بیس روپے میں جنت کا ٹکٹ
چارہ کتنے کا ہے؟
بے ہنگم ٹریفک کے بیچوں بیچ چوک پر سینکڑوں کبوتروں کے درمیان منہ کھلی بوریاں رکھے شخص سے میں نے پوچھا۔
چارہ نہیں دانہ ہے۔ مکس ڈھائی سو روپے اور دال ساڑھے تین سو روپے کلو۔ دو کلو تول دوں؟
کم سے کم کتنے کا ہو گا؟
تمہاری مرضی ہے حاجی صاحب۔ سو پچاس میں جان مال کا صدقہ نکل جائے گا۔ لوگ تو بیس روپے میں بھی جنت کا ٹکٹ کٹا لیتے ہیں!
یہ گفتگو چل رہی تھی کہ ایک نوجوان لڑکی کہیں سے آئی اور اس نے پلاسٹک کی تھیلی میں موجود پلاؤ اور زردے کا آمیزہ چوراہے پر پھیلا دیا۔ گرد آلودہ کراچی کے باسیوں میں پچھلے چند برسوں سے جنگلی پرندوں کو کھانا کھلانے کا شوق ایک جنون کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ آسانی سے ملے طعام کو حلق تک ٹھونس کر یہ سخت جان اور ماحول دشمن کبوتر آس پاس بنی کثیر المنزلہ عمارتوں میں قیام کرتے ہیں۔ نر کبوتروں کا اپنی ہم قوم ماداؤں سے کھلے عام فلرٹ کرنا اور باہمی رضامندی سے وظیفۂ زوجیت ادا کرنا ایک عام منظر ہے۔
شہر میں دن کی ابتداء لاکھوں کووں اور چیلوں کے نحوست زدہ اور ناخوشگوار شور سے ہوتی ہے جبکہ شام ڈھلے فلیٹوں کی بند کھڑکیوں کے باہر اور ائر کنڈیشنر کے پائپوں سے کبوتروں کی پھڑپھڑاہٹ، غٹرغوں، نو عمر بچوں (پٹھوں ) کی چِیں چِیں کان کے پردوں کو زخمی کرتی ہے۔ یہاں کا شہری جس کا محبوب مشغلہ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، ٹریفک جام اور سٹریٹ کرائم پر حکمرانوں کو کوستے رہنا ہے اس نے ان فضائی آفات کو چارہ ڈال کر مدعو کیا ہے۔
حیاتیاتی تنوع
کراچی کے میونسپل کمشنر سید افضل زیدی ماحولیاتی مسائل پر کافی گرفت رکھتے ہیں ان سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وہ فرماتے ہیں کہ
”ہم لوگ سمجھتے ہیں کہ انسان زمین پر خدا کا نائب یا خلیفہ ہے لیکن ہماری کارروائیوں کے نتیجے میں ساکنان ارض کے ساتھ ساتھ دھرتی کا وجود اور بقا خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
ایک چیز ہوتی ہے حیاتیاتی تنوع یا بائیو ڈائی ورسٹی جو فطری طور پر جانداروں کے مابین ایک توازن برقرار رکھتی تھی۔ حضرتِ انسان نے کچھ ایسا کیا کہ اب دنیا کے تمام جانوروں کا پچانوے فیصد خود انسان اور اس کے اپنے پالتو اور فارم زدہ جانوروں پر مشتمل ہے۔ جبکہ قدرتی اور جنگلی حیات سکڑتی جا رہی ہے۔
جانوروں سے ہمدردی رچاتے اور حاتم طائی کا جاں نشین بنتے ہوئے پرندوں کو بے حد و حساب خوراک فراہم کرنے سے اس شہر میں حیاتیاتی تنوع بگڑ گیا ہے۔ شہر سے چڑیوں کی چہچہاہٹ، طوطوں کے جھنڈ، بلبل کے جوڑے، کوئل کی کوک اور رات گئے اُلو کی ہُو ہُو عرصہ ہوا روٹھ گئے ہیں۔ درختوں کی کٹائی، مستقل تعمیرات، چوبیس گھنٹے کھلی روشنیوں، مسلسل چلتے ٹریفک اور ائر کنڈیشن سے ہونے والا حیوانی نقصان اس کے علاوہ ہے۔ جگہ جگہ کبوتر چوک بن گئے ہیں۔ ابھی آپ نیٹی جیٹی کے پل پر جائیں تو پھیری والوں سے خرید کر چیل کووں کی نذر ہونے والے گوشت کی مقدار اور ان پر جھپٹتے پرندے دیکھ کر آپ کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
چوہے کئی ہزار سال تک طاعون اور کروڑہا اموات کا سبب بنے۔ جنگلی کبوتر دراصل ایک چوہا ہے جو اڑ سکتا ہے۔ لندن، نیویارک سمیت صفِ اول کے کئی شہروں میں انہیں دانہ ڈالنے کی سختی سے ممانعت ہے۔ یہی آسان ترین طریقہ ہے ان کی تعداد محدود کرنے اور حیاتیاتی تنوع بحال کرنے کا۔ ”
اڑنے والے چوہے اور مہلک بیماریاں
عباسی شہید اسپتال میں سانس اور سینے کے امراض کے پروفیسر ڈاکٹر سلیم اللہ سے اس سلسلے میں رہنمائی کی درخواست کی۔ انہوں نے بتایا کہ کبوتر کی خشک بیٹ ملے گرد و غبار میں سانس لینے سے کرپٹو کوکسو سس اور ہسٹو پلازموسس نامی عوارض لاحق ہو جاتے ہیں۔ یہ دونوں بنیادی طور پر پھپوند ہیں جن کا آسان شکار کینسر زدہ، کیموتھراپی پانے والے افراد، اعضاء کی پیوند کاری والے مریض اور دیگر ایسے اشخاص بنتے ہیں جن کا مدافعتی نظام کمزور ہو۔
عمومی علامات تھکاوٹ، بخار، کھانسی، وزن کم ہونا، سردرد ہیں۔ یہ امراض جان لیوا ہوسکتے ہیں۔
کبوتر، بجری طوطے اور مینا سمیت مختلف پرندوں کے ننھے ننھے پر، خشک بیٹ اور تنفسی رطوبتیں سِٹاکوسس نامی خطرناک بیماری انسانوں میں منتقل کر سکتے ہیں جس میں شدید نمونیا اور دماغی بخار سمیت مدہوشی اور اموات رپورٹ کی جا چکی ہیں۔ یہ اتنا متعدی جرثومہ ہے کہ اسے حیاتیاتی ہتھیار اور حیاتیاتی دہشتگردی کے لئے استعمال کرنے کے امکانات پر ریسرچ کی جا چکی ہے۔
کبوتر اور کوے پانی اور غذا کو آلودہ کر کے سالمونیلا جیسی خطرناک اور وبائی بیماری منتقل کرتے ہیں جس کی علامات میں دست، بخار، تھرتھری اور بھوک ختم ہوجانا شامل ہیں۔
کبوتروں کی صحبت میں وقت گزارنے والوں کو پرندوں کے عشاق کی بیماری (برڈ فینسیئر ڈیزیز) یا کبوتر باز کی بیماری (پیجن بریڈرز ڈیزیز) بھی ہو سکتی ہے انجام میں پلمونری فائبروسس ہوجاتا ہے یعنی پھیپھڑے ناکارہ ہو جاتے ہیں، مریض ہر وقت ہانپتا رہتا ہے۔ چنانچہ بے کار اور بے روزگار ہوجاتا ہے۔ ہمارے ملک میں سرکاری سطح پر اعداد و شمار جمع کرنے اور رجسٹری بنانے کا رواج نہیں لیکن لگتا ہے کہ پلمونری فائبروسس کے مریض بہت بڑھ گئے ہیں۔ یہ اتنا شدید اور موذی مرض ہے جس کا علاج صرف پھیپھڑوں کی پیوند کاری ہے۔
یہ تمام پرندے جلدی بیماریاں بھی پیدا کرتے ہیں جن کا علاج بہت مہنگا ہوتا ہے۔
ہم نے ڈاکٹر سلیم اللہ صاحب سے استدعا کی کہ وہ پاکستان چیسٹ سوسائٹی کے پلیٹ فارم سے اس بابت عوامی آگہی کی تحریک چلائیں اور جگہ جگہ بنے کبوتروں کے ٹھکانوں کے خاتمے کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کرائیں۔


thanx, a too good eye opener