی وجہ سے ”نا اہلی“ کے بعد مذکورہ جماعت کے وقتی چیئرمین ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان صاحب کی پشاور میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر میں اضافے پر غور کرنے کے لئے ہوئی ایک کانفرنس کے بعد آرمی چیف سے ہیلو ہائے کروا دی گئی۔ گزشتہ جمعرات کے دن ہوئی ہیلو ہائے کے باوجود جمعہ کے دن عمران خان اور ان کی اہلیہ کو مشہور زمانہ القادر ٹرسٹ کیس میں سنگین سزائیں سنا دی گئی ہیں۔ مجھے خبر نہیں کہ ان سزاؤں کا اعلان ہونے کے باوجود تحریک انصاف حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے کو کار بے سود سمجھتی ہے یا نہیں۔

اصل موضوع آج کے کالم کا ویسے بھی نو منتخب صدر امریکہ کی تقریب حلف برداری ہے۔ پاکستانی وقت کے مطابق پیر کی شب دس بجے کے قریب اس تقریب کا انعقاد ہونا تھا۔ سی این این وغیرہ مگر رات نو بجے ہی سے حلف برداری کی تقریب کے حوالے سے براہ راست نشریات دکھانا شروع ہو گئے۔ میں نے اپنی بینائی کے تحفظ کے لئے ماہر طبیبوں کی ہدایات کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے اسے رضائی میں دبک کر دیکھنا شروع کر دیا۔

امریکی صدر کی حلف برداری کی تقریب کے حوالے سے کئی دہائیوں سے وہاں مختلف مذاہب اور مسیحی فرقوں کے دینی رہ نما بھی دعائیہ کلمات ادا کرتے ہیں۔ مجھے امید تھی کہ اب کی بار ”مسلمانوں کے خیرخواہ“ اور عمران خان کے دوست تصور ہوئے ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں کسی مسلمان عالم کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ تقریب حلف برداری کا دعوت نامہ چھپ کر برسرعام آیا تو اس میں دعائیہ کلمات ادا کرنے والوں میں ایک مسلم عالم کا نام بھی شامل تھا۔ میں نے خود کو درست اندازہ لگانے پر شاباش دی۔ تقریب حلف برداری کے دوران مگر مختلف مسیحی عقائد کے نمائندوں کے بعد فقط ایک یہودی عالم کو دعائیہ کلمات ادا کرنے کے لئے ڈائس پر بلایا گیا۔ مسلمانوں کو گویا ٹرمپ کے لئے دعائیہ کلمات ادا کرنے کی سہولت بھی فراہم نہ ہوئی۔

یہودی عالم نے ”دعائیہ کلمات“ ادا کرتے ہوئے ٹرمپ کی تقریب حلف برداری کے دن کو اپنے ہم مذہبوں کے لئے ”سعد“ دن قرار دیا کیونکہ اسی روز حماس نے اسرائیل کے مغوی رہا کیے ہیں۔ اس کی وجہ سے یہ امید اجاگر ہوئی کہ اسرائیل اور حماس جلد ہی امن کے لئے مذاکرات شروع کر دیں گے۔ یہودی عالم نے اغوا ہوئے افراد کی رہائی کا ذکر کیا۔ مذکورہ رہائی کو ٹرمپ کی حلف برداری کے دن سے نتھی کیا تو اْس کی پیش کردہ توجیہہ کو سراہنے کے لئے کملا ہیرس اور جو بائیڈن اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر تالیاں بجانا شروع ہو گئے۔ یہ واحد موقع تھا جب ٹرمپ کے بدترین مخالف کملا اور بائیڈن نے کھلے دل سے اس تقریب کے کسی مرحلے پر بھرپور خوشی کا اظہار کیا۔

قصہ مختصر امریکی اشرافیہ کے کسی بھی رکن کے لئے اسرائیل اب بھی اہم ترین ہے۔ مسلمان اور ان کی خوش دلی کا حصول امریکہ کے طاقتور ترین حلقوں کی توجہ کے مستحق تصور نہیں ہوتے۔ حیرت ہوتی ہے کہ امریکہ میں کئی برس گزارنے کے بعد بہت ہی خوش حال ہوئے عاشقان عمران مجھ جیسے جاہلوں کو ٹرمپ کے حوالے سے یہ امید دلاتے رہے کہ وہ بائیڈن کے مقابلے میں اسرائیل کے تناظر میں ”مسلمان دوست“ ہے۔ اسرائیل کو غزہ میں وحشت ناک جارحیت سے روکے گا۔

امریکہ کا صدر منتخب ہوتے ہی ٹرمپ نے حماس کو تڑی لگائی کہ وہ اپنی قید میں رکھے اسرائیلی شہریوں کو جلد از جلد رہا کرے۔ اس مطالبے کے بعد اس نے ”ورنہ“ کا دہشت ڈالتا لفظ بھی استعمال کیا۔ حماس اس کے بیان کے بعد چند مغوی چھوڑنے کو آمادہ ہو گئی۔ اس کے بدلے حماس کے قیدی بہت بڑے تناسب کے ساتھ رہا ہوں گے۔ جنگ بندی بھی ہو جائے گی۔ اس کے بعد مگر حماس کو غزہ کی پٹی میں بے اثر بنانے کے لئے اسرائیل جو بھی حکمت عملی اپنائے گا امریکی صدر ٹرمپ اس کی بھرپور حمایت کرے گا۔ جان کی امان پاتے ہوئے مجھے یہ کہنے کی اجازت بھی دیں کہ چند طاقتور مسلم ممالک بھی اس ضمن میں امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دیں گے۔

میری جوانی میں یاسر عرفات اور ان کی پی ایل او فلسطینیوں کے واحد اور طاقت ور ترین رہ نما بن کر ابھری تھی۔ ابھی میں سکول کا طالب علم تھا تو 1967 ء کی جنگ میں اردن کے زیر نگین فلسطینی علاقوں پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا۔ مسجد اقصیٰ بھی اس کے تسلط میں چلی گئی۔ فلسطینیوں کا ساتھ دینے کے بجائے اردن نے فلسطینیوں کو اپنے ہاں آباد فلسطینیوں کو یاسر عرفات سمیت لبنان دھکیل دیا۔ 1980 ء کی دہائی میں پی ایل او کو لبنان سے نکل کر تیونس جانے کو مجبور کر دیا گیا۔ اس کے بعد یاسر عرفات اسرائیل کے ساتھ امریکہ کے کیمپ ڈیوڈ میں سمجھوتے کو مجبور ہوئے۔ میرے منہ میں خاک۔ نجانے مجھے کیوں یہ خیال ستائے چلا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس لوٹنے کے بعد حماس کو بھی اسی طرح بے دست و پا بنانے کی کوششیں شروع ہوجائیں گی جو یاسر عرفات کی بنائی پی ایل او کو مفلوج تر بنانے کے لئے استعمال ہوئی تھیں۔

Facebook Comments HS